encyclopedia

تعارفِ حضرت ابراہیم خلیل الله علیہ السلام

Published on: 08-Jun-2026

حضرت ابراہیم Alaihis Salam تاریخِ انسانیت کی وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں جنہیں قرآنِ کریم نے توحید، وفاداری، حلم، استقامت اور کامل اطاعتِ الہٰی کا روشن نمونہ قرار دیا ہے۔ آپ Alaihis Salam کی سیرت صرف ایک فردِ واحد کی دعوتی جدوجہد نہیں بلکہ شرک، بت پرستی، مظاہر پرستی اور جابر سیاسی اقتدار کے مقابلے میں دینِ حنیف کی فکری، عملی اور تہذیبی بنیادوں کا اعلان ہے۔ آپ Alaihis Salam نے اپنی قوم کو بتوں، ستاروں اور انسانی خدائی کے باطل تصورات سے نکال کر اس ربِ حقیقی کی طرف متوجہ کیا جو آسمانوں اور زمین کا خالق، مالک اور مدبر ہے۔ اس مضمون میں اسلامی مصادر، قرآنی آیات، تاریخی روایات اور تورات کے بیانات کی روشنی میں حضرت ابراہیم Alaihis Salam کے اسم، نسب، جائے ولادت، دعوتِ توحید، نمرود سے مناظرہ، آتشِ نمرود، ہجرت، عائلی زندگی اور فضائل و خصائل کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی زندگی ہر دور کے اہلِ ایمان کے لیے عقیدہ، دعوت، قربانی اور استقامت کا جامع اسوہ ہے۔

اسم "ابراہیم" کا ماخذ اشتقاق

حضرت ابراہیم Alaihis Salam کے اسم گرامی کے بارے میں مختلف آراء منقول ہیں۔ بعض اہلِ لغت کے نزدیک یہ سریانی لفظ ہے جو "اب رحیم" سے مرکب ہے، یعنی مہربان باپ۔ دوسری رائے کے مطابق یہ عبرانی لفظ ہے جو "اب رہام" سے مرکب ہے، "اب" بمعنی باپ اور "رہام" بمعنی جمہور یا کثرت ہے، یعنی قوموں کا باپ۔ بعض محققین کے نزدیک یہ عجمی (غیر عربی) لفظ ہے جسے عربی میں اسی حالت میں استعمال کیا گیا۔ ایک اور قول یہ ہے کہ یہ برہمۃ (بمعنی دقّتِ نظر) سے مشتق ہے۔ 1

حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی جائے ولادت

اسی طرح آپ Alaihis Salam کی جائے ولادت کے بارے میں بھی کئی اقوال ہیں۔ بعض مؤرخین کے نزدیک اہوازمیں سوس کے مقام پر پیدا ہوئے جبکہ بعض کے نزدیک کوثی، مقامِ ورکاء یا حران میں پیدا ہوئے۔ 2 صحیح قول کے مطابق آپ Alaihis Salam بابل میں پیدا ہوئے۔ 3

حضرت ابراہیم Alaihis Salam کا نسب

اسلامی مؤرخین کے مطابق حضرت ابراہیم Alaihis Salam کا نسب حضرت نوح Alaihis Salam تک یوں پہنچتا ہے: ابراہیم (Alaihis Salam) بن تارخ بن ناخور بن ساروغ بن ارغو بن فالغ بن غابر بن شالخ بن قينان بن ارفخشذ بن سام بن نوح (Alaihis Salam4 ابن خلدون کے مطابق یہ تمام عبرانی نام ہیں جو تورات سے ماخوذ ہیں۔ ان کے حروف کاعربی مخارج سے مختلف ہونے کے باعث ان کےتلفظ میں تبدیلی آجاتی ہے۔ اسی وجہ سے ان ناموں کی ادائیگی اور نقل میں اختلاف پایا جاتا ہے، 5 حالانکہ اصولاً اسماء میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔

