encyclopedia

بشاراتِ حضرت آدم علیہ السلام

Published on: 21-May-2026

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم Alaihis Salam پر جو صحیفہ نازل فرمایا تھا وہ صدیوں پہلے مفقود ہوچکا ہے۔ نا کسی کے پاس وہ صحیفہ محفوظ ہے اور نہ ہی کُتب سماویہ میں اس کا کوئی حصہ شامل ہے ۔ حضرت موسیٰ Alaihis Salam نے اپنے صحیفہ میں حضرت آدم Alaihis Salam سے متعلق جو بیانات درج کیے ہیں، وہ بھی حضرت آدم Alaihis Salam کے اپنے الفاظ میں منقول نہیں، بلکہ بیان موسوی کی صورت میں ہیں۔ لہٰذا توریت میں حضرت آدم Alaihis Salam کے جو اقوال مذکور ہیں، ان کی حیثیت وہی ہے جو دیگر احکام وشرائع اور قصص و حکایات کو حاصل ہے۔ اگرچہ اصل صحیفۂ آدم Alaihis Salam کا متن آج موجود نہیں، تاہم اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم Alaihis Salam پر ایک صحیفہ نازل فرمایا، جس میں عقائد، احکام اور شریعتِ الٰہیہ کے بنیادی اصول مذکور تھے۔ وہب بن منبہRehmatullah Alaih فرماتے ہیں کہ حضرت آدم Alaihis Salam پر 2 صحیفے نازل ہوئے تھے،ایک جنّت میں اور ایک جبل لبنان میں۔ 1 ابن قتیبہ Rehmatullah Alaih فرماتے ہیں کہ حضرت آدم Alaihis Salam پر نازل ہونے والا صحیفہ دنیا کی پہلی کتاب ہے جس میں مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح حروفِ تہجی بھی ان پر اتارے گئے، جو 21 اوراق پر مشتمل تھے۔2 قرآنِ کریم میں بھی سابقہ انبیاء کرام Alaihmus Salam پر نزولِ صحائف کا ذکر صریح الفاظ میں موجود ہے:

وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ 1963
اوربیشک یہ پہلی امتوں کے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہے۔

تمام متقدّمین و متأخّرین مفسّرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیتِ کریمہ سے مراد وہ صحائف ہیں جو اللہ تعالیٰ نے گذشتہ انبیاء و رُسل Alaihmus Salam پر نازل فرمائے ہیں ۔ امام طبری Rehmatullah Alaih اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں بیان کردہ حقائق، احکام اور واقعات میں سے بہت سی چیزیں وہ ہیں جو سابقہ صحیفوں میں بھی مذکور رہی ہیں۔ اگرچہ آیت کا ظاہر عموم پر دلالت کرتا ہے، تاہم اس کا مفہوم خاص ہے، یعنی قرآن کے تمام احکام اور تمام واقعات سابقہ کُتب میں مذکور نہیں، بلکہ ان میں سے بعض کا ذکر ان صحائف میں آیا ہے۔ 4 ان سابقہ صحائف کے ضمن میں صحیفۂ آدم کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔

اسفارآدم وحواء Alaihmas Salam سے متعلق غلط فہمی کا اِزالہ

یہود کی قدیم مرویات اور مابعد الاسفار کی روایات میں ایک تصنیف "اسفارآدم وحواء" کے نام سے منسوب ملتی ہے، جس میں حضرتِ آدم اور حضرت حوّا Alaihmas Salam کے جنّت سے خروج، زمین پر زندگی، توبہ اور نسلِ انسانی کے آغاز سے متعلق متعدد حکایات و تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔تاہم، محققین کے نزدیک یہ کتاب اِلہامی و آسمانی صحائف کی زمرے میں شامل نہیں ہے۔ یہودی علماء ا س کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ غیر قانونی اور غیر مستند صحیفہ یہودیوں نے سقوطِ یروشلم سے قبل سن 70 عیسوی میں آرامی زبان میں لکھا تھا، آج بھی اس کے کچھ حصّے مختلف تراجم میں موجود ہیں۔ یہ صحیفہ یونانی ترجمہ میں "رؤیا موسیٰ " یعنی موسیٰ Alaihis Salam کے خواب کے نام سے جانا جاتا ہے،لیکن یہ نسبت غلط ہے۔اگر ان تراجم کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں عیسائیوں نے اضافےبھی کیے ہیں، اور آدم و حواء Alaihmas Salam کے متعلق خیالی واقعات وتشریحات بھی اس میں لکھی گئی ہیں۔5 یہ صحیفہ اگرچہ بعض لحاظ سے اخلاقی و تمثیلی مضامین رکھتا ہے، مگر اسے حضرتِ آدم Alaihis Salam پر نازل شدہ اصل صحیفے سے منسوب کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اِس لیے یہاں ان بشارات کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو اسفار توریت یا اناجیل میں آدم Alaihis Salam کے واقعات اور قصص کے ضمن میں مذکور ہیں۔

پہلی بشارت

تورات کے سفرِپیدائش میں حضرت آدم Alaihis Salam سے متعلق ایک بشارت بھی وارد ہے جسے بشاراتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam میں اولین بشارت کاشرف بھی حاصل ہے۔ اس بشارت کا مصداق حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ذات طیبہ کے علاوہ تاریخ میں کوئی دوسری ہستی ہوہی نہیں سکتی۔ اگرچہ مسیحی حضرات اس بشارت کا مصداق حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کی ذات کو ٹھہرا نے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اس بشارت کی عبارت اور تشریح، واقعات وحالات کی روشنی میں پڑھ کر ایک صاحب ِعلم ودانش آسانی سے فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کا مصداق رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہی ہیں۔چنانچہ سفر تکوین میں ہے:

فقال الرب الإله للحية: لأنك فعلت هذا، ملعونة أنت من جميع البهائم ومن جميع وحوش البرية، على بطنك تسعين وترابا تأكلين كل أيام خيانتك. وأضع عداوة بينك وبين المرأة، وبين نسلك ونسلها، هو يسحق رأسك، وأنت تسحقين عقبه . 6
تب خداوند نے سانپ سے کہا اِس لیے کہ تُو نے یہ کیا تُو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں ملعون ٹھہرا، تُو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور اپنی عمر بھر خاک چاٹے گا۔ اور میں تیرےاور عورت کےدرمیان اورتیری نسل اور عورت کی نسل کےدرمیان عداوت ڈالوں گا۔ وہ تیرےسرکو کچلے گا اور تو اس کی ایڑی پر کاٹے گا۔

سانپ سے مراد یہاں شیطان ہے۔ اور عبارت (هو يسحق رأسك، وأنت تسحقين عقبه) کا مطلب یہ ہے کہ وہ (عورت کی نسل میں سے) تیرا سر کچلے گا اور تو (خطاب شیطان کو ہے) اس کی ایڑی پر کاٹے گا۔ عیسائی علماء یہاں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کا مصداق حضرت عیسیٰ Alaihis Salam ہیں جو حضرت مریم Alaihas Salam کے بیٹے ہیں، اور انہوں نے ہی شیطان کا سر کچلا۔7 تفسیر تطبیقی میں لکھتے ہیں:

وعبارة "وأنت تلدغين عقبه" تشير إلى محاولات الشيطان المتكررة؛ ليهزم المسيح في أثناء حياته على الأرض. و"هو يسحق رأسك" نبوة عن هزيمة الشيطان عندما قام المسيح من الأموات. 8
اور یہ عبارت "اور تو اس کی ایڑی پر ڈسے گا" اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شیطان نے بار بار کوشش کی کہ زمین پر مسیح کی زندگی کے دوران اسے مغلوب کر دے۔ اور یہ جملہ"وہ تیرے سر کو کچل دے گا" اس بات کی پیشین گوئی ہے کہ جب مسیح مُردوں میں سے جی اٹھے گا تو اس وقت شیطان کو شکست ہوگی۔

عیسائی علماء اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam نے خود کو قربان کرکے اپنی قربانی سے شیطان کا سرکچل دیا، اور یوں حضرت آدم Alaihis Salam کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ بلکہ یہ ان کا عقیدہ ہے جو انہوں نے پولس رسول کے خطوط سے اخذکیا ہے ۔ چنانچہ پولس رسول عبرانیوں کے نام اپنے خط میں لکھتا ہے کہ جس طرح انسان کا ایک بار مرنا اور اس کے بعد عدالت کو ہونا مقرر ہے اسی طرح مسیح بھی بہت سے لوگوں کے گناہ اٹھالے جانے کے لیے ایک ہی بار قربان ہو کر دوسری بار گناہ کی قربانی دینے کے لیے نہیں بلکہ ان کو نجات دینے کے لیے آئے گا جو اس کے انتظار میں ہیں۔9 عیسائی علماء کے نزدیک، یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کی قربانی کو دنیا کی نجات اور شیطان کی شکست کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس لیے ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کی قربانی اصل میں شیطان کو ہرانے کے مترادف ہے۔

لیکن اگر اس تشریح کو حقائق کی روشنی میں پرکھا جائے تو ہر صاحب علم اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ دراصل خرافات اور بے بنیاد دعوؤں کا مجموعہ ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ وہ واقعہ جسے عیسائی حضرات قربانی کہہ کر اپنے عقائد کی بنیاد بناتے ہیں، وہی حقیقت میں ان کے لیے مبہم اور مشتبہ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کا اصل علم انہیں کبھی حاصل ہی نہیں ہوا، بلکہ وہ صرف قیاس و خیال پر ایمان رکھتے ہیں۔قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

...وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا 157 بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ... 15810
۔۔۔ انہوں نے نہ ان (عیسیٰ Alaihis Salam) کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لئے (کسی کو عیسٰی Alaihis Salam کا) ہم شکل بنا دیا گیا، اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں)، اور انہوں نے عیسٰی ( Alaihis Salam) کو یقیناً قتل نہیں کیا۔بلکہ اﷲ نے انہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا۔۔۔

دوسری بات یہ ہے کہ عیسائی علماء کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam نے شیطان کا سر کچل کر اسے ہلاک کر دیا، کیونکہ ان کے نزدیک سر کچلنا ہلاک کرنے کے مترادف ہے۔11 جبکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔ خود اناجیل کی تصریحات کے مطابق حضرت عیسیٰ Alaihis Salam نے ہرگز شیطان کا سر نہیں کچلا۔چنانچہ انجیل متی میں ہے کہ یسوع نے مڑکر پطرس سے کہا: اے شیطان! میرے سامنے سے دور ہو جا، تو میرے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔تجھے خدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمیوں کی باتوں کا خیال ہے۔ 12 اور انجیل یوحنا میں تو صراحت کے ساتھ یہ مذکور ہے کہ شیطان ان کے درمیان یہوداہ ا اسکریوتی کی صورت میں موجود رہا۔ چنانچہ یوحنا کہتے ہیں کہ یسوع نےفرمایا : میں نے تم 12 کو چن تو لیا ہے لیکن تم میں سے ایک شیطان ہے۔ اس کا مصداق شمعون اسکریوتی کا بیٹا یہوداہ تھا جو ان 12 میں شامل ہونے کے باوجود یسوع کو پکڑوانے کو تھا۔ 13 اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam نے شیطان کو جسمانی طور پر شکست نہیں دی، کیونکہ شیطان ابتدا سے ہی انسان کا دشمن رہا ہے، خاص طور پر اللہ کے نیک بندوں اور انبیائے کرام Alaihmus Salamکا۔ ہر دور میں شیطان نے انہیں آزمائشوں اور تکالیف میں مبتلا کیا، اور حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کی مخالفت بھی اس کی فطرت کا حصّہ رہی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ نہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam نے شیطان کو مارا، اور نہ ہی بائبل میں کہیں اس کا کوئی ذکر موجود ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ اس من گھڑت عقیدے کو بنانے اور عام کرنے والا پولس رسول ہے، اور عیسائی علماء بالعموم اسی کی نصوص اور خطوط کی بنیاد پر استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کی قربانی شیطان کے سر کچلنے کے مترادف ہے اور تمام گناہوں کا کفارہ ہے۔چنانچہ گلتیوں کے نام خط میں لکھتا ہے: لیکن جب وقت پورا ہوگیا تو خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے ماتحت پیدا ہوا۔تاکہ انہیں جو شریعت کے ماتحت ہیں خریدکر چھڑائے اور ہم متبنی فرزند ہونے کا درجہ پائیں۔ 14 اسی طرح عبرانیوں کے نام خط میں لکھتا ہے: جس طرح انسان کا ایک بار مرنا اور اس کے بعد عدالت کو ہونا مقرر ہے اسی طرح مسیح بھی بہت سے لوگوں کے گناہ اٹھالے جانے کے لیے ایک ہی بار قربان ہو کر دوسری بار گناہ کی قربانی دینے کے لیے نہیں بلکہ ان کو نجات دینے کے لیے آئے گا جو اس کے انتظار میں ہیں۔15

