حضور نبیٔ کریم
کے اسمِ گرامی "محمد" کو اسلامی عقیدہ، سیرتِ طیبہ اور دلائلِ نبوت میں نمایاں اور بابرکت مقام حاصل ہے۔ یہ نام محض ایک تعارفی لفظ نہیں، بلکہ آپ
کی شانِ محمودیت، کمالِ عبدیت، رفعتِ ذکر اور عالمگیر قبولیت کا جامع عنوان ہے۔ "محمد" اس مقدس ذات کا نام ہے جس کی بار بار، مسلسل اور ہر جہت سے حمد کی گئی۔ جس کے اوصاف کو آسمانی کتابوں میں بیان کیا گیا۔ جس کی آمد کی بشارت انبیائے کرام
نے دی اور جس کے ذکر کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں رفعت عطا فرمائی۔اسی مناسبت سے سیرت، شمائل، خصائص اور دلائلِ نبوت کی کتابوں میں یہ بحث مستقل طور پر ملتی ہے کہ آیا آپ
سے پہلے عرب یا عجم میں کسی انسان کا نام "محمد" رکھا گیا تھا یا نہیں۔ بعض عبارات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ
سے پہلے کسی کا یہ نام نہ تھا، جبکہ دوسری طرف تاریخی و سیرتی مصادر میں زمانۂ جاہلیت کے چند ایسے افراد کے نام بھی ملتے ہیں جن کا نام محمد تھا۔ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ یہ نام اہل عرب میں کوئی قدیم، معروف یا کثیر الاستعمال نام نہیں تھا، بلکہ نہایت نادر و شاذ تھا۔ البتہ آپ
کی ولادتِ باسعادت کے زمانہ کے قریب، اہلِ کتاب، راہبوں اور کاہنوں کی پیش گوئیوں کے نتیجہ میں چند لوگوں نے امیدِ نبوت یا بشارتِ نبیِ آخرالزمان کے اثر سے اپنے بچوں کا نام محمد رکھا تھا۔
حضرت آدم
سے لے کر زمانۂ جاہلیت کے عام ادوار تک "محمد" نام عرب و عجم میں معروف اور رائج نام نہیں تھا۔ قدیم عربوں کے معروف ناموں میں عبد مناف، عبد العزی، حارث، مالک، زید، عمرو، عامر، سفیان وغیرہ کثرت سے استعمال ہوتے تھے، مگر "محمد" ایک معمول کا قبائلی یا خاندانی نام نہیں تھا۔ اس حوالے سے ابن قتیبہ لکھتے ہیں:
ومن أعلامه أنه لم يسم أحد قبله باسمه، صيانة من اللّٰه لاسمه، كما فعل ليحيى بن زكريا إذ لم يجعل له من قبل سميا. 1
آپ ﷺکی نبوت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ آپﷺسے پہلے کسی کا نام آپ ﷺکے نام( محمد) پر نہیں رکھا گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ بن زکریاکے ساتھ کیا کہ ان سے پہلے کسی کو اُن کا ہم نام نہیں بنایا۔
البتہ جب آخری نبی
کی آمد کا زمانہ قریب آیا اور اہلِ کتاب و راہبوں کی طرف سے اس بات کا چرچا ہونے لگا کہ ایک نبی ظاہر ہوں گے جن کا نام "محمد" ہو گا، تو بعض لوگوں نے اس امید سے اپنے بچوں کا نام"محمد" رکھا کہ شاید وہی موعود نبی ہوں۔ اسی حوالہ سے قاضی عیاض مالکی
لکھتے ہیں:
...فحقيق أن يسمى محمدا وأحمد ثم في هذين الاسمين من عجائب خصائصه وبدائع آياته فن آخر هو إن اللّٰه جل اسمه حمى أن يمسى بهما أحد قبل زمانه أما أحمد الذي أتى في الكتب وبشرت به الأنبياء فمنع اللّٰه تعالى بحكمته أن يسمى به أحد غيره ولا يدعى به مدعو قبله حتى لا يدخل لبس على ضعيف القلب أو شك وكذلك محمد أيضا لم يسم به أحد من العرب ولا غيرهم إلى أن شاع قبيل وجوده صلى اللّٰه عليه وسلم وميلاده أن نبيا يبعث اسمه محمد فسمى قوم قليل من العرب أبناءهم بذلك...3