حضرت ابراہیم Alaihis Salam اور اُن کی قوم کے احوال

حضرت ابراہیم Alaihis Salam نمرود بن کنعان بن کوش کے زمانے میں پیدا ہوئے۔ 6 نمرود بن کنعان کے دور میں بت پرستی اپنے عروج پر تھی۔ لوگ بتوں کے مجسمے بناتے اور انہیں مندروں و معابد میں نصب کرتے، اور ان کے لیے سالانہ تہوار مناتے۔ ان معابد کے اخراجات کے لیے بہت سی زمینیں اور دولت وقف کر دی جاتی تھیں، اور یہ سب کام مذہبی عبادات کے طور پر کیے جاتے تھے۔ لوگ توحید سے اس حد تک ناواقف تھے کہ حکمرانوں کو خدا سمجھ بیٹھے تھے۔ 7 اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم Alaihis Salam کو بچپن ہی سے رشد وہدایت اور فہم وفراست سے نوازا، اور اپنی قوم پر آپ Alaihis Salam کو حجت عطا فرمائی۔ 8 جب آپ Alaihis Salam 40 سال کی عمر کو پہنچے اور دعوت وتبلیغ پر قادر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ Alaihis Salam کو نبوت کے عظیم منصب سے سرفراز فرمایا اور دینِ حق کی تبلیغ کا فریضہ سونپا۔ آپ Alaihis Salam نے اپنی قوم کو بت پرستی، ستارہ پرستی اور دیگر مظاہر پرستی سے باز رہنے کی تعلیم وتلقین شروع کی۔ 9 قرآنِ کریم حضرت ابرہیم Alaihis Salam کی اس حقیقت بیّن اور بصیرت افروز رشدوہدایت کا اس طرح ذکر کرتا ہے:

وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ 51إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ 52 قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ 53 قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ 54قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ 55 قَالَ بَلْ رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَى ذَلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ5610
اور بیشک ہم نے پہلے سے ہی ابراہیم (Alaihis Salam) کو ان کے (مرتبہ کے مطابق) فہم و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم ان (کی استعداد و اہلیت) کو خوب جاننے والے تھے۔ جب انہوں نے اپنے باپ (چچا) اور اپنی قوم سے فرمایا: یہ کیسی مورتیاں ہیں جن (کی پرستش) پر تم جمے بیٹھے ہو۔وہ بولے: ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی پرستش کرتے پایا تھا۔ (ابراہیم Alaihis Salam نے) فرمایا: بیشک تم اور تمہارے باپ دادا (سب) صریح گمراہی میں تھے۔ وہ بولے: کیا (صرف) تم ہی حق لائے ہو یا تم (محض) تماشا گروں میں سے ہو۔ (ابراہیم Alaihis Salam نے) فرمایا: بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان (سب) کو پیدا فرمایا اور میں اس (بات) پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔

ابراہیم Alaihis Salam کی دعوت

حضرت ابراہیم Alaihis Salam اپنی قوم کو مسلسل دعوتِ حق دیتے رہے۔ آپ Alaihis Salam انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ان سے مناظرے کرتے، اور فطری و منطقی دلائل کے ذریعے ان کے سامنے یہ حقیقت واضح فرماتے کہ ربوبیت کا حق صرف اسی ذات کو زیبا ہے جو ربّ العالمین ہے، زمین و آسمان، علوی و سفلی تمام کائنات کا خالق و مالک ہے۔ جب قوم عناد میں مسلسل ڈٹی رہی اور انکار پر قائم رہی توآپ Alaihis Salam نے عملی طور پر ان کے بتوں کو توڑ کر انہیں یہ واضح پیغام دیا کہ یہ بے جان مورتیاں اپنے دفاع کی بھی طاقت نہیں رکھتیں، چہ جائیکہ کسی انسان کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ 58قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ 59قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ 60 قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ 6111
پھر ابراہیم (Alaihis Salam) نے ان (بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سوائے بڑے (بُت) کے تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں۔ وہ کہنے لگے: ہمارے معبودوں کا یہ حال کس نے کیا ہے؟ بیشک وہ ضرور ظالموں میں سے ہے۔ (کچھ) لوگ بولے: ہم نے ایک نوجوان کا سنا ہے جو ان کا ذکر (انکار و تنقید سے) کرتا ہے اسے ابراہیم Alaihis Salam کہا جاتا ہے۔ وہ بولے: اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ (اسے) دیکھ لیں۔