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پولس کا شمار خود محرف اول میں ہوتا ہے ، کیونکہ پولس نہ تو حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کا حواری تھااور نہ ہی حواریوں کا دوست ، بلکہ پولس کا اصل نام ساؤل تھا اور یہودیت کا پیروکار تھا۔ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کے بعد ان کے حواریوں کے کا کٹر دشمن تھالیکن بعد میں اس نے عجیب وغریب قسم کے دعوے کیے اور یہودیت کو چھوڑکر مسیحی ہوگیا۔ کچھ عرصہ برناباس حواری کی تصدیق کے بعد تمام حواریوں اور عیسائیوں نے اس پر اعتماد کیااور اپنی عام مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نےاپنی مرضی کے مطابق نصرانیت کی تشریحات اور تاویلات پیش کرنا شروع کردیں اور یہی تشریحات موجودہ تحریف شدہ نصرانیت کے بنیادی عقائد واحکام قرار پائے ۔ اس کی تشریحات وتاویلات کے ضمن میں اس کے خطوط اور رسائل بھی شمار ہوتے ہیں ۔ لہٰذا اس کی عبارات نہ تو حجت بن سکتی ہیں، اور نہ ہی اس میں صحت کا کوئی پہلو نظر آتا ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ عیسائی علماء کا یہ دعویٰ اس وقت صحیح ہوتا کہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam یہ فرماتے کہ حضرت موسیٰ Alaihis Salam نے سفر پیدائش میں میرےمتعلق یہ بشارت دی تھی ، یا وہ فرماتے کہ حضرت موسیٰ Alaihis Salam کی بشارت میرے علاوہ کسی اور نبی کے بارے میں نہیں تھی 16 لیکن آپ سے ایسی کوئی بات منقول نہیں ہے ۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ سفرِ پیدائش کی اس بشارت کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت کُھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اس کے حقیقی مصداق رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں جن کی ذاتِ مقدسہ نے اپنے صحابہ کرام کو گناہوں سے اس قدر نفرت دلادی کہ وہ گناہ سے یا باالفاظ دیگر گناہ کی رغبت دلانے والے شیطان سے ہمیشہ کے لیے بیزار ہوگئے، اور یوں شراب، جوا، چوری، ڈاکہ، زنا اور جھوٹ وغیرہ تمام بُری عادتوں کو ترک کر کے آئندہ آنے والوں کے لیے ایسی نیکی، پارسائی، اخوت، پیار ومحبت، عبادت وریاضت اور بھائی چارے کی زندہ عملی مثالیں چھوڑ گئے جن پر تاریخِ عالم اور تاریخِ اِسلام کو ہی نہیں بلکہ تاریخِ انسانیت کو فخر وناز رہے گا۔ یہ وہ جاں نثارانِ مصطفیٰ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam تھے جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اس کے رسولِ مقبول Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اور اللہ کے تمام پیغمبروں کی ایسی محبت موجزن تھی جس نے حقیقی معنوں میں شیطان کاسرکچل کررکھ دیا۔ بلکہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے شیطان کی مایوسی اور مغلوبیت کا واضح طور پراعلان فرمادیا ہے ۔ حضرت جابر Rehmatullah Alaih سے مروی ہے کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا:

قد ‌يئس ‌الشيطان أن يعبده المسلمون، ولكن في التحريش بينهم . 17
شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ مسلمان اس کی عبادت کریں، لیکن وہ ان کے درمیان باہمی عداوت اور اختلاف ڈالنے (یعنی ایک دوسرے کو بھڑکانے) میں لگا رہے گا۔

خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر بھی رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے یہ اعلان فرمادیاتھا کہ شیطان اس وقت سر زمین پر مغلو ب ہوچکا ہے۔ چنانچہ ابن عباس Radi Allah Anhuma سے مروی ہے کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے خطبہ حجۃ الوداع میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:بے شک شیطان مایوس ہوگیا کہ تمہاری زمین پر وہ پوجا جائے لیکن اس بات سے خوش ہوگیا کہ جن اعمال کو تم حقیر جانتے ہو ان میں اس کی اطاعت ہو، اے لوگوں خبردار ہوجاؤ! میں نے تم میں ایسی چیز چھوڑی ہے اگر تم نے اس کو مضبوطی سے تھام لیا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے، کتاب اللہ(قرآن) اور رسول اللہ(Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam) کی سنت۔ 18 اس سلسلے میں سیّدنا عمر فاروق Radi Allah Anho کی مثال ہمارے سامنے ہے جن کو سرکارِ دوعالم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallamنے مخاطب کر کے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!جب بھی شیطان تجھے کسی راستے پر چلتا ہوا دیکھتا ہے، تو وہ اس راستے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔19 قرآنِ کریم میں ارشاد ِخداوندی ہے۔