پس یہ نہایت موزوں تھا کہ آپ ﷺ کا نام محمد اور احمد رکھا جائے۔پھر ان دونوں ناموں میں آپ ﷺ کی عجیب خصوصیات اور بدیع نشانیوں کا ایک اور مستقل پہلو بھی ہے، اور وہ یہ کہ اللہ جلّ شانہٗ نے آپ ﷺ کے زمانے سے پہلے کسی کو بھی ان دونوں ناموں سے موسوم ہونے سے محروم رکھا۔چنانچہ احمد وہ نام ہے جو سابقہ آسمانی کتابوں میں آیا تھا اور جس کے ذریعے انبیائے کرامنے آپ ﷺ کی بشارت دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے یہ بات روک دی کہ آپ ﷺ کے سوا کسی اور کا نام احمد رکھا جائے، یا آپ ﷺ سے پہلے کوئی اس نام سے پکارا جائے، تاکہ کمزور دل لوگوں کے لیے کسی قسم کا اشتباہ یا شک پیدا نہ ہو۔اسی طرح "محمد" نام بھی آپ ﷺ سے پہلے نہ عربوں میں کسی کا رکھا گیا تھا اور نہ غیر عربوں میں۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری اور ولادتِ مبارکہ کے قریب یہ بات مشہور ہونے لگی کہ ایک نبی مبعوث ہونے والے ہیں جن کا نام محمد (ﷺ) ہوگا۔ اس خبر کے پھیلنے کے بعد عرب کے چند لوگوں نے اپنے بیٹوں کے نام"محمد" رکھ دیے۔
اما م سہیلی فرماتے ہیں:
قال المؤلف لا يعرف في العرب من تسمى بهذا الاسم قبله - صلى اللّٰه عليه وسلم - إلا ثلاثة طمع آباؤهم - حين سمعوا بذكر محمد - صلى اللّٰه عليه وسلم - وبقرب زمانه وأنه يبعث في الحجاز - أن يكون ولدا لهم. ذكرهم ابن فورك في كتاب الفصول وهم محمد بن سفيان بن مجاشع، جد جد الفرزدق الشاعر والآخر محمد بن أحيحة بن الجلاح بن الحريش بن جمحى بن كلفة بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالك بن الأوس، والآخرمحمد بن حمران بن ربيعة، وكان آباء هؤلاء الثلاثة قد وفدوا على بعض الملوك وكان عنده علم من الكتاب الأول فأخبرهم بمبعث النبي - صلى اللّٰه عليه وسلم - وباسمه وكان كل واحد منهم قد خلف امرأته حاملا، فنذر كل واحد منهم إن ولد له ذكر أن يسميه محمدا، ففعلوا ذلك. 3
مؤلف فرماتے ہیں کہ عربوں میں رسول اللہ ﷺ سے پہلے اس نام یعنی "محمد" سے موسوم ہونے والے صرف تین افراد معروف ہیں۔ ان کے باپوں نے، جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر سنا، آپ ﷺ کے زمانۂ بعثت کے قریب ہونے کی خبر پائی، اور یہ معلوم کیا کہ آپ ﷺ حجاز میں مبعوث ہوں گے، تو یہ امید کی کہ شاید وہ نبی ان ہی کے ہاں پیدا ہونے والا بیٹا ہو۔ ابن فورک نے اپنی کتاب"الفصول" میں ان تین افراد کا ذکر کیا ہے:ایک محمد بن سفیان بن مجاشع ہیں جو فرزدق (شاعر) کے پردادا کے دادا تھے۔دوسرے محمد بن اُحیحہ بن الجلاح بن الحریش بن جمحی بن کلفہ بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن الاوس ہیں۔ اور تیسرے محمد بن حُمران بن ربیعہ ہیں۔ان تینوں کے باپ بعض بادشاہوں کے پاس وفد کی صورت میں گئے تھے۔ اس بادشاہ کے پاس پہلی آسمانی کتابوں کا علم موجود تھا، چنانچہ اس نے انہیں نبی ﷺ کی بعثت اور آپ ﷺ کے نام کے بارے میں خبر دی۔ ان میں سے ہر شخص اپنی بیوی کو حاملہ چھوڑ کر آیا تھا، پس ہر ایک نے نذر مانی کہ اگر اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو وہ اس کا نام محمد رکھے گا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
ان اقتباسات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت آدم
سے لے کر زمانۂ جاہلیت کے عام ادوار تک اسم "محمد"عرب و عجم میں معروف و مروّج نام نہیں تھا۔ جب آخری نبی ﷺ کی آمد کا زمانہ قریب آیا اور اہلِ کتاب و راہبوں کی طرف سے یہ بات مشہور ہوئی کہ ایک نبی ظاہر ہوں گے جن کا نام"محمد" ہو گا، تو بعض لوگوں نے اس امید سے اپنے بچوں کا نام "محمد" رکھا کہ شاید وہی موعود نبی ہوں۔ ان افراد میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا، نہ کسی نے ان کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا، اور نہ ان میں نبوت کی ایسی علامات ظاہر ہوئیں جن سے لوگوں کو اشتباہ پیدا ہوتا۔
امام مقریزی
نے اس تعداد میں اضافہ کرکے ان کی تعداد کو 6 بتایا ہے 4 جبکہ اما م صالحی شامی
کے نزدیک یہ افراد لگ بھگ20 تھے۔ 5لیکن اس حوالے سے سب سے مضبوط قول ابن حجر
کا ہے جن کے نزدیک یہ افراد کُل 15 تھے جن کے اسماء درج ذیل ہیں:
ابن حجر نے جو فہرست مرتب کی ہے اس میں ان اشخاص کا ذکر ہے جو نبی کریم
کی ولادت سے پہلے پیدا ہوئے اور ان کا نام ”محمد“ رکھا گیا۔ اسی وجہ سے محمد بن مسلمہ الانصاری اور محمد بن ربیعہ اس فہرست میں شامل نہیں۔
مذکورہ بالا اسماء کی فہرست سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کُل ملا کر وہ اشخاص جن کا نام نبی کریم
کی بعثت سے پہلے محمد تھا، ان کی تعداد 15 سے20 کے درمیان تھی۔ ان میں سے 2 اشخاص ایسے ہیں جن کو صحابیت کا شرف بھی نصیب ہوا۔ ان میں سے ایک محمد بن مسلمہ انصاری
تھے جو نبی کریم
کی ولادت کے بعد پیدا ہوئے 7اور اسلام حضرت مصعب ابن عمیر
کے ہاتھوں پر قبول فرمایا 8جبکہ دوسرے محمد ابن ربیعۃ
تھے جنہوں نے بعد میں اسلام قبول فرمایا۔ 9
ان اقوال اور تاریخی شواہد سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسمِ گرامی "محمد" آپ
کی ولادت سے پہلے عرب معاشرے میں معروف یا مروج نام نہیں تھا۔ اگرچہ بعض سیرت نگاروں، محدثین اور مؤرخین نے زمانۂ جاہلیت کے چند ایسے افراد کا ذکر کیا ہے جن کا نام محمد تھا، لیکن ان کی تعداد بہت محدود، ان کا ذکر متفرق، اور ان کی شہرت نہایت کم تھی اور ان میں سے کسی نے بھی اعلان نبوت نہیں کیا تھا اور ناہی کسی نے منسب نبوت کاانتساب ان کی طرف کیا۔