encyclopedia

تعارفِ حضرت نوح علیہ السلام

Published on: 03-Jun-2026

علمائے انساب کے نزدیک حضرت نوح Alaihis Salam کا پورا نسب نامہ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ(ادریس ) بن یرد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم Alaihmus Salam ہے۔ 1 یہ نسب نامہ درحقیقت تورات سفرِپیدائش سے ماخوذ ہے۔ 2 بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ آپ Alaihis Salam کا نام سُکن تھا۔ 3 جبکہ تورات میں ہے کہ آپ کے والد (لامک) نے آپ Alaihis Salam کانا م نوح رکھا تھا۔ 4حضرت آدم Alaihis Salam اور حضرت نوح Alaihis Salam کے درمیان دس قرون کا عرصہ ہے۔ 5 اور قرن سے مراد یا تو 100 سال ہے جیسا کہ مشہور ہے، یا اس سے مراد لوگوں کی ایک نسل ہے۔ 6 حضرت نوح Alaihis Salam اولو العزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ 7 اللہ تعالیٰ نے آپ Alaihis Salam کوبعد از ادریس نبوت کے لیے منتخب فرمایا۔ 8

قوم ِنوح کے حالات

حضرت نوح Alaihis Salam کی بعثت سے پہلے تمام قوم خدا کی توحید اور صحیح مذہبی روشنی سے یکسر ناآشنا ہوچکی تھی اور حقیقی خدا کی جگہ خود ساختہ بتوں نے لے لی تھی، غیر اللہ کی پرستش اور اصنام پرستی ان کا شعار تھا۔ آخر سنت الٰہی کے مطابق ان کی رشدوہدایت کے لیے بھی ان ہی میں سے ایک ہادی اور خدا کے سچے رسول نوح کو مبعوث کیا گیا۔ 9 آپ Alaihis Salam الله كے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالی نے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔10 بعثت کے وقت آپ Alaihis Salam کی عمر 50 سال تھی۔11 عبد اللہ بن عباس Radi Allah Anhuma کی ایک روایت کے مطابق بعثت کے وقت آپ Alaihis Salam کی عمر350سال، اور دوسری روایت کے مطابق 480 سال تھی۔ 12 قرآن و سنت کے دلائل سے یہ بات تو ثابت ہے کہ آپ Alaihis Salam کو نبوت عطا کی گئی، لیکن آپ Alaihis Salam کی عمر مبارک کے حوالے سے صراحت موجود نہیں۔

حضرت نوح Alaihis Salam نے اپنی قوم کو راہ حق کی طرف پکارا اور توحید کی دعوت دی، لیکن قوم نے آپ Alaihis Salam کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا، اور نفرت وحقارت کے ساتھ اپنے اس رویے پر مصر رہے، بالخصوص امراء اور رؤسائے قوم نے ان کی تکذیب وتحقیر کا کوئی پہلو نہ چھوڑا، اورجب جب انہیں موقع ملتا تو یہ رؤساء وامراء آپ Alaihis Salam کی تذلیل وتوہین کرتے رہے۔ حضرت نوح Alaihis Salam کی قوم میں کئی غریب او رکمزور افراد نے آپ Alaihis Salam کی دعوت کو قبول کیا لیکن طاقتور طبقہ کے لوگ جب آپ Alaihis Salam کے متبعین میں ان مالی ومعاشی طور پر کمزور لوگوں کو دیکھتے تو مغرورانہ انداز میں حقارت سے کہتے:

... وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ 2713
...ہمیں تو تم ہمارے اپنے ہی جیسے ایک بشر دکھائی دیتے ہو اور ہم نے کسی (معزز شخص) کو تمہاری پیروی کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے ہمارے (معاشرے کے) سطحی رائے رکھنے والے پست و حقیر لوگوں کے (جو بے سوچے سمجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں)، اور ہم تمہارے اندر اپنے اوپر کوئی فضیلت و برتری (یعنی طاقت و اقتدار، مال و دولت یا تمہاری جماعت میں بڑے لوگوں کی شمولیت الغرض ایسا کوئی نمایاں پہلو) بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔

حضرت نوح Alaihis Salam اپنی قوم کے مسلسل انکار پر مایوس نہیں ہوئے۔ آپ Alaihis Salam انہیں رات دن دعوتِ حق دیتے رہے تاکہ اپنی قوم کو گمراہی سے نجات دلائیں اور آخرت کے عذاب سے بچا لیں لیکن یہ کافر قوم انکار پر اڑی رہی، اور اپنی ہٹ دھرمی میں یہ مطالبہ کرتی رہی کہ اگر آپ ان غریب اور نادار لوگوں سے کنارہ کر لیں تو ہم ایمان لے آئیں گے۔آخر کار حضرت نوح Alaihis Salam نے ان سے فرمایا:

وَيَاقَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ 29 وَيَاقَوْمِ مَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ طَرَدْتُهُمْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ 30 وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنْفُسِهِمْ إِنِّي إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ 31 قَالُوا يَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ 32 قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شَاءَ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ 3314
اور اے میری قوم! میں تم سے اس (دعوت و تبلیغ) پر کوئی مال و دولت (بھی) طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور میں (تمہاری خاطر) ان (غریب اور پسماندہ) لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں دھتکارنے والا بھی نہیں ہوں (تم انہیں حقیر مت سمجھو یہی حقیقت میں معزز ہیں)۔ بیشک یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے بہرہ یاب ہونے والے ہیں اور میں تو درحقیقت تمہیں جاہل (و بے فہم) قوم دیکھ رہا ہوں۔ اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو اﷲ (کے غضب) سے (بچانے میں) میری مدد کون کر سکتا ہے، کیا تم غور نہیں کرتے۔ اور میں تم سے (یہ) نہیں کہتا کہ میرے پاس اﷲ کے خزانے ہیں (یعنی میں بے حد دولت مند ہوں) اور نہ (یہ کہ) میں (اﷲ کے بتائے بغیر) خود غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں (انسان نہیں) فرشتہ ہوں (میری دعوت کرشماتی دعوؤں پر مبنی نہیں ہے) اور نہ ان لوگوں کی نسبت جنہیں تمہاری نگاہیں حقیر جان رہی ہیں یہ کہتا ہوں کہ اﷲ انہیں ہرگز کوئی بھلائی نہ دے گا (یہ اﷲ کا امر اور ہر شخص کا نصیب ہے)، اﷲ بہتر جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر ایسا کہوں تو) بیشک میں اسی وقت ظالموں میں سے ہو جاؤں گا۔ وہ کہنے لگے: اے نوح! بیشک تم ہم سے جھگڑ چکے سو تم نے ہم سے بہت جھگڑا کر لیا، بس اب ہمارے پاس وہ (عذاب) لے آؤ جس کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو اگر تم (واقعی) سچے ہو۔ (نوح Alaihis Salam نے) کہا: وہ (عذاب) تو بس اﷲ ہی تم پر لائے گا اگر اس نے چاہا اور تم (اسے) عاجز نہیں کرسکتے۔

تکذیب اور سخت مخالفت کے باوجودبھی حضرت نوح Alaihis Salam اپنی سرکش قوم کو حق اور توحید کی راہ پر بلاتے رہے۔ مگر ان کی قوم ضد اور عناد کی تاریکیوں میں اس قدر گم ہو چکی تھی کہ 950 برس کی مسلسل دعوت بھی ان کے دلوں کو نرم نہ کر سکی۔ وہ ہدایت کی روشنی سے منہ موڑتے رہے، اور حضرت نوح Alaihis Salam کو جھٹلانے، تمسخر اڑانے اور ایذا پہنچانے سے بھی اس لمبے عرصے میں باز نہ آئے۔آخر کار حضرت نوح Alaihis Salam نےان کی ہلاکت کی بد دعا فرمائی:

وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا 26 إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا 2715
اور نوح (Alaihis Salam ) نے کہا: اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا باقی نہ چھوڑ۔بے شک اگر تو اُنہیں (زندہ) چھوڑے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتے رہیں گے، اور وہ بدکار (اور) سخت کافر اولاد کے سوا کسی کو جنم نہیں دیں گے۔

قومِ نوح پر عذاب

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح Alaihis Salam کی دعا قبول فرمائی اور اپنی سنتِ الٰہیہ کے مطابق سرکش قوم کے لیے عذاب کا فیصلہ صادر کیا جو مسلسل انکارِ حق، تکبر اور استہزا میں مبتلا تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح Alaihis Salam کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ وہ ایک کشتی تیار کریں، تاکہ جب اللہ کا عذاب نازل ہو تو مومنین اس میں محفوظ رہیں۔ یہ کشتی محض ایک مادی وسیلہ نہیں بلکہ ایمان، صبر اور یقینِ الٰہی کی علامت تھی۔ جب حضرت نوح Alaihis Salam نے اللہ کے حکم کے مطابق کشتی کی تعمیر شروع کر دی تو کفار ان پر تمسخر کرنے لگے اور ان کے عمل کو بے معنی قرار دیتے رہےکیونکہ وہ عذابِ الٰہی کے امکان ہی کا انکار کررہے تھے۔ حضرت نوح Alaihis Salam جانتے تھے کہ یہ دراصل اللہ کی طرف سے ایک علامتِ نجات ہے، اور وقت آنے پر یہی کشتی اہلِ ایمان کے لیے پناہ گاہ ثابت ہوگی۔بالآخر اللہ تعالی نے اس سرکش قوم پر طوفان کی صورت میں عذاب نازل کرنے کا حکم صادر کیا:

فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ 11 وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ 12 وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ 13 تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ 14 وَلَقَدْ تَرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ 1516
پھر ہم نے موسلادھار بارش کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دئیے۔اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کر دیئے، سو (زمین و آسمان کا) پانی ایک ہی کام کے لئے جمع ہو گیا جو (اُن کی ہلاکت کے لئے) پہلے سے مقرر ہو چکا تھا۔اور ہم نے اُن کو (یعنی نوح Alaihis Salam کو) تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر لیاجو ہماری نگاہوں کے سامنے (ہماری حفاظت میں) چلتی تھی، (یہ سب کچھ) اس (ایک) شخص (نوح ) کا بدلہ لینے کی خاطر تھا جس کا انکار کیا گیا تھا۔اور بیشک ہم نے اِس (طوفانِ نوح کے آثار) کو نشانی کے طور پر باقی رکھا تو کیا کوئی سوچنے (اور نصیحت قبول کرنے) والا ہے۔

تذکرہ نوح Alaihis Salam کتب سماویہ میں

تورات اور انجیل میں بھی حضرت نوح Alaihis Salam کے احوال و اوصاف کا تفصیلی تذکرہ ملتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ Alaihis Salam کی ذات مبارکہ تمام آسمانی کتابوں میں رشد وہدایت کی علامت ہے۔ ذیل میں کتاب مقدس میں موجود حضرت نوح Alaihis Salam کی حیاتِ مبارکہ کے احوال پیش خدمت ہیں:

جب لامک 182 برس کا ہوا تب اس کے ہاں ایک بیٹا پیداہوا۔ اس نے اس کا نام نوح (علیہ السلام) رکھااور کہا کہ یہ ہمیں اپنے ہاتھوں کی محنت اور مشقت سے جو ہم اس زمین پر کرتے ہیں جسے خداوند نے ملعون قرار دیا، آرام دے گا۔17 نوح (علیہ السلام )لامک بن متوشلح بن حنوک بن یارد بن مہلل ایل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم (علیہم السلام) کا بیٹا تھا۔18 اور نوح علیہ السلام 500 برس کا تھا جب اس کے ہاں سام، حام اور یافث پیدا ہوئے۔1920 ایمان ہی سے نوح علیہ السلام نے ان باتوں کے بارے میں جو مستقبل میں پیش آنے والی تھیں، خدا کی طرف سے ہدایت پائی اور خدا ترسی کے باعث اس پر عمل کیا اور ایک کشتی بنائی جس میں اس کا سارا خاندان بچ نکلا۔ ایسا کرنے سے اس نے دنیا کو مجرم ٹھہرایا اور اس راستبازی کا وارث بنا جو ایمان سے حاصل ہوتی ہے۔ 21 جب نوح علیہ السلام کی عمر 600ویں برس کے دوسرے مہینے کی 17ویں تاریخ تھی، اس دن زمین کے نیچے سے سارے چشمے پھوٹ نکلے اورآسمان سے سیلاب کے دروازے کھل گئے۔ اور زمین پر 40 دن اور 40 رات لگاتا ر مینہ برستا رہا۔ 22 طوفان کے بعد نوح علیہ السلام 350 برس اور زندہ رہا۔ نوح علیہ السلام کی کل عمر 950 برس کی ہوئی اور تب اس نے وفات پائی۔ 23

حضرت نوح Alaihis Salam کے اوصافِ حمیدہ کا ذکر قرآن، حدیث اور دیگر آسمانی کتابوں میں واضح طور پر ملتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے آپ Alaihis Salam کی مدح میں آپ Alaihis Salam کو" عبدا شکورا" یعنی بڑے شکر گزار بندے کے طور پر یاد فرمایاہے۔ 24 روایات میں آتا ہے کہ حضرت نوح Alaihis Salam ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید بیان کرتے رہتے تھے، حتی کہ بیت الخلاء سے فارغ ہونے کے بعد اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔ 25 حضرت عبد اللہ بن عمر Radi Allah Anhumaرسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نوح Alaihis Salam ایّامِ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے علاوہ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے۔ 26 تورات کے مطابق، حضرت نوح Alaihis Salam اللہ تعالیٰ کے نیک، راستباز اور مقبول بندے تھے۔چنانچہ سفر پیدائش میں ہےکہ نوح (Alaihis Salam ) خداوند کی نظر میں مقبول ہوا۔اورنوح ( Alaihis Salam ) راستباز انسان تھا ،اور اپنے زمانے کے لوگوں میں بے عیب تھا، اور وہ خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔27 سفر حزقی ایل میں بھی حضرت نوح Alaihis Salam کی راستبازی کا ذکر ملتا ہے ۔28 بائبل میں آپ Alaihis Salam کی نبوت ورسالت کا صراحتاً ذکر نہیں ملتا سوائے اس کے کہ عبرانیوں کے نام خط میں پولس نے لکھا ہے ایمان ہی سے نوح ( Alaihis Salam)کو ان چیزوں کی خبر دی گئی جو ابھی دیکھی نہیں گئی تھیں۔ 29

حضرت نوح Alaihis Salam وادیِ عسفان میں

حقیقت یہ ہے کہ حضرت نوح Alaihis Salam اولو العزم پیغمبروں میں سے تھے۔ آپ Alaihis Salam نےصبر واستقامت کے ساتھ اپنی قوم کو طویل عرصے تک توحید کی دعوت دی۔ آپ Alaihis Salam ہمیشہ حق کے داعی اور ہمہ وقت احکام الہیہ پر عمل پیرا رہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس Radi Allah Anhuma بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam حج کے دوران وادی عسفان سے گزرے تو حضرت ابو بکر صدیق Radi Allah Anho نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے دریافت فرما نے پر عرض کیا کہ یہ وادی عسفان ہے۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا: یہ وہ جگہ ہے جہاں سے حضرت نوح، ہود اور ابراہیمAlaihmus Salam اپنے سرخ اونٹوں پر گزرے جن کی مہاریں کھجور کی رسی کی تھیں اور ان کے جسموں پر طویل جبے تھے اور ان کی چادریں اُون کی بنی ہوئی تھیں، اور وہ بیتِ عتیق (بیت اللہ ) کا حج کرنے چلے تھے۔ 30

