علمائے انساب کے نزدیک حضرت نوح
کا پورا نسب نامہ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ(ادریس ) بن یرد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم
ہے۔ 1 یہ نسب نامہ درحقیقت تورات سفرِپیدائش سے ماخوذ ہے۔ 2 بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ آپ
کا نام سُکن تھا۔ 3 جبکہ تورات میں ہے کہ آپ کے والد (لامک) نے آپ
کانا م نوح رکھا تھا۔ 4حضرت آدم
اور حضرت نوح
کے درمیان دس قرون کا عرصہ ہے۔ 5 اور قرن سے مراد یا تو 100 سال ہے جیسا کہ مشہور ہے، یا اس سے مراد لوگوں کی ایک نسل ہے۔ 6 حضرت نوح
اولو العزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ 7 اللہ تعالیٰ نے آپ
کوبعد از ادریس نبوت کے لیے منتخب فرمایا۔ 8
حضرت نوح
کی بعثت سے پہلے تمام قوم خدا کی توحید اور صحیح مذہبی روشنی سے یکسر ناآشنا ہوچکی تھی اور حقیقی خدا کی جگہ خود ساختہ بتوں نے لے لی تھی، غیر اللہ کی پرستش اور اصنام پرستی ان کا شعار تھا۔ آخر سنت الٰہی کے مطابق ان کی رشدوہدایت کے لیے بھی ان ہی میں سے ایک ہادی اور خدا کے سچے رسول نوح کو مبعوث کیا گیا۔ 9 آپ
الله كے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالی نے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔10 بعثت کے وقت آپ
کی عمر 50 سال تھی۔11 عبد اللہ بن عباس
کی ایک روایت کے مطابق بعثت کے وقت آپ
کی عمر350سال، اور دوسری روایت کے مطابق 480 سال تھی۔ 12 قرآن و سنت کے دلائل سے یہ بات تو ثابت ہے کہ آپ
کو نبوت عطا کی گئی، لیکن آپ
کی عمر مبارک کے حوالے سے صراحت موجود نہیں۔
حضرت نوح
نے اپنی قوم کو راہ حق کی طرف پکارا اور توحید کی دعوت دی، لیکن قوم نے آپ
کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا، اور نفرت وحقارت کے ساتھ اپنے اس رویے پر مصر رہے، بالخصوص امراء اور رؤسائے قوم نے ان کی تکذیب وتحقیر کا کوئی پہلو نہ چھوڑا، اورجب جب انہیں موقع ملتا تو یہ رؤساء وامراء آپ
کی تذلیل وتوہین کرتے رہے۔ حضرت نوح
کی قوم میں کئی غریب او رکمزور افراد نے آپ
کی دعوت کو قبول کیا لیکن طاقتور طبقہ کے لوگ جب آپ
کے متبعین میں ان مالی ومعاشی طور پر کمزور لوگوں کو دیکھتے تو مغرورانہ انداز میں حقارت سے کہتے:
... وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ 2713
...ہمیں تو تم ہمارے اپنے ہی جیسے ایک بشر دکھائی دیتے ہو اور ہم نے کسی (معزز شخص) کو تمہاری پیروی کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے ہمارے (معاشرے کے) سطحی رائے رکھنے والے پست و حقیر لوگوں کے (جو بے سوچے سمجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں)، اور ہم تمہارے اندر اپنے اوپر کوئی فضیلت و برتری (یعنی طاقت و اقتدار، مال و دولت یا تمہاری جماعت میں بڑے لوگوں کی شمولیت الغرض ایسا کوئی نمایاں پہلو) بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔
حضرت نوح
اپنی قوم کے مسلسل انکار پر مایوس نہیں ہوئے۔ آپ
انہیں رات دن دعوتِ حق دیتے رہے تاکہ اپنی قوم کو گمراہی سے نجات دلائیں اور آخرت کے عذاب سے بچا لیں لیکن یہ کافر قوم انکار پر اڑی رہی، اور اپنی ہٹ دھرمی میں یہ مطالبہ کرتی رہی کہ اگر آپ ان غریب اور نادار لوگوں سے کنارہ کر لیں تو ہم ایمان لے آئیں گے۔آخر کار حضرت نوح
نے ان سے فرمایا:
وَيَاقَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ 29 وَيَاقَوْمِ مَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ طَرَدْتُهُمْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ 30 وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنْفُسِهِمْ إِنِّي إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ 31 قَالُوا يَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ 32 قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شَاءَ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ 3314
اور اے میری قوم! میں تم سے اس (دعوت و تبلیغ) پر کوئی مال و دولت (بھی) طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور میں (تمہاری خاطر) ان (غریب اور پسماندہ) لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں دھتکارنے والا بھی نہیں ہوں (تم انہیں حقیر مت سمجھو یہی حقیقت میں معزز ہیں)۔ بیشک یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے بہرہ یاب ہونے والے ہیں اور میں تو درحقیقت تمہیں جاہل (و بے فہم) قوم دیکھ رہا ہوں۔ اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو اﷲ (کے غضب) سے (بچانے میں) میری مدد کون کر سکتا ہے، کیا تم غور نہیں کرتے۔ اور میں تم سے (یہ) نہیں کہتا کہ میرے پاس اﷲ کے خزانے ہیں (یعنی میں بے حد دولت مند ہوں) اور نہ (یہ کہ) میں (اﷲ کے بتائے بغیر) خود غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں (انسان نہیں) فرشتہ ہوں (میری دعوت کرشماتی دعوؤں پر مبنی نہیں ہے) اور نہ ان لوگوں کی نسبت جنہیں تمہاری نگاہیں حقیر جان رہی ہیں یہ کہتا ہوں کہ اﷲ انہیں ہرگز کوئی بھلائی نہ دے گا (یہ اﷲ کا امر اور ہر شخص کا نصیب ہے)، اﷲ بہتر جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر ایسا کہوں تو) بیشک میں اسی وقت ظالموں میں سے ہو جاؤں گا۔ وہ کہنے لگے: اے نوح! بیشک تم ہم سے جھگڑ چکے سو تم نے ہم سے بہت جھگڑا کر لیا، بس اب ہمارے پاس وہ (عذاب) لے آؤ جس کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو اگر تم (واقعی) سچے ہو۔ (نوحنے) کہا: وہ (عذاب) تو بس اﷲ ہی تم پر لائے گا اگر اس نے چاہا اور تم (اسے) عاجز نہیں کرسکتے۔
تکذیب اور سخت مخالفت کے باوجودبھی حضرت نوح
اپنی سرکش قوم کو حق اور توحید کی راہ پر بلاتے رہے۔ مگر ان کی قوم ضد اور عناد کی تاریکیوں میں اس قدر گم ہو چکی تھی کہ 950 برس کی مسلسل دعوت بھی ان کے دلوں کو نرم نہ کر سکی۔ وہ ہدایت کی روشنی سے منہ موڑتے رہے، اور حضرت نوح
کو جھٹلانے، تمسخر اڑانے اور ایذا پہنچانے سے بھی اس لمبے عرصے میں باز نہ آئے۔آخر کار حضرت نوح
نےان کی ہلاکت کی بد دعا فرمائی:
وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا 26 إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 2715
اور نوح () نے کہا: اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا باقی نہ چھوڑ۔بے شک اگر تو اُنہیں (زندہ) چھوڑے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتے رہیں گے، اور وہ بدکار (اور) سخت کافر اولاد کے سوا کسی کو جنم نہیں دیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح
کی دعا قبول فرمائی اور اپنی سنتِ الٰہیہ کے مطابق سرکش قوم کے لیے عذاب کا فیصلہ صادر کیا جو مسلسل انکارِ حق، تکبر اور استہزا میں مبتلا تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح
کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ وہ ایک کشتی تیار کریں، تاکہ جب اللہ کا عذاب نازل ہو تو مومنین اس میں محفوظ رہیں۔ یہ کشتی محض ایک مادی وسیلہ نہیں بلکہ ایمان، صبر اور یقینِ الٰہی کی علامت تھی۔ جب حضرت نوح