قَالَ هَذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ 41 إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ4220
اللہ نے ارشاد فرمایا: یہ (اخلاص ہی) راستہ ہے جو سیدھا میرے در پر آتا ہے، بیشک میرے (اخلاص یافتہ) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بھٹکے ہوؤں کے جنہوں نے تیری راہ اختیار کی۔

یعنی حقیقی معنی میں جس پیغمبرنے شیطان کا سر کچلا ہے وہ حضرت محمد مصطفیٰ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں۔ امام ازرقی Rehmatullah Alaih نقل کرتے ہیں کہ ابلیس نے تین مرتبہ چیخ ماری: پہلی مرتبہ جب اسے لعنت کا مستحق قرار دیا گیا اور فرشتوں کی صورت سے اس کی شکل وشباہت بدل دی گئی۔ دوسری مرتبہ جب اس نے رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو مکہ میں کھڑا نماز پڑھتے دیکھا۔ اور تیسری مرتبہ جب رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے مکہ فتح کیا۔ اس موقع پر ابلیس نے اپنی ذرّیت کو جمع کر کے کہا: اب تم مایوس ہو جاؤ، کیونکہ آج کے بعد تم کبھی بھی امت محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو شرک کی طرف واپس نہیں لا سکتے۔21

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نےاپنے تمام پیغمبروں کو شیطان اور طاغوتی قوتوں پرغلبہ عطا فرمایا تھا لیکن ان کا معاملہ ان کے امّتیوں سے بالکل جدا ہے۔کیونکہ انبیاءAlaihmus Salam کے دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد ان کی اُمتوں نے اپنے پیغمبروں کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کردوبارہ شیطان کے راستے کو اختیار کرلیا تھا۔ مذکورہ بالا بحث سے یہ حقیقت نہایت وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا شیطان پر غلبہ محض روحانی یا انفرادی امر نہیں بلکہ تشریعی اور عالمگیر حقیقت بھی ہے۔قرآنِ مجید کی نصوص اور احادیثِ نبویہ سے یہ امر متحقق ہوتا ہے کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو اللہ تعالیٰ نے کامل عصمت، حفاظت اور تسدیدِ ربانی عطا فرمائی، جس کے نتیجے میں شیطان کو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پر کوئی سبیل حاصل نہ ہو سکی۔

دوسری بشارت

حضرت آدم Alaihis Salam کے حوالے سے ایک بشارت انجیلِ برناباس میں بھی مذکور ہے۔ اس بشارت کو نقل کرنے سے قبل انجیلِ برناباس کا مختصر تعارف پیش کرنا مناسب ہے، تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ انجیلِ برناباس بھی وحیِ الٰہی سے ماخوذ ایک کتاب ہے۔

حضرت ِبرناباس اور ان کی انجیل

برناباس حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کے حواریوں میں سے تھے۔ ان کے بارے میں لوقا نے سفرِ اعمال میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

یوسف ایک لاوی تھا، جو قبرص کا باشندہ تھا۔ اسے رسولوں نے برناباس کا نام دیا جس کا مطلب ہے نصیحت کا بیٹا۔ اس نے اپنا کھیت بھیچااور قیمت لا کر رسولوں کے قدموں میں رکھ دی۔ 22

لوقا کے اس قول سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ برناباس حواریوں میں بلند مقام کے حامل تھے، اور اسی وجہ سے حواریوں نے ان کا نام نصیحت کا بیٹا رکھ دیا تھا۔ دوسری یہ کہ انہوں نے خدا کی رضا جوئی کی خاطر اپنی ساری دنیوی پونجی تبلیغی مقاصد کے لیے صرف کر دی تھی۔

برناباس نے دیگر حواریوں کی طرح حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کے اقوال و افعال نقل کر کے انجیل مرتب کی، جس کا تذکرہ قدیم مسیحی روایات میں گمشدہ کتاب کی حیثیت سے ملتا ہے۔لیکن اٹھارویں صدی کے آغاز میں شاہِ یروشیا کے ایک مشیر جے۔ ایف۔ کریمر (J. F. Cramer) کوایمسٹرڈم کے مقام پر اطالوی زبان کی ایک کتاب ہاتھ لگی جس پر لکھا تھا کہ یہ حواری برناباس کی انجیل ہے۔ 1709ء میں کریمرنے یہ نسخہ جان ٹولینڈ (John Toland) کو مستعار دیا۔ چار سال بعد، یعنی 1713ء میں کریمر نے یہ قیمتی نسخہ نامور ماہرِ فن پرنس یوجین آف ساوائے (Prince Eugene of Savoy) کو پیش کر دیا۔بعد ازاں، 1738ء میں یہ نسخہ اس شہزادے کی باقی لائبریری کے ساتھ ویانا کی شاہی لائبریری (Hofbibliothek) میں منتقل ہو گیا، جہاں اب تک محفوظ ہے۔23