حضرت ابرہیم Alaihis Salam کا نمرود سے مناظرہ

جب اس دور کے کاہنوں اور سرداروں تک یہ خبر پہنچی کہ ابراہیم (Alaihis Salam) نے ان کے معبودانِ باطلہ کو پاش پاش کردیا ہے، تو ان کے چہروں پر غیظ و غضب کی لالی دوڑ گئی۔ طیش میں آکر انہوں نے ابراہیم کوبھرے مجمع میں بلایا، اوران سے بازپرس کرنے لگے۔ مگر ابراہیم Alaihis Salam نہایت وقار اورمتانت کے ساتھ ہر سوال کا ایسا عقلی اور تسلی بخش جواب دیتے رہے کہ وہ لاجواب ہوکر ایک دوسرے کا چہرہ تکتے رہے۔ ابھی یہ مناظرے اور ان کے مشورے ہو ہی رہے تھے کہ بادشاہ نمرود تک بھی یہ باتیں پہنچ گئیں۔ نمرود محض ایک بادشاہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ دیوتا اور خدا کی مانند اپنی رعایا پر حکمرانی کرتا تھا۔ لوگ اسے بھی دوسرے باطل دیوتاؤں کی طرح اپنا معبود مانتے اور اس کی پرستش کیا کرتے تھے۔ نمرود نے حضرت ابراہیم Alaihis Salam کو اپنے دربار میں بلایا اور ان سے مناظرہ کیا، مگر ابراہیم Alaihis Salam نے نہایت حکمت و متانت کے ساتھ اس کے تمام دلائل کو ایسا باطل کردیا کہ وہ بیچارہ ہکا بکا رہ گیا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے:

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ25812
(اے حبیب!) کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس وجہ سے کہ ﷲ نے اسے سلطنت دی تھی ابراہیم (Alaihis Salam) سے (خود) اپنے رب (ہی) کے بارے میں جھگڑا کرنے لگا، جب ابراہیم (Alaihis Salam) نے کہا: میرا رب وہ ہے جو زندہ (بھی) کرتا ہے اور مارتا (بھی) ہے، تو (جواباً) کہنے لگا: میں (بھی) زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، ابراہیم (Alaihis Salam) نے کہا: بیشک ﷲ سورج کو مشرق کی طرف سے نکالتا ہے تُو اسے مغرب کی طرف سے نکال لا! سو وہ کافر دہشت زدہ ہو گیا، اور ﷲ ظالم قوم کو حق کی راہ نہیں دکھاتا۔

حضرت ابراہیم Alaihis Salam آگ میں

بادشاہ اور اس کی قوم بجائے اس کے کہ ابراہیم Alaihis Salam کی بات مان لیتے اور حق کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیتے، قبولِ حق سے مزید منحرف ہو گئے۔ بلکہ اس کے برعکس، اپنی ندامت اور عاجزی کے احساس کو چھپانے کے لیے شدید غیظ و غضب میں آگئے۔ چنانچہ بادشاہ سے لے کر رعایا تک سب نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کر لیا کہ دیوتاؤں کی توہین اور آبائی دین کی مخالفت کے جرم میں ابراہیم Alaihis Salam کو دہکتی ہوئی آگ میں جلایا جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی حفاظت فرمانی تھی چنانچہ جب ابراہیم Alaihis Salam کو آگ میں ڈالا گیا، تو قدرتِ الٰہی کے حکم سے فوراً آگ گلزار بن گئی، اور دشمنانِ حق آپ کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکے۔ یوں خلیل اللہ کی سچائی پر ربّ العالمین کی نصرت کی مُہر ثبت ہو گئی، اور باطل کی ساری قوتیں بےبسی و رسوائی کے اندھیروں میں ڈوب گئیں۔ قرآن کریم میں یہ واقعہ کچھ یوں ذکر ہے:

قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ 68قُلْنَا يَانَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ 69 وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ7013
وہ بولے: اس کو جلادو اور اپنے (تباہ حال) معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو۔ ہم نے فرمایا: اے آگ! تو ابراہیم Alaihis Salam پر ٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہو جا۔ اور انہوں نے ابراہیم (Alaihis Salam) کے ساتھ بری چال کا ارادہ کیا تھا مگر ہم نے انہیں بری طرح ناکام کردیا۔

حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی ہجرت

جب اللہ تعالی نے دشمنوں کے ارادوں کو ذلیل ورسوا کرکے حضرت ابراہیم Alaihis Salam کو بچا لیا تو حضرت ابراہیم Alaihis Salam نے ارادہ کیا کہ کسی دوسری جگہ جاکر پیغام الہی سنائیں اور دعوت حق پہنچائیں۔ یہ سوچ کرحضرت ابراہیم Alaihis Salam نے اپنی قوم سے ہجرت فرمائی اور فرات کے غربی کنارہ کے قریب ایک بستی (کلدانیین) میں چلے گئے۔ یہاں کچھ عرصہ قیام کیا جہاں حضرت لوط Alaihis Salam اور حضرت سارہ Alaihas Salam آپ Alaihis Salam کے ہم سفر رہے۔ پھر کچھ دنوں کے بعد آپ Alaihis Salam یہاں سے حران / حاران کی جانب روانہ ہوگئے اور وہاں دین حنیف کی تبلیغ شروع کردی۔ 14 اور پھر آپ Alaihis Salam ایک مقام سے دوسرے مقام تک ہجرت کرتے کرتے فلسطین اور پھر مصر پہنچے۔

حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی عائلی زندگی

حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی پہلی شادی حضرت سارہ Alaihas Salam سے ہوئی جو آپ Alaihis Salam کے چچا ہاران کی بیٹی تھیں۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وہ حران کے بادشاہ کی بیٹی تھیں۔ 15 دوسری شادی حضرت ہاجرہ Alaihas Salam سے ہوئی جو بادشاہ مصر نے سارہ کو تحفے میں دی تھیں۔ امام بخاری Rehmatullah Alaih تعلیقاً حضرت ابوہریرہ Radi Allah Anho کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم Alaihis Salam نے سارہ (Alaihas Salam) کی معیت میں ہجرت کی اور ایک قریہ (گاؤں) میں داخل ہوگئے جہاں کے بادشاہ نے سارہ (Alaihas Salam) کو حضرت ہاجرہ Alaihas Salam ہدیہ میں دیں۔ 16 قریہ سے مراد مصر ہے اور اس کے بادشاہ کے نام کے حوالے سے دو اقوال ہیں: ایک یہ کہ اس کا نام عمرو بن امریٔ القیس تھا۔ دوسرا یہ کہ اس کا نام صادوق تھا۔ 17 اللہ تعالی نے حضرت ہاجرہ Alaihas Salam کو اسماعیل عطا کئے جبکہ اس وقت ابراہیم Alaihis Salam کی عمر 99 سال تھی۔ 18 اورحضرت سارہ Alaihas Salam تقریبا 90 سال تک بانجھ رہی، پھر اللہ تعالی نے انہیں اسحاق Alaihis Salam عطافرمائے۔19 اسلامی مؤرخین کہتے ہیں کہ سارہ Alaihas Salam کی وفات کے بعد ابراہیم Alaihis Salam نے قطورا نامی عورت سے شادی کی جن سے آپ Alaihis Salam کے 6 بیٹے پیدا ہو ئے، اور پھر آپ Alaihis Salam نے حجين یا حجون بنت اہيب سے شادی کی جن سے آپ Alaihis Salam کے5 بیٹے پیدا ہوئے۔ 20 حضرت ابراہیم Alaihis Salam اپنی زندگی دعوتِ حق اور توحید کاپیغام پہنچانے میں گزار کر انتقال فرما گئے۔ وفات کے وقت آپ Alaihis Salam کی عمر مبارک 200 سال تھی۔ بعض روایات میں ہے کہ بوقتِ وفات آپ Alaihis Salam کی عمر 175 سال تھی۔ آپ Alaihis Salam حبرون کے مقام پر حضرت سارہ Alaihas Salam کی قبر کے قریب مدفون ہوئے۔ 21

