encyclopedia

تعارفِ حضرت حزقیل علیہ السلام – بنی اسرائیل کا برگزیدہ نبی

Published on: 02-Jul-2026

حزقیل عبرانی لفظ ہے جو اصل میں حِزقی ایل ہے، اور اس کا مطلب ہے "اللہ قوت بخشے گا"۔ حضرت حزقیل بن بوزی Alaihis Salam کا تعلق یہودی کاہنوں کے ایک خاندان سے تھا۔ آپ Alaihis Salam کا شمار بنی اسرائیل کے کبار انبیاء Alaihmus Salam میں ہوتا ہے۔ آپ Alaihis Salam کی پیدائش اور پرورش فلسطین کے شہر یروشلم میں ہوئی۔ آپ Alaihis Salam یرمیاہ Alaihis Salam کے ہم عصر تھے۔ تقریباً 597 قبل مسیح میں یہودیوں کی بابل میں جلاوطنی اور اسیری کے زمانے میں حضرت حزقیل Alaihis Salam نے بھی ان کے ساتھ بابل میں جلاوطنی کی مشقتیں جھیلی تھیں۔ آپ Alaihis Salam جلاوطنی کے دوران نہرِ خابور کے کنارے رہائش پذیر تھے۔ اسی زمانے میں آپ Alaihis Salam کی ازدواجی اور نبوی زندگی کی ابتدا ہوئی۔ 1

ذوالکفل Alaihis Salam اور حضرت حزقیل Alaihis Salam

جمہور علماء کے مطابق حضرت حزقیل Alaihis Salam ہی ذوالکفل ہیں۔ آپ Alaihis Salam کو ذوالکفل کہنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ Alaihis Salam نے 70 انبیاء Alaihmus Salam کو قتل سے بچا کر ان کی کفالت فرمائی تھی۔ 2 اہلِ کتاب بھی اسی رائے کے قائل ہیں، لیکن ان کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت حزقیل Alaihis Salam نے مملکتِ یہوداہ اور مملکتِ اسرائیل کی نجات کے لیے 190 دن تک زمین پر بائیں کروٹ اور 40 دن تک دائیں کروٹ لیٹ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش اور کفالت کی درخواست کی، جو قبول ہوئی تھی۔ 3

حضرت حزقیل Alaihis Salam اور قرآن

حضرت حزقیل Alaihis Salam کا نام اگرچہ قرآن کریم میں صراحتاً ذکر نہیں تاہم بنی اسرائیل کےجو لوگ موت کے ڈر سے گھروں سے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر موت طاری کر کے دوبارہ جس نبی کی دعا کی بدولت انہیں زندہ فرمایا،علمائے اسلام کے نزدیک وہ حضرت حزقیل Alaihis Salam تھے۔ 4 مفسرین کے مطابق اس واقعہ کا ذکر قرآن کریم میں بھی وارد ہے ۔ 5چنانچہ فرمانِ خداوندی ہے:

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ 2436
(اے حبیب (ﷺ)!) کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل گئے حالانکہ وہ ہزاروں (کی تعداد میں) تھے، تو اﷲ نے انہیں حکم دیا: مر جاؤ (سو وہ مرگئے)، پھر انہیں زندہ فرما دیا، بیشک اﷲ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ (اس کا) شکر ادا نہیں کرتے۔

محمد بن اسحاق Rehmatullah Alaih فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل پر ایک وبا مسلط ہوئی جس کی وجہ سے بنی اسرائیل ہزاروں کی تعداد میں اپنا علاقہ چھوڑ کر ایک اور بستی میں منتقل ہو گئے۔ جیسے ہی یہ لوگ اس بستی میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سب مر گئے۔ چونکہ ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ انہیں اس بستی سے کسی اور مقام پر لے جانا ممکن نہ تھا، اس لیے بستی والوں نے انہیں جانوروں کے باڑے میں دفن کر دیا تاکہ چرند و پرند کی چیر پھاڑ سے محفوظ رہیں۔ وقت گزرتا گیا اور نسلیں بدل گئیں، یہاں تک کہ یہ لوگ صرف کھوکھلی ہڈیاں بن گئے۔ حضرت حزقیل Alaihis Salam اپنے زمانے میں اس بستی سے گزرتے ہوئے رک گئے اور ان کے حال پر حیران ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ Alaihis Salam کی حیرت کو دور کرنے کے لیے مُردوں کو دوبارہ زندہ کیا۔ چنانچہ حکم دیا گیا: اے ٹوٹ پھوٹ کر بکھری ہڈیوں! ہر ہڈی اپنے مالک کے پاس واپس آجاؤ۔ وہ ہڈیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے لگیں۔پھر انہیں کہا گیا: اے گوشت، رگیں اور جلد! اللہ کے حکم سے ہڈیوں پر آ جاؤ۔ رگیں ہڈیوں کے اوپر چڑھ گئیں، پھر گوشت اور جلد چڑھ گئے، یہاں تک کہ وہ مکمل جسم بن گئے، مگر روح ابھی اندر نہ آئی تھی۔ اس کے بعد حضرت حزقیل Alaihis Salam نے ان کے لیے دعا کی، اور آسمان سے کچھ نازل ہوا جو ان پر چھا گیا، یہاں تک کہ وہ ہر طرف سے ڈھانپ دیےگئے۔ پھر حضرت حزقیل Alaihis Salam نے ہوش سنبھالا اور دیکھا کہ لوگ بیٹھے ہوئے سبحان اللہ کہہ رہے ہیں۔ 7 اس بات سے قطع نظر کہ یہ واقعہ حضرت حزقیل Alaihis Salam کا خواب تھا یا حقیقی طور پر پیش آیا، علماء ِاسلام کے نزدیک یہ واقعہ حضرت حزقیل Alaihis Salam کے زمانے میں پیش آیا تھا۔