اٹھارہویں صدی سے قبل اس نسخے کے بارے میں کوئی یقینی سراغ نہیں ملتا ۔ البتہ ہسپانوی زبان میں ایک اور نسخہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اطالوی نسخے کا ترجمہ ہے۔ ہسپانوی نسخے (Spanish Version) کومشہور مستشرق جارج سیل(George Sale) نے 1734ءمیں دیکھا تھا، اس کے دیباچے میں ایک مبہم سا حوالہ ملتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہےکہ اطالوی نسخہ سولہویں صدی کے اواخر میں موجود تھا۔ جارج سیل(George Sale) لکھتے ہیں:ہسپانوی نسخے کا ترجمہ اطالوی زبان میں اراگون(Aragon) کے ایک مسلمان شخص مصطفیٰ عرندی نے کیا ہے۔ اس دیباچے میں اصل نسخہ دریافت کرنے والے شخص کا بھی ذکر ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سولہویں صدی کے اختتام پر ایک لاطینی راہب فرا مارینو (Fra Marino) کو اتفاقاً آرینوس بشپ (Irenaeus) کی ایک تحریر ملی، جس میں انہوں نے پولس رسول (St. Paul) پر سخت تنقید کرتے ہوئے انجیلِ برناباس کا حوالہ دیا تھا۔ یہ دیکھ کر لاطینی راہب کے دل میں اس انجیل کو تلاش کرنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد اسے اس زمانے کےپوپ سکسٹس پنجم (Pope Sixtus V) سے واقفیت ہوگئی۔ ایک دن جب وہ دونوں پوپ کےکتب خانے میں موجود تھے کہ پوپ کو نیند آگئی۔ اس دوران وقت گزاری کے لیے راہب نے کتابیں دیکھنی شروع کیں، اتفاق سے جو پہلی کتاب اس کے ہاتھ لگی وہی انجیلِ برناباس تھی جس کی وہ جستجو میں تھا۔راہب اسے دیکھ کر بے حد خوش ہوا، اور اسے آستین میں چھپا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ 24 خلاصہ کلام یہ کہ انجیلِ برناباس کا اطالوی نسخہ پوپ سکسٹس پنجم کے زمانے یعنی 1585ء میں موجود تھا اور یہ کوئی مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتاب نہیں ہے بلکہ حضرت عیسیٰ Alaihis Salam کےحواریوں مین سے ہی ایک حواری کی بائبل جس میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد مبارکہ کے حوالے سے بشارات موجود ہیں۔

انجیل برناباس میں موجود بشارت

اسی انجیل برناباس میں حضرت آدم Alaihis Salam کے حوالے سے بشارتِ نبوی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam وارد ہے جس کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:

فلما انتصب آدم على قدميه رأى في الهواء كتابة تتألق كالشمس، نصها: لا إله إلا اللّٰه ومحمد رسول اللّٰه، ففتح حينئذ آدم فاه. وقال: أشكرك أيها الرب إلهي لأنك تفضلت فخلقتني. ولكن أضرع إليك أن تنبأني ما معنى هذه الكلمات: محمد رسول اللّٰه؟ فأجاب اللّٰه: مرحبا بك يا عبدي آدم. وإني أقول لك: إنك أول إنسان خلقت. وهذا الذي رأيته إنما هو ابنك الذي سيأتي إلى العالم بعد الآن بسنين عديدة. وسيكون رسولي الذي لأجله خلقت كل الأشياء. الذي متى جاء سيعطي نورا للعالم. الذي كانت نفسه موضوعة في بهاء سماوي ستين ألف سنة قبل أن أخلق شيئا. 25
جب آدم( Alaihis Salam ) اپنے پیروں پر کھڑا ہوا، تو اس نے فضا میں ایک تحریر دیکھی جو سورج کی طرح چمک رہی تھی۔جس کی عبارت تھی: لا إله إلا الله، محمد رسول الله،تب آدم( Alaihis Salam ) نے اپنا منہ کھولا اور کہا: اے میرے رب ! میرے خدا! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھ پر فضل کیا اور مجھے پیدا کیا۔ مگر میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو مجھے خبردے کہ ان کلمات محمد رسول اللہ کے کیا معنی ہے ؟ تب اللہ تعالیٰ نے جواب دیا : مرحبا ہے تجھ کو اے میرے بندے آدم!میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو پہلا انسان ہے جسے میں نے پیدا کیا۔ اور یہ جس کو تم نے دیکھا تیرا بیٹا ہے جو اس وقت سے بہت سے سال بعد دنیا میں آئے گا۔ وہ میرا ایسا رسول ہوگا، جس کے لیے میں نے تمام چیزیں پیدا کی ہیں۔اور وہ رسول جب آئے گا تو دنیا کو نور بخشے گا۔ یہ وہ نبی ہے جس کی روح میرا کچھ پیدا کرنے سے 60 ہزار سال قبل آسمانی روشنی میں رکھی گئی ہے۔

اس عبارت سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد کی بشارت آغازِ نسلِ انسانی سےہی دی جا چکی تھی۔ اس بشارت میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بارے میں تین اہم نکات بیان کیے گئے ہیں جو اس بشارت کی صداقت اور عظمت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam تمام انسانوں کے لیے رسول ہیں۔ دوسرا یہ کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی نبوت تخلیقِ انسانیت سے قبل ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرّر تھی۔ اور تیسرا یہ کہ تمام مخلوقات آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے واسطے پیدا کی گئی ہیں۔ یوں یہ تین بنیادی حقائق نہ صرف بشارت کی توقیر کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ قرآن و احادیث سے اس کی تائید وتوثیق بھی ہوتی ہے۔

پہلا نکتہ : آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam تمام انسانوں کے لیے رسول ہیں اس کے حوالے سے قرآن کریم میں ارشادِ خداوندی ہے:

قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ... 15826
آپ (Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ) فرما دیں: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول (بن کر آیا) ہوں۔۔ ۔

اور حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری Radi Allah Anho سےمروی ہے کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا:

…كان كل نبي يبعث إلى قومه خاصة، وبعثت ‌إلى ‌كل ‌أحمر ‌وأسود…27
ہر نبی خاص اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے ہر سرخ و سیاہ(تمام انسانوں) کی طرف بھیجا گیا۔