تورات میں حضرت ابراہیم Alaihis Salam کا تذکرہ

تورات کے اسفار میں بھی حضرت ابراہیم Alaihis Salam کا ذکر ان کی زندگی کے اہم پہلوؤں کے حوالے سے ملتا ہے، جیسے ان کا نام و نسب، پیدائش، ازواج اور اولاد، دعوت وہجرت اور وفات وغیرہ۔ ذیل میں ابراہیم Alaihis Salam کی سیرت تورات کے سفر پیدائش سے نقل کی جاتی ہے:

جب تارح 70 برس کا ہوا تو اس کے یہاں ابرام (ابراہیم)، نحور اور حاران پیدا ہوئے۔ 22 ابرام اور نحور نے اپنا بیاہ کرلیا۔ ابرام کی بیوی کا نام سارَی اور نحور کی بیوی کا نام مِلکاہ تھا۔ وہ حاران کی بیٹی تھی جو مِلکاہ اور اِسکہ دونوں کا باپ تھا۔ اور سارَی بانجھ تھی، اس کے یہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ 23 خداوند نے ابرام سے کہا: تو اپنے وطن، اپنے لوگوں اور اپنے باپ کے گھر سے روانہ ہو، اور اس ملک میں چلا جا جو میں تجھے دکھاؤں گا۔ 24 لہذا ابرام خداوند کے کہنےکے مطابق چل دیا، اور لوط (علیہ السلام) اس کے ساتھ گیا۔ جب ابرام حاران سے روانہ ہوا تو وہ 75 برس کا تھا۔ وہ اپنی بیوی سارَی، اپنے بھتیجے لوط، اپنا جمع کیا ہوا مال ومتاع اور ان لوگوں کو جو انہیں حاران میں مل گئے تھے، ساتھ لے کر کنعان کے ملک روانہ ہوگیا اور وہ سب وہاں پہنچ گئے۔ ابرام اس ملک سے سفر کرتا ہوا اِسکم میں اس مقام پر پہنچا جہاں مورہ کا شاہ بلوط کا درخت تھا۔ ان دنوں اس ملک میں کنعانی لوگ رہتے تھے۔ 25 پھر وہاں سے کوچ کرکے وہ ان پہاڑوں کی طرف گیا جو بیت ایل کے مشرق میں ہیں اوراس جگہ خیمہ زن ہوا جس کے مغرب میں بیت ایل اور مشرق میں عَی ہے۔ وہاں اس نے خداوند کے لیے ایک مذبح بنایا اور خداوند سے دعا کی۔ اور ابرام وہاں سے کوچ کرکے جنوب کی طرف بڑھتا گیا۔ ان دنوں اس ملک میں قحط پڑا اور ابرام مصر چلاگیا تاکہ کچھ عرصہ وہاں رہے کیونکہ قحط نہایت شدید تھا۔ 26 جب ابرام مصر میں پہنچا تو مصریوں نے دیکھا کہ وہ عورت (سارَی) نہایت ہی خوبصورت ہے۔ اور جب فرعون کے امراء نے اسے دیکھا تو انہوں نے فرعون سے اس کی تعریف کی اور اسے اس کے محل میں پہنچا دیا۔ فرعون نے سارَی کی خاطر ابرام کے ساتھ نہایت نیک سلوک کیا اور ابرام کو بھیڑ بکریاں، گائے بیل، گدھے گدھیاں، غلام اور کنیزیں اور اونٹ حاصل ہوئے۔ 27 چنانچہ ابرام اپنی بیوی اوراپنے سارے مال و اسباب سمیت مصر سے کنعان کے جنوب کی طرف روانہ ہوا، اور لوط کے ساتھ گیا۔ ابرام مویشی اور سونا چاندی پا کر بہت مالدار ہوگیا تھا۔ پھر وہ کنعان کے جنوب سے سفر کرتا ہوا بیت ایل میں اس مقام پر پہنچا جہاں پہلے بیت ایل اور عَی کے درمیان اس کا ڈیرا تھا۔ 28 ابرام کی بیوی سارَی کی کوئی اولاد نہ ہوئی لیکن اس کی ایک مصری خادمہ تھی جس کا نام ہاجرہ تھا۔ چنانچہ سارَی نے ابرام سےکہا: خداوند نےمجھے تو اولاد سے محروم رکھا ہے لیکن تو میری خادمہ کے پاس جا، شاید اس سے میرا گھر آباد ہوجائے۔ ابرام نے سارَی کی بات مان لی۔ ابرام کو ملک کنعان میں رہتے ہوئے 10 برس گزر چکے تھے تب اس کی بیوی سارَی نے اپنی مصری خادمہ کو اپنے خاوند کے سپرد کردیا تاکہ وہ اس کی بیوی بنے۔ وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی۔ 29 ابرام سے ہاجرہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، اور ابرام نے اس بیٹے کا نام جو ہاجرہ سے پیدا ہوا تھا اسماعیل رکھا۔ جب ابرام سے ہاجرہ کے ہاں اسماعیل پیدا ہواتب ابرام 86 برس کا تھا۔ 30 (جب ابرام 99 برس کا ہوا تب خداوند نے کہا) اب سے تو ابرام نہ کہلائے گا بلکہ تیرا نام ابرہام ہوگا کیونکہ میں نے تجھے کئی قوموں کا باپ ٹھہرایا ہے۔ 31 سارَی جو تیری بیوی ہے اسے اب سے سارَی کہہ کر مت پکارنا، اس کا نام سارہ ہوگا۔ 32 خداوند نے کہا: بے شک تیری بیوی سارہ کو تجھ سے بیٹا ہوگا اور تو اس کا نام اضحاق رکھنا۔ 33 اور خداوند، جیسا کہ اس نےکہا تھا، سارہ پر مہربان ہوا اور خداوند نےسارہ کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا۔ سارہ حاملہ ہوئی اور ابرہام کے لیے اس کے بڑھاپے میں ٹھیک خدا کے مقررہ وقت پر اس کے ہاں بیٹا ہوا۔ اور ابراہام نے اپنے اس بیٹے کا نام جو سارہ سے پیدا ہوا، اضحاق رکھا۔ اور جب اس کا بیٹا اضحاق آٹھ دن کا ہوا تب ابرہام نے خدا کے حکم کے مطابق اس کا ختنہ کیا۔ جب اس کے ہاں اس کا بیٹا اضحاق پیدا ہوا تب ابرہام 100 برس کا تھا۔ 34 سارہ کی عمر 127 برس کی ہوئی۔ اس نے ملک کنعان کے قریب (یعنی حبرون) میں وفات پائی اور ابرہام سارہ کے لیے ماتم اور نوحہ کرنے وہاں گیا۔ 35 ابرہام نے ایک اور بیوی کی جس کا نام قطورہ تھا۔ اور اس سے زمران، یقسان، مدان، مدیان، اسباق اور رسوخ پیدا ہوئے۔ 36 ابرہام کی کل عمر 175 برس کی ہوئی، تب ابرہام نے آخری سانس لی اور عین بڑھاپے میں نہایت ضعیف اور پوری عمر کا ہو کر وفات پائی اور اپنے لوگوں میں جا ملے۔ اور اس کے بیتے اضحاق اور اسماعیل نے مکفیلہ کےغار میں جو ممرے کے نزدیک حتّی صحر کے بیتے عفرون کے کھیت میں ہے، اسے دفن کیا۔ اس کھیت کو ابرہام نے حتّیوں سے خریدا تھا۔ وہیں ابرہام اور اس کی بیوی سارہ دفن ہوئے۔ 37