حضرت حزقیل Alaihis Salam کی شہادت

حضرت حزقیل Alaihis Salam اپنے دورِ نبوت میں یہودیوں کی خیر وخبر رکھتے اور دن رات ان کی اصلاح و تزکیہ کر تے رہے ۔ ایک دن دعوت و تبلیغ کی نیت سے آپ Alaihis Salam نے یہود کو کسی منکر کام پر ڈانٹا، چنانچہ انہوں نے غصے میں آکر آپ Alaihis Salam کو قتل کر دیا۔ 8 بعض روایات میں ہے کہ آپ Alaihis Salam نے ایک قاضی کو غلط کام سے روک دیا تھا 9 جس کی پاداش میں آپ Alaihis Salam کو شہید کیا گیا۔

حضرت حزقیل Alaihis Salam کا مرقدمبارک آج بھی فرات کے کنارے عمارت نما مقام کی شکل میں واقع ہے۔ جس میں 60 صومعے ہیں، اور ہر صومعے پر ایک مینار ہے۔ سب سے بڑے صومعے کے وسط میں ایک منبر ہے، جس کے پیچھے حضرت حزقیل Alaihis Salam کا مرقد واقع ہے۔ اس کے بالکل اوپر ایک عالی شان گنبد نصب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ عمارت یہوداہ کے ایک بادشاہ یکنیا اور اس کے 30 ہزار پیروکاروں نے تعمیر کروائی تھی۔ مرقد کے پتھروں پر بادشاہ یکنیا اور اس کے پیروکاروں کے نام نقش ہیں، اور آخری پتھر پر حضرت حزقیل Alaihis Salam کا نام درج ہے۔ یہودیوں کے نزدیک آپ Alaihis Salam کا مرقد نہایت قابل احترام ہے۔ اسی لیے یہودی دور دراز سے یہاں برکت حاصل کرنے اور عبادت کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ 10


  • 1  مجموعة الأساتذة اللاهوتيين، قاموس الكتاب المقدس، مطبوعة:دار الثقافة، القاهرة، مصر، د۔ ت ۔ ط، ص: 301-302
  • 2  أبو إسحاق أحمد بن إبراهيم الثعلبي، الكشف والبيان عن تفسير القرآن المعروف بتفسير الثعلبي، ج-2، مطبوعة: دار إحياء التراث العربي، بيروت، لبنان، 2002م، ص: 203
  • 3  أنستاس ماري الألياوي الكرملي، مجلة لغة العرب العراقية، ج-6، مطبوعة: مطبعة الآداب، بغداد، العراق، د۔ ت۔ ط، ص: 646
  • 4  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، قصص الأنبياء، ج-2، مطبوعة: مطبعة دار التأليف، القاهرة، مصر، 1968م، ص: 247
  • 5  أبو جعفر محمد بن جرير الطبري، تاريخ الرسل والملوك، ج-1، مطبوعة: دار المعارف، القاهرة، مصر، 1967م، ص: 460
  • 6  القرآن، سورة البقرة 2: 243
  • 7  أبو جعفر محمد بن جرير الطبري، تاريخ الرسل والملوك، ج-1، مطبوعة: دار المعارف، القاهرة، مصر، 1967م، ص: 460
  • 8  أبو الفرج غريغورس يوحنا بن أهروان ابن العبري الملطي، تاريخ مختصر الدول، ج-1، مطبوعة: دار الشرق، بيروت، لبنان، 1992م، ص: 42
  • 9  محمد جمال الدين بن محمد سعيد القاسمي، محاسن التأويل، ج-2، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1418م، ص: 299
  • 10  الرابي بنيامين بن الرابي يونة التطيلي اليهودي، رحلة بنيامين التطيلي، مطبوعة: المجمع الثقافين، أبو ظبي، 2002م، ص: 310-308