دوسرا نکتہ: آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی نبوت تخلیقِ انسانیت سے قبل ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرّر تھی۔ اگرچہ قرآن کریم میں اس کا صریح ذکر موجود نہیں، تاہم متعدد صحیح احادیث اس کی تصدیق وتائید کرتی ہیں۔ چنانچہ امام ترمذیRehmatullah Alaih حضرت ابو ہریرہ Radi Allah Anho سے نقل کرتے ہیں:

قال: قالوا يا رسول اللّٰه، متى وجبت لك النبوة؟ قال: وآدم ‌بين ‌الروح ‌والجسد. 28
فرماتے ہیں کہ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول(Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam )! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ(Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam )نے فرمایا: جب آدم Alaihis Salam روح اور جسم کے درمیان تھے۔

تیسرا نکتہ: تمام مخلوقات آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے واسطے پیدا کی گئی ہیں۔اس کی تائید وتوثیق بھی کئی احادیث سے ہوتی ہے۔ امام دیلمی حضرت عبدا للہ بن عباس Radi Allah Anhuma سے حدیث قدسی نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

يقول اللّٰه عز وجل: وعزتي وجلالي ‌لولاك ‌ما ‌خلقت الجنة ولولاك ما خلقت الدنيا. 29
اللہ تعالیٰ (رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو خطاب کرتے ہوئے )فرماتا ہے: میری عزت وجلال کی قسم! اگر تم نہ ہوتے میں جنت کو نہ پیدا کرتا، اور اگر تم نہ ہوتے ، میں جہنم کو نہ بناتا۔

ابن حجر عسقلانی زہر الفردوس میں اس حدیث کو سند کے ساتھ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نےارشاد فرمایا: میرے پاس جبرئیل ( Alaihis Salam ) تشریف لائے اور کہا : اے محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ! اگر آپ نہ ہوتے تو جنت پیدا نہ کی جاتی، اور اگرآپ نہ ہوتے تو جہنم پیدا نہ کی جاتی۔30

احادیث صحیحہ کی روشنی میں ان تین نکات کی تائید سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم Alaihis Salam کے ذریعے رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد کی بشارت بیان فرمائی تھی۔علاوہ ازیں، انجیلِ برناباس سے اس بشارت کی تائید وتوثیق ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت آدم Alaihis Salam پر جب شانِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی حقیقت آشکار ہوئی تو آپ Alaihis Salam نے بارگاہِ الٰہی میں دردمندانہ اور عاجزانہ درخواست پیش کی، جس کا بیان انجیل برناباس میں یوں ہے:

فضرع آدم إلى اللّٰه قائلا: يا رب هبني هذه الكتابة على أظفار أصابع يدي. فمنح اللّٰه الإنسان الأول تلك الكتابة على إبهامية. عل ظفر إبهام اليد اليمني ما نصه: لا إله إلا اللّٰه. وعلى ظفر إبهام اليد اليسرى ما نصه: محمد رسو ل اللّٰه. فقبل الإنسان الأول بحنو أبوي هذه الكلمات، ومسح عينيه، وقال: بورك ذلك اليوم الذي ستأتي فيه إلى العالم. 31
پس آدم ( Alaihis Salam )نے اللہ سے دعا کی کہ: اے میرے رب! یہ تحریر میرے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخنوں پر درج فرما دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان اوّل کے انگوٹھوں پر یہ تحریر نقش فرمادی، دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخن پر منقوش تھا : لا إله إلا الله،اور بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخن پرمنقوش تھا: محمد رسول الله۔ پس انسان اوّل نے پدرانہ شفقت سے یہ کلمات چومے اور اپنی آنکھوں پر ملے، اور کہا: مبارک ہو وہ دن جس میں تم دنیا میں تشریف لاؤگے۔

اسی طرح انجیلِ برناباس کی فصل نمبر41 میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ جب آدم Alaihis Salam دانہ کھانے کی پاداش میں جنّت سے نکالے جارہے تھے تو اس وقت بھی آپ Alaihis Salam نے یہی کلمات عرش پر لکھے دیکھے ۔چنانچہ انجیل برناباس میں ہے:

فاحتجب اللّٰه وطردهما الملاك ميخائيل من الفردوس. فلما التفت آدم رأى مكتوبا فوق الباب: لا إله إلا اللّٰه محمد رسو ل اللّٰه. فبكى عند ذلك وقال: أيها الابن عسى اللّٰه أن يريد أن تأتي سريعا وتخلصنا من هذا الشقاء.32
پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں پوشیدہ ہوگیا اور فرشتے میخائیل Alaihis Salam نے ان دونوں (آدم اور حوّاAlaihmas Salam ) کو جنّت سے نکال دیا۔ پس جب آدم Alaihis Salam نے پیچھے مڑ کر نگاہ کی تو اس نے جنّت کے دروازے پرلکھا دیکھا: لا إله إلا الله، محمد رسول الله۔ تب وہ اس وقت رویا اور کہا: اے بیٹے! کاش اللہ یہ ارادہ کرے کہ تو جلد دنیا میں آ جائے اور ہمیں اس کم بختی اور مصیبت سے چھڑائے۔

مزید برآں، احادیث نبویہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam میں اس بشارت کا مضمون وارد ہوا ہے، جس سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انجیلِ برناباس میں جو بشارت بیان کی گئی ہے، وہ بلا شک و شبہ درست اور معتبر ہے۔ امام حاکم حضرت عمر Radi Allah Anho سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے ارشاد فرمایا:

لما اقترف آدم الخطيئة، قال: يا رب، أسألك ‌بحق ‌محمد لما غفرت لي، فقال الله: يا آدم، وكيف عرفت محمدا ولم أخلقه؟ قال: يا رب، لأنك لما خلقتني بيدك، ونفخت في من روحك، رفعت رأسي، فرأيت على قوائم العرش مكتوبا: لا إله إلا الله محمد رسول الله، فعلمت أنك لم تضف إلى اسمك إلا أحب الخلق إليك، فقال الله: صدقت يا آدم، إنه لأحب الخلق إلي، ادعني بحقه فقد غفرت لك، ولولا محمد ما خلقتك. 33
جب حضرت آدم Alaihis Salam سے لغزش ہوئی تو وہ اللہ کے حضورعرض گزار ہوئے : اے میرے پروردگار ! میں بحق محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے معاف کردے۔اللہ تعالیٰ (جو سب کچھ جانتا ہے)نے فرمایا: اے آدمAlaihis Salam !تم محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو کیسے جانتے ہو حالانکہ ابھی تو وہ دنیا میں تشریف نہیں لائے ہیں؟ حضرت آدم Alaihis Salam نے عرض کیا:اے میرے رب!تو نے جب مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور اپنی روحِ خاص مجھ میں پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو قوائمِ عرش پر لا إله إلا الله محمد رسول اللهلکھا ہوا دیکھا ،اس وقت میں جان گيا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ صرف اسی کا نام ملایا ہوگا جو ساری مخلوق میں سب سے زیادہ تجھے پسندیدہ ومحبوب ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے آدم Alaihis Salam ! تم نے سچ کہا ،بیشک وہ ساری مخلوق میں مجھے محبوب ترین ہیں،تم ان کے وسیلہ سے دعا کرو میں ضرور تمہاری بخشش کروں گا۔اور اگر محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا۔

اسی طرح ابن ہشام، وہب بن منبہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت آدم Alaihis Salam پیدا ہوئے تو جبرائیل Alaihis Salam نے فرمایا: اے آدمAlaihis Salam ! تم تمام انسانوں کے باپ ہو، لہٰذا اپنے رب کا شکر ادا کرو۔ آدم Alaihis Salam نے آسمان کی طرف دیکھا تو عرش کے پائے پر نور سے لکھا ہوا دیکھا: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔ چونکہ آدم فطری طور پر الہام یافتہ تھے، اِس لیے آپ Alaihis Salam نے محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے متعلق دریافت کیا ۔ جبرائیل Alaihis Salam نے فرمایا: یہ اللہ کے حبیب (محمد) Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ہیں، تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ مکرم، اور آپ Alaihis Salam کی نسل سے آخری نبی۔34

صرف یہی نہیں، بلکہ عیسائی علماء میں انصاف پسند اور حقیقت پسند حضرات کو بھی اس بشارت کا علم تھا، اور وہ اس کی صداقت اور اہمیت کا اقرار کرتے تھے۔ واقدی لکھتے ہیں کہ حضرت عمر Radi Allah Anho کے دور میں جب صحابہ کرام شام کی سرزمین پر رومیوں سے برسر ِپیکارتھے، اس وقت روم کے بادشاہ نے سطیس نامی ایک عیسائی عالم کو صحابہ کرام کے پاس قاصد بنا کر بھیجا۔عیسائی عالم جب آئے تو ان کی ملاقات لشکر اسلامی کے کمانڈر خالد بن ولید Radi Allah Anho سے ہوئی۔عیسائی عالم نے خالد Radi Allah Anho کو دیکھتے ہی کہا : معلوم ہوتا ہے کہ تم ہی وہ قوم ہو جن کی بشارت عیسیٰ بن مریم Radi Allah Anha نے دی تھی۔ پھر کہا کہ مجھے اپنے نبی کے بارے میں بتاؤ؟ خالد Radi Allah Anho نے رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے دیگر اوصاف حمیدہ کے ساتھ اسی بشارت کا مضمون ذکر کیااور کہاکہ نبی اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا:میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم Alaihis Salam ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھے۔ اور جب اللہ نے عرش کو پیدا کیا تو اس پر یہ لکھاتھا :لا إله إلا الله محمد رسول الله۔پھر جب آدم Alaihis Salam نے خطا کی تو انہوں نے عرش کے پائے پر یہی تحریر لکھی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے محمد Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے بارے میں دریافت کیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمہاری نسل میں سے وہ بیٹا ہے، کہ اگر یہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔35

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت آدم Alaihis Salam کے اصل صحیفے کا متن اگرچہ آج محفوظ نہیں، تاہم سابقہ کتب مقدسہ، اسلامی روایات، قرآنی اشارات، تفسیری بیانات اور احادیثِ نبویہ پائی جانے والی بشارات اس حقیقت کو تقویت دیتی ہیں کہ آغازِ انسانیت ہی سے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد، عظمت اور عالمگیر رسالت کا ذکر مختلف انداز سے ظاہر فرمایا۔ سفرِ پیدائش کی بشارت ہو یا انجیلِ برناباس میں منقول روایات، ان کا مرکزی مفہوم یہی ہے کہ شیطان پر حقیقی، کامل اور عالمگیر غلبہ اس ہستی کے ذریعے ظاہر ہوا جس نے انسانیت کو شرک، اخلاقی فساد، گمراہی اور شیطانی نظامِ حیات سے نکال کر توحید، عبادت، پاکیزگی، اخوت اور عدل کی راہ پر قائم کیا۔ یہ شان کسی محدود قومی یا عارضی دعوت کے حامل نبی کی نہیں، بلکہ خاتم الانبیاء Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ہے، جن کی نبوت تخلیقِ آدم Alaihis Salam سے قبل اللہ تعالیٰ کے علم و تقدیر میں مقرر تھی، جن کا نام عرش پر کلمۂ توحید کے ساتھ جلوہ گر تھا، اور جن کی بعثت نے انسانی تاریخ میں حق و باطل کے معرکے کو فیصلہ کن رخ عطا کیا۔ اس بنا پر حضرت آدم Alaihis Salam سے متعلق مذکورہ بشارات صرف تاریخی یا تمثیلی روایات نہیں، بلکہ وہ نبوتِ محمدی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی قدامت، مرکزیت، جامعیت اور عالمگیر حقانیت پر دلالت کرنے والی اہم شہادتیں ہیں۔