ابراہیم کےفضائل وخصائل

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم Alaihis Salam کو بے شمار اعلیٰ صفات اور فضائل سے ممتاز فرمایا تھا۔ آپ Alaihis Salam کی خصوصیات وکمالات بے مثال تھے ۔ 38 اللہ تعالی آپ Alaihis Salam کے اوصاف حمیدہ ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ 120 شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ 121وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ12239
بیشک ابراہیم Alaihis Salam ( تنہا ذات میں) ایک اُمت تھے، اللہ کے بڑے فرمانبردار تھے، ہر باطل سے کنارہ کش (صرف اسی کی طرف یک سُو) تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ اس (اللہ) کی نعمتوں پر شاکر تھے، اللہ نے انہیں چن (کر اپنی بارگاہ میں خاص برگزیدہ بنا) لیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما دی۔ اور ہم نے اسے دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرمائی، اور بیشک وہ آخرت میں (بھی) صالحین میں سے ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم Alaihis Salam کو اپنا خلیل بنایا۔ 40 انسانیت کے لیے اسوہ حسنہ (بہترین نمونۂ عمل) قرار دیا۔ 41 قرآن مجید نے جب آپ Alaihis Salam کا ذکر فرمایا تو آپ Alaihis Salam کو صدیقاً نبیّا ( یعنی سچے نبی) کے لقب سے یاد کیا۔ 42 مزید آپ Alaihis Salam کی مدح میں فرمایا کہ آپ Alaihis Salam بڑے متحمل مزاج، آہ و زاری کرنے والےو ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ 43 اللہ تعالیٰ نے آپ Alaihis Salam کو مختلف کلمات اور سخت امتحانات کے ذریعے آزمایا، اور آپ Alaihis Salam نے ہر آزمائش کو کامل اطاعت اور صبر کے ساتھ پورا کیا۔ 44 اسی وفاداری اور استقامت کے باعث قرآنِ کریم میں آپ Alaihis Salam کی صفتِ وفا کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ Alaihis Salam وہ ہستی ہیں جنہوں نے اللہ کے ہر حکم کی کامل اطاعت کی اور اپنے رب کے عہد کو پوری طرح نبھایا۔ 45

مذکورہ تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی حیاتِ مبارکہ توحید کی دعوت، باطل کے رد، اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد اور دینی استقامت کا ایک مکمل باب ہے۔ آپ Alaihis Salam نے قوم کی موروثی بت پرستی، نمرود کا دعویٰ خدائی، اجتماعی مخالفت، ہجرت کی مشقت اور عائلی آزمائشوں کے باوجود اپنے رب کے حکم سے انحراف نہ کیا۔ قرآنِ کریم نے اسی لیے آپ Alaihis Salam کو "صدیق نبی"، "خلیل اللہ" اور انسانیت کے لیے اسوہ قرار دیا ۔ اسی عظیم سلسلۂ توحید و ہدایت کا ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم Alaihis Salam کی دعا، دعوت اور ذریت کے باب میں خاتم الانبیاء حضرت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثت کی بشارت کے طورپربھی موجود ہے۔ یوں آپ Alaihis Salam کی سیرت صرف ماضی کی ایک جلیل القدر نبوی تاریخ نہیں بلکہ بعثتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے لیے ایک تمہیدی، روحانی اور نسبی پس منظر بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ اور اس سے متعلقہ بشارات "بشارات ابراہیم Alaihis Salam" کے مقالہ میں تفصیل سے بیان کی جائیں گی۔