نے اللہ کے حکم کے مطابق کشتی کی تعمیر شروع کر دی تو کفار ان پر تمسخر کرنے لگے اور ان کے عمل کو بے معنی قرار دیتے رہےکیونکہ وہ عذابِ الٰہی کے امکان ہی کا انکار کررہے تھے۔ حضرت نوح
جانتے تھے کہ یہ دراصل اللہ کی طرف سے ایک علامتِ نجات ہے، اور وقت آنے پر یہی کشتی اہلِ ایمان کے لیے پناہ گاہ ثابت ہوگی۔بالآخر اللہ تعالی نے اس سرکش قوم پر طوفان کی صورت میں عذاب نازل کرنے کا حکم صادر کیا:
فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ 11 وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ 12 وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ 13 تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ 14 وَلَقَدْ تَرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ 1516
پھر ہم نے موسلادھار بارش کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دئیے۔اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کر دیئے، سو (زمین و آسمان کا) پانی ایک ہی کام کے لئے جمع ہو گیا جو (اُن کی ہلاکت کے لئے) پہلے سے مقرر ہو چکا تھا۔اور ہم نے اُن کو (یعنی نوحکو) تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر لیاجو ہماری نگاہوں کے سامنے (ہماری حفاظت میں) چلتی تھی، (یہ سب کچھ) اس (ایک) شخص (نوح ) کا بدلہ لینے کی خاطر تھا جس کا انکار کیا گیا تھا۔اور بیشک ہم نے اِس (طوفانِ نوح کے آثار) کو نشانی کے طور پر باقی رکھا تو کیا کوئی سوچنے (اور نصیحت قبول کرنے) والا ہے۔
کتب سماویہ میںتورات اور انجیل میں بھی حضرت نوح
کے احوال و اوصاف کا تفصیلی تذکرہ ملتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ
کی ذات مبارکہ تمام آسمانی کتابوں میں رشد وہدایت کی علامت ہے۔ ذیل میں کتاب مقدس میں موجود حضرت نوح
کی حیاتِ مبارکہ کے احوال پیش خدمت ہیں:
جب لامک 182 برس کا ہوا تب اس کے ہاں ایک بیٹا پیداہوا۔ اس نے اس کا نام نوح (علیہ السلام) رکھااور کہا کہ یہ ہمیں اپنے ہاتھوں کی محنت اور مشقت سے جو ہم اس زمین پر کرتے ہیں جسے خداوند نے ملعون قرار دیا، آرام دے گا۔17 نوح (علیہ السلام )لامک بن متوشلح بن حنوک بن یارد بن مہلل ایل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم (علیہم السلام) کا بیٹا تھا۔18 اور نوح علیہ السلام 500 برس کا تھا جب اس کے ہاں سام، حام اور یافث پیدا ہوئے۔1920 ایمان ہی سے نوح علیہ السلام نے ان باتوں کے بارے میں جو مستقبل میں پیش آنے والی تھیں، خدا کی طرف سے ہدایت پائی اور خدا ترسی کے باعث اس پر عمل کیا اور ایک کشتی بنائی جس میں اس کا سارا خاندان بچ نکلا۔ ایسا کرنے سے اس نے دنیا کو مجرم ٹھہرایا اور اس راستبازی کا وارث بنا جو ایمان سے حاصل ہوتی ہے۔ 21 جب نوح علیہ السلام کی عمر 600ویں برس کے دوسرے مہینے کی 17ویں تاریخ تھی، اس دن زمین کے نیچے سے سارے چشمے پھوٹ نکلے اورآسمان سے سیلاب کے دروازے کھل گئے۔ اور زمین پر 40 دن اور 40 رات لگاتا ر مینہ برستا رہا۔ 22 طوفان کے بعد نوح علیہ السلام 350 برس اور زندہ رہا۔ نوح علیہ السلام کی کل عمر 950 برس کی ہوئی اور تب اس نے وفات پائی۔ 23
حضرت نوح
کے اوصافِ حمیدہ کا ذکر قرآن، حدیث اور دیگر آسمانی کتابوں میں واضح طور پر ملتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے آپ
کی مدح میں آپ
کو" عبدا شکورا" یعنی بڑے شکر گزار بندے کے طور پر یاد فرمایاہے۔ 24 روایات میں آتا ہے کہ حضرت نوح
ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید بیان کرتے رہتے تھے، حتی کہ بیت الخلاء سے فارغ ہونے کے بعد اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔ 25 حضرت عبد اللہ بن عمر
