بکر بن وائل قبیلہ عدنان کی ایک بڑی شاخ تھی جو بحرین، یمامہ اور عراق کے اطراف میں آباد تھا۔ 1 رسول اللہ ﷺ نے اس قبیلے کی طرف اپنا مکتوب ارسال فرمایا، 2 جس کی وجہ سے ان کا وفد مدینہ منوّرہ پہنچا اور آپﷺ کی صحبتِ با برکت سے مستفید ہوا۔ غالب گمان کے مطابق یہ قبیلہ بھی اُن قبائلی وفود میں شامل تھا جو سن 9 ہجری عامُ الوفود میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے کیونکہ یہی وہ سال تھا جس میں سب سے زیادہ قبائل نے رسول اللہﷺ کی طرف رجوع کیا اور آپﷺ سے فیضیاب ہوئے۔ 3
صلح حدیبیہ کے بعد نبی کریم ﷺ نے مختلف اقوام میں خط و کتابت کے ذریعے اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا۔ 4 روایات کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے بکر بن وائل کے نام بھی خط بھیجا، جس میں انہیں اسلام کی دعوت دی گئی۔ آپﷺ نے نہایت سادہ اور سلیس زبان میں اُن کو اِن الفاظ کے ساتھ اسلام کی دعوت دی :
"من رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إلى بكر بن وائل، أسلموا تسلموا" 5
اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے بکر بن وائل کی طرف(پیغام)، اسلام لے آؤ اور سلامتی کے ساتھ رہو۔
یہ مکتوب بکر بن وائل قبیلہ تک ظبيان بن مرثد السدوسی
لے کر گئے۔ 6 جب یہ خط ان کو موصول ہوا تو ابتداء وہ اس خط کو پڑھ نہ سکے کیونکہ ان کے قبیلے میں کوئی پڑھا لکھا شخص نہیں تھا، پھر بنی ضُبیعہ کے ایک شخص نے انہیں یہ خط پڑھ کر سنایا جو بعد میں ”بنی الکاتب“ یعنی لکھنے والے کی اولادکے لقب سے مشہور ہوا۔ 7
اس خط كے موصول ہونے کے بعد بنی بکر کی طرف سے ایک وفد ترتیب دیا گیا جو نبی کریم ﷺ سے ملاقات کرنے کے لئے مدینہ منوّرۃ کی طرف روانہ ہوا۔ اس وفد میں بشير بن الخصاصیہ، عبداللہ بن مرثد اور حسان بن حوط شامل تھے۔8 جب اس وفد کی ملاقات نبی کریم ﷺ سے ہوئی تو ان کے مابین درج ذیل مکالمہ ہوا:
هل تعرف قس بن ساعدة؟ فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ليس هو منكم هذا رجل من أياد تحنف في الجاهلية فوافى عكاظ والناس مجتمعون فيكلمهم بكلامه الذي حفظ عنه... 9
کیا آپ قس بن ساعدہ کو جانتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ تم میں سے نہیں تھا، بلکہ وہ قبیلۂ ایاد کا ایک شخص تھا۔ اس نے زمانۂ جاہلیت میں دین حنیف اختیار كیا تها (یعنی شرک سے کنارہ کش ہو کر توحید کی طرف مائل ہو گیا تھا)۔ وہ عُکاظ کے بازار میں آتا تھا، جب لوگ وہاں جمع ہوتے تھے، تو وہ انہیں اپنا وہ کلام سنایا کرتا تھا جو بعد میں محفوظ رہا اور روایت کیا گیا۔
جس طرح نبی کریم ﷺ دیگر وفود کا اکرام فرمایا کرتے تھے، اسی طرح اس وفد کا بھی آپﷺ نے اکرام فرمایا۔عبد اللہ بن اسود جو اس وفد کا حصہ تھے،اصلاً یمامہ میں مقیم تھے لیکن انہوں نے یمامہ میں اپنی تمام جائیداد فروخت کر دی اور ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ وہ اپنے ساتھ کھجوروں کی ایک بوری بھی تحفہ کے طور پر لے کر آئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے برکت کی دعا بھی فرمائی۔ 10
وفد کی آمد کے بعد بکر بن وائل کی شاخوں میں اسلام پھیلا۔ بعد میں فتنۂ ارتداد کے زمانے میں عدنان اور بکر کی بعض شاخوں میں اضطراب پیدا ہوا، تاہم مجموعی طور پر یہ قبیلہ اسلامی ریاست کے ساتھ وابستہ رہا اور دشمنانِ اسلام کی اسلام کے خلاف عمومی سازشوں سے دور رہا۔