  • 1  نجود فارس أحمد السردي، الحكمة في دعوة إبراهيم (رسالة الماجستير في الشريعة)، مطبوعة: جامعة النجاح الوطنية، نابلس، فلسطين، 2010م، ص: 10
  • 2  أبو جعفر محمد بن جریر الطبری، تاریخ الرسل والملوك، ج-1، مطبوعۃ: دار المعارف، القاهرة، مصر، 1967م، ص:233
  • 3  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، البداية والنهاية، ج-1، مطبوعة: دار هجر، جيزة، مصر، 1997م، ص: 325
  • 4  أبو الحسن علی بن محمد الشھیر بعز الدين ابن الاثير الجزري، الکامل فی التاریخ، ج-1، مطبوعۃ: دارالکتاب العربی، بیروت، لبنان، 1997م،ص: 86
  • 5  أبو زيد عبد الرحمن بن محمد ابن خلدون الإشبيلي، العبر وديوان المبتدأ والخبر في تاريخ العرب والبربر ومن عاصرهم من ذوي الشأن الأكبر المعروف بتاريخ ابن خلدون، ج-2، مطبوعة: دار الفكر، بيروت، لبنان، 1981م، ص: 37-36
  • 6  أيضاً، ج-2، ص: 38
  • 7  الدكتور جمال عبد الهادي محمد مسعود و الدكتورة وفاء محمد رفعت جمعة، تاريخ الأمةالمسلمة الواحدة، مطبوعة: دار الوفاء، المنصورة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 169-170
  • 8  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، تفسیر قرآن العظیم المعروف بتفسير ابن كثير، ج-5، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1419ھ، ص: 305
  • 9  أحمد أحمد غلوش، دعوة الرسل عليهم السلام، مطبوعة: مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان، 2002م، ص: 107
  • 10  القرآن، سورة الأنبياء 21: 56-51
  • 11  القرآن، سورة الأنبياء 21: 61-58
  • 12  القرآن، سورة البقرة 2: 258
  • 13  القرآن، سورة الأنبياء 21: 68-70
  • 14  محمد حفظ الرحمن سیوہاروی، قصص القرآن، ج-1،مطبوعہ: مکتبہ رحمانیہ، لاہور، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 151
  • 15  أبو الحسن علی بن محمد الشھیر بعز الدين ابن الاثير الجزري، الکامل فی التاریخ، ج-1، مطبوعۃ: دارالکتاب العربی، بیروت، لبنان، 1997م،ص: 91
  • 16  أبو عبد الله محمد بن إسمعیل البخاری، صحیح البخاری، مطبوعۃ: دار السلام، الریاض، السعودیۃ، 1999م، ص: 423
  • 17  أبو يحيى زكريا بن محمد الأنصاري، منحة الباري المسمى بتحفة الباري، ج-5، مطبوعة: مكتبة الرشد، الرياض، السعودية، 2005م، ص:392
  • 18  أبو القاسم محمود بن عمرو جار الله الزمخشري، الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل، ج-2، مطبوعۃ: دار الكتاب العربي، بيروت، لبنان، 1407ھ، ص: 561
  • 19  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، قصص الأنبياء، ج1-، مطبوعة: مطبعة دار التأليف، القاهرة، مصر، 1968م، ص: 220
  • 20  أبو زيد عبد الرحمن بن محمد ابن خلدون الإشبيلي، العبر وديوان المبتدأ والخبر في تاريخ العرب والبربر ومن عاصرهم من ذوي الشأن الأكبر المعروف بتاريخ ابن خلدون، ج-2، مطبوعة: دار الفكر، بيروت، لبنان، 1981م، ص: 43
  • 21  أبو جعفر محمد بن جریر الطبری، تاریخ الرسل والملوك، ج-1، مطبوعۃ: دار المعارف، القاهرة، مصر، 1967م، ص: 312
  • 22  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 11: 26 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 10)
  • 23  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش11: 29-30 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 10)
  • 24  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 12: 1 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 10)
  • 25  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 12: 4-6 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 10-11)
  • 26  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش12 :8-10 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 11)
  • 27  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 12: 14-16 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 11)
  • 28  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 13: 1-3 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 11)
  • 29  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش 16: 1-4 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 13)
  • 30  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش16: 15-16 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 14)
  • 31  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش17: 5 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 14)
  • 32  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش17: 15 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 14)
  • 33  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش17:19 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 14)
  • 34  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش، 21: 1-5 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 18)
  • 35  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش23: 1-2 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 20)
  • 36  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش25: 1-2 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 23)
  • 37  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش، 25: 7-10 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 23)
  • 38  أبو سيف عبد الله بن علي محمد، الخليل عليه السلام في الكتاب والسنة (رسالة ماجستير)، مطبوعة:جامعة أم القرى، مكة المكرمة، السعودية، 1977م،ص: 126
  • 39  القرآن، سورة النحل 16: 122-120
  • 40  القرآن، سورة النساء 4: 125
  • 41  القرآن، سورة الممتحنة 60: 4
  • 42  القرآن، سورة مريم 19: 41
  • 43  القرآن، سورة هود 11: 75
  • 44  القرآن، سورة البقرة 2: 124
  • 45  القرآن، سورة النجم 53: 37

Powered by Netsol Online