رسول اللہ
سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نوح
ایّامِ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے علاوہ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے۔ 26 تورات کے مطابق، حضرت نوح
اللہ تعالیٰ کے نیک، راستباز اور مقبول بندے تھے۔چنانچہ سفر پیدائش میں ہےکہ نوح (
) خداوند کی نظر میں مقبول ہوا۔اورنوح (
) راستباز انسان تھا ،اور اپنے زمانے کے لوگوں میں بے عیب تھا، اور وہ خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔27 سفر حزقی ایل میں بھی حضرت نوح
کی راستبازی کا ذکر ملتا ہے ۔28 بائبل میں آپ
کی نبوت ورسالت کا صراحتاً ذکر نہیں ملتا سوائے اس کے کہ عبرانیوں کے نام خط میں پولس نے لکھا ہے ایمان ہی سے نوح (
)کو ان چیزوں کی خبر دی گئی جو ابھی دیکھی نہیں گئی تھیں۔ 29
وادیِ عسفان میںحقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح
اولو العزم پیغمبروں میں سے تھے۔ آپ
نےصبر واستقامت کے ساتھ اپنی قوم کو طویل عرصے تک توحید کی دعوت دی۔ آپ
ہمیشہ حق کے داعی اور ہمہ وقت احکام الہیہ پر عمل پیرا رہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس
بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم
حج کے دوران وادی عسفان سے گزرے تو حضرت ابو بکر صدیق
نے آپ
کے دریافت فرما نے پر عرض کیا کہ یہ وادی عسفان ہے۔ آپ
نے فرمایا: یہ وہ جگہ ہے جہاں سے حضرت نوح، ہود اور ابراہیم
اپنے سرخ اونٹوں پر گزرے جن کی مہاریں کھجور کی رسی کی تھیں اور ان کے جسموں پر طویل جبے تھے اور ان کی چادریں اُون کی بنی ہوئی تھیں، اور وہ بیتِ عتیق (بیت اللہ ) کا حج کرنے چلے تھے۔ 30
کی عمر اور وفاتتورات کے برخلاف جس میں حضرت نوح
کی کُل عمر 950 سال بتائی گئی ہے، 31 علماء اسلام کے نزدیک وہ 1450 سال تھی۔ 32 بعض علماء نے اس قول کو حضرت ابن عباس
کی طرف بھی منسوب کیا ہے کہ بعثت کے وقت آپ کی عمر 250 سال تھی، اور 950 سال آپ
نے اپنی قوم کو دعوتِ حق دی، اور طوفان کےبعد مزید آپ
250 سال زندہ رہے۔ 33 حضرت نوح
آخری عمر میں مکہ میں مقیم تھے اور وہیں وفات پائی۔ طبرانی کی ایک طویل حدیث میں رسول اللہ
فرماتے ہیں کہ جب بھی کسی نبی کو اپنی قوم کی طرف سے ایذا و تکلیف پہنچتی، تو وہ اپنی قوم سے کنارہ کش ہو کر بیت اللہ کی طرف رخ کرتے، وہاں عبادتِ الٰہی میں منہمک رہتے اور بالآخر وہیں ان کی زندگی کا اختتام ہوتا۔ 34 روایات میں آتا ہے کہ حضرت نوح
کی قبر زمزم اور مقام حجر کے درمیان واقع ہے۔35
حضرت نوح
کی حیاتِ مبارکہ کا یہ تذکرہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آپ
انسانی تاریخ کے ان اولو العزم انبیاء میں سے ہیں جنہوں نے نہایت صبر، استقامت اور اخلاص کے ساتھ اپنی قوم کو صدیوں تک توحید، ایمان اور اصلاحِ عمل کی دعوت دی۔ آپ
کی قوم نے تکبر، طبقاتی غرور، بت پرستی اور حق سے ضد کی بنا پر آپ
کی دعوت کو رد کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ عذاب کی صورت میں ظاہر ہوا اور اہلِ ایمان کو کشتی کے ذریعے نجات عطا فرمائی گئی۔ کتبِ سماویہ میں بھی آپ
کی راست بازی، خدا ترسی اور طوفانِ عظیم کے واقعہ کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دعوتِ حق کی راہ میں مخالفت، استہزا اور تکذیب کے باوجود ثابت قدمی ہی سنت نبوی ہے ، اور جو قوم حق کو مسلسل جھٹلاتی، ظلم و سرکشی پر اصرار کرتی اور اللہ کے رسل
کی تنبیہات کو نظر انداز کرتی ہے، وہ بالآخر سنتِ الٰہیہ کے مطابق اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