حضرت نوح Alaihis Salam کی عمر اور وفات

تورات کے برخلاف جس میں حضرت نوح Alaihis Salam کی کُل عمر 950 سال بتائی گئی ہے، 31 علماء اسلام کے نزدیک وہ 1450 سال تھی۔ 32 بعض علماء نے اس قول کو حضرت ابن عباس Radi Allah Anhuma کی طرف بھی منسوب کیا ہے کہ بعثت کے وقت آپ کی عمر 250 سال تھی، اور 950 سال آپ Alaihis Salam نے اپنی قوم کو دعوتِ حق دی، اور طوفان کےبعد مزید آپ Alaihis Salam 250 سال زندہ رہے۔ 33 حضرت نوح Alaihis Salam آخری عمر میں مکہ میں مقیم تھے اور وہیں وفات پائی۔ طبرانی کی ایک طویل حدیث میں رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam فرماتے ہیں کہ جب بھی کسی نبی کو اپنی قوم کی طرف سے ایذا و تکلیف پہنچتی، تو وہ اپنی قوم سے کنارہ کش ہو کر بیت اللہ کی طرف رخ کرتے، وہاں عبادتِ الٰہی میں منہمک رہتے اور بالآخر وہیں ان کی زندگی کا اختتام ہوتا۔ 34 روایات میں آتا ہے کہ حضرت نوح Alaihis Salam کی قبر زمزم اور مقام حجر کے درمیان واقع ہے۔35

حضرت نوح Alaihis Salam کی حیاتِ مبارکہ کا یہ تذکرہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ آپ Alaihis Salam انسانی تاریخ کے ان اولو العزم انبیاء میں سے ہیں جنہوں نے نہایت صبر، استقامت اور اخلاص کے ساتھ اپنی قوم کو صدیوں تک توحید، ایمان اور اصلاحِ عمل کی دعوت دی۔ آپ Alaihis Salam کی قوم نے تکبر، طبقاتی غرور، بت پرستی اور حق سے ضد کی بنا پر آپ Alaihis Salam کی دعوت کو رد کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ عذاب کی صورت میں ظاہر ہوا اور اہلِ ایمان کو کشتی کے ذریعے نجات عطا فرمائی گئی۔ کتبِ سماویہ میں بھی آپ Alaihis Salam کی راست بازی، خدا ترسی اور طوفانِ عظیم کے واقعہ کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دعوتِ حق کی راہ میں مخالفت، استہزا اور تکذیب کے باوجود ثابت قدمی ہی سنت نبوی ہے ، اور جو قوم حق کو مسلسل جھٹلاتی، ظلم و سرکشی پر اصرار کرتی اور اللہ کے رسل Alaihmus Salam کی تنبیہات کو نظر انداز کرتی ہے، وہ بالآخر سنتِ الٰہیہ کے مطابق اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔


  • 1  أبو عمر يوسف بن عبد الله ابن عبد البر النمري، الإنباء على قبائل الرواة، مطبوعة: دار الكتاب العربي، بيروت، لبنان، 1985م، ص: 21
  • 2  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش، 5: 1-30 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 5-6)
  • 3  المطھر بن طاہر المقدسی، البدء والتاریخ، ج3-، مطبوعۃ: مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 15
  • 4  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش، 5: 30 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 6)
  • 5  أبو عبد اﷲ محمد ابن سعد البصري، الطبقات الکبرى، ج-1، مطبوعة: دار الکتب العلمیة، بیروت، لبنان، 1990م، ص: 36
  • 6  الدكتور حمود بن أحمد بن فرج الرحيلي، منهج القرآن الكريم في دعوة المشركين إلى الإسلام، ج-1، مطبوعة: عمادة البحث العلمي بالجامعة الإسلامية، المدينة المنورة، السعودية، 2004م، ص: 167
  • 7  أبو عبید عبدالله بن عبد العزيز البكری، المسالك والممالك، ج1-، مطبوعۃ: دار الغرب الإسلامی، بیروت، لبنان، 1992م، ص: 80
  • 8  أبو محمد عبد اللہ بن مسلم ابن قتیبۃ الدینوری، المعارف، مطبوعۃ: الھیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، القاھرۃ، مصر، 1992م، ص:21
  • 9  محمد حفظ الرحمن سیوہاروی، قصص القرآن، ج-1،مطبوعہ: مکتبہ رحمانیہ، لاہور، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 56
  • 10  أبو داؤد سليمان بن داؤد الطيالسي، مسند الطيالسي، حديث: 2122، ج-3، مطبوعة: دار هجر، الجيزة، مصر، 1999م، ص: 500
  • 11  أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة الدينوري، المعارف، مطبوعة: الهيئة المصرية العامة للكتاب، القاهرة، مصر، 1992م، ص: 21
  • 12  أبو جعفر محمد بن جریر الطبری، تاریخ الرسل والملوک، ج-1، مطبوعۃ: دار المعارف، القاهرة، مصر، 1967م، ص: 179
  • 13  القرآن، سورة هود 11: 27
  • 14  القرآن، سورة هود 11: 29- 33
  • 15  القرآن، سورة نوح 71: 26- 27
  • 16  القرآن، سورة القمر 54: 11- 15
  • 17  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش، 5: 28-29 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 6)
  • 18  کتابِ مُقدس، انجیل لوقا 3: 36-38 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1034)
  • 19  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 5: 32 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 6)
  • 20  کتابِ مُقدس، سفر تواریخ اول 1: 4 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 378)
  • 21  کتابِ مُقدس، عبرانیوں کے نام خط 11: 7 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1212)
  • 22  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 7: 11-12 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 7)
  • 23  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 9: 28-29 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 8)
  • 24  القرآن، سورة الإسراء 17: 3
  • 25  أبو بكر عبد الله بن محمد ابن أبي الدنيا القرشي، الشكر، حديث: 127- 128، مطبوعة: المكتب الإسلامي، الكويت، 1980م، ص: 44
  • 26  أبو عبد الله محمد بن یزید ابن ماجة القزویني، سنن ابن ماجة، حديث: 1714، مطبوعة: دار السلام، الریاض، السعودیة، 2009م، ص: 305
  • 27  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 6: 8-9 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 6)
  • 28  کتابِ مُقدس، سفر حزقی ایل 14: 14 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 845)
  • 29  الكتاب المقدس، رسالة بولس الرسول إلى العبرانيين 11: 7 (الترجمة البيروتية، فان ديك)
  • 30  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، قصص الأنبياء، ج-1، مطبوعة: مطبعة دار التأليف، القاهرة، مصر، 1968م، ص: 117
  • 31  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 9: 29 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 8)
  • 32  أبو الفرج عبد الرحمن بن علي ابن الجوزي، أعمار الأعيان، مطبوعة: مكتبة الخانجي، القاهرة، مصر، 1994م، ص: 128
  • 33  الحسن بن أبي محمد عبد الله الصفدي، نزهة المالك والمملوك في مختصر سيرة من ولي مصر من الملوك، مطبوعة: المكتبة العصرية، بيروت، لبنان، 2003م، ص: 43
  • 34  أبو القاسم سلیمان بن أحمد الطبرانی،المعجم الکبیر، حدیث: 12288، ج-11، مطبوعۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ، القاہرۃ، مصر، 1994م، ص: 454
  • 35  أبو الوليد محمد بن عبد الله الأزرقي، أخبارمكة وما جاء فيها من الآثار، ج-1، مطبوعة: دار الأندلس، بیروت، لبنان، د۔ ت۔ ط، ص: 68

Powered by Netsol Online