  • 1  أبو محمد عبد الملک بن ھشام المعافري، التيجان في ملوك حمير، مطبوعۃ: مركز الدراسات والأبحاث اليمنية، صنعاء، اليمن، 1347ھ، ص: 9
  • 2  أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة الدينوري، المعارف، ج-1، مطبوعة: الهيئة المصرية العامة للكتاب، القاهرة، مصر، 1992م، ص: 18
  • 3  القرآن، سورة الشعراء 26: 196
  • 4  أبو جعفر محمد بن جریر الطبری ، جامع البيان عن تأويل آي القرآن المعروف بتفسير الطبری، ج-17، مطبوعۃ: دار هجر، الجيزة، مصر، 2001م، ص: 643
  • 5  مجموعة الأساتذة اللاهوتيين، قاموس الكتاب المقدس، مطبوعة:دار الثقافة ، القاهرة، مصر، د۔ ت ۔ ط، ص: 4
  • 6  الكتاب المقدس، سفر التكوين 3: 14 -15 (الترجمة البيروتية، فان ديك: https://st-takla.org/Bibles/BibleSearch/showChapter.php?book=1&chapter=3
  • 7  القس أسبر عجاج، المسيح مركز النبوات، مطبوعة: نشره موريس سعيد، الإسكندرية، مصر، 2015م، ص: 26
  • 8  مجموعة من العلماء اللاهوتيين، التفسير التطبيقي للكتاب المقدس، مطبوعة: شركة ماستر ميديا، القاهرة، مصر، 2004م، ص: 14
  • 9  کتابِ مُقدس، عبرانیوں کے نام خط 9: 27-28 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1210)
  • 10  القرآن، سورة النساء 4: 157 -158
  • 11  مجموعة من العلماء اللاهوتيين، التفسير التطبيقي للكتاب المقدس، مطبوعة: شركة ماستر ميديا، القاهرة، مصر، 2004م، ص: 14
  • 12  کتابِ مُقدس ، انجیل متی 16: 23 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 989)
  • 13  کتابِ مُقدس ، انجیل یوحنا 6: 70 -71 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1075)
  • 14  کتابِ مُقدس، گلتیوں کے نام خط 4: 4-5 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1173)
  • 15  کتابِ مُقدس، عبرانیوں کے نام خط 9: 27-28 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1210)
  • 16  محمد رحمت الله بن خليل الرحمن الكيرانوي، إظهار الحق، ج-4، مطبوعة: الرئاسة العامة لإدارات البحوث العلمية والإفتاء والدعوة والإرشاد، الرياض، السعودية، 1989م، ص: 1132
  • 17  أبو عبد اللہ أحمد بن محمد الشیبانی، مسند أحمد، حدیث: 15118، ج-23، مطبوعۃ: مؤسسۃالرسالۃ، بیروت، لبنان، 2001م، ص: 331
  • 18  أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحاكم النيسابوري، المستدرك على الصحيحين، حديث: 318، ج-1، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1990م، ص: 171
  • 19  أبو عبد اﷲ محمد بن إسماعیل البخاري، صحیح البخاري، حديث: 3683، مطبوعة: دار السلام، الریاض، السعودیة، 1999م، ص: 619
  • 20  القرآن، سورۃ الحجر 15 : 41- 42
  • 21  أبو الوليد محمد بن عبد الله الأزرقي، أخبارمكة وما جاء فيها من الآثار، ج-1، مطبوعة: دار الأندلس، بیروت، لبنان، د۔ ت۔ ط، ص:122-123
  • 22  کتابِ مُقدس، رسولوں کے اعمال 4: 36-37 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 1100)
  • 23  The Gospel of Barnabas (Ed. & Trans. from the Italian MS. in the Imperial Library at Vienna, 1907), Clarendon Press, Oxford, U.K, Pg. X
  • 24  George Sale (1923), The Koran (Commonly Called the Alcoran of Mohammed), J. B. Lippincott Company, London, U.K, Pg. XX.
  • 25  إنجیل برنابا39: 14 -22 (المترجم: الدكتور خليل سعادة، مطبوعة: دار البشير، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 131- 132)
  • 26  القرآن، سورة الأعراف 7: 158
  • 27  أبو الحسين مسلم بن الحجاج النیسابوری، صحیح مسلم، حديث: 1163، مطبوعۃ: دارالسلام، الریاض، السعودیۃ، 2000م، ص: 212
  • 28  أبو عیسی محمد بن عیسی الترمذی، جامع الترمذي، حدیث: 3609، مطبوعۃ: دار السلام، الریاض، السعودیۃ، 2009م، ص: 1070
  • 29  أبو شجاع شيرويه بن شهردار الديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، حديث:8031، ج-5، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1986م، ص: 227
  • 30  أبو الفضل أحمد بن علي ابن حجر العسقلاني، الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس، حديث: 190، ج-1، مطبوعة: جمعية دار البر، دبي، الإمارات العربية المتحدة، 2018م، ص: 479
  • 31  إنجیل برنابا41: 32 -34 (المترجم: الدكتور خليل سعادة، مطبوعة: دار البشير، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط،ص: 134)
  • 32  إنجیل برنابا39: 23 -28 (المترجم: الدكتور خليل سعادة، مطبوعة: دار البشير، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 132)
  • 33  أبو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، حدیث: 4228، ج-2، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1990م، ص: 672
  • 34  أبو محمد عبد الملک بن ھشام المعافري، التيجان في ملوك حمير، مطبوعۃ: مركز الدراسات والأبحاث اليمنية، صنعاء، اليمن، 1347ھ، ص: 14
  • 35  أبو عبد الله محمد بن عمر الواقدي، فتوح الشام، ج-2، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 1997م، ص: 74

Powered by Netsol Online