اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم
پر جو صحیفہ نازل فرمایا تھا وہ صدیوں پہلے مفقود ہوچکا ہے۔ نا کسی کے پاس وہ صحیفہ محفوظ ہے اور نہ ہی کُتب سماویہ میں اس کا کوئی حصہ شامل ہے ۔ حضرت موسیٰ
نے اپنے صحیفہ میں حضرت آدم
سے متعلق جو بیانات درج کیے ہیں، وہ بھی حضرت آدم
کے اپنے الفاظ میں منقول نہیں، بلکہ بیان موسوی کی صورت میں ہیں۔ لہٰذا توریت میں حضرت آدم
کے جو اقوال مذکور ہیں، ان کی حیثیت وہی ہے جو دیگر احکام وشرائع اور قصص و حکایات کو حاصل ہے۔ اگرچہ اصل صحیفۂ آدم
کا متن آج موجود نہیں، تاہم اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم
پر ایک صحیفہ نازل فرمایا، جس میں عقائد، احکام اور شریعتِ الٰہیہ کے بنیادی اصول مذکور تھے۔ وہب بن منبہ
فرماتے ہیں کہ حضرت آدم
پر 2 صحیفے نازل ہوئے تھے،ایک جنّت میں اور ایک جبل لبنان میں۔ 1 ابن قتیبہ
فرماتے ہیں کہ حضرت آدم
پر نازل ہونے والا صحیفہ دنیا کی پہلی کتاب ہے جس میں مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی حرمت نازل ہوئی، اسی طرح حروفِ تہجی بھی ان پر اتارے گئے، جو 21 اوراق پر مشتمل تھے۔2 قرآنِ کریم میں بھی سابقہ انبیاء کرام
پر نزولِ صحائف کا ذکر صریح الفاظ میں موجود ہے:
وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ 1963
اوربیشک یہ پہلی امتوں کے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہے۔
تمام متقدّمین و متأخّرین مفسّرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیتِ کریمہ سے مراد وہ صحائف ہیں جو اللہ تعالیٰ نے گذشتہ انبیاء و رُسل
پر نازل فرمائے ہیں ۔ امام طبری
اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں بیان کردہ حقائق، احکام اور واقعات میں سے بہت سی چیزیں وہ ہیں جو سابقہ صحیفوں میں بھی مذکور رہی ہیں۔ اگرچہ آیت کا ظاہر عموم پر دلالت کرتا ہے، تاہم اس کا مفہوم خاص ہے، یعنی قرآن کے تمام احکام اور تمام واقعات سابقہ کُتب میں مذکور نہیں، بلکہ ان میں سے بعض کا ذکر ان صحائف میں آیا ہے۔ 4 ان سابقہ صحائف کے ضمن میں صحیفۂ آدم کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔
سے متعلق غلط فہمی کا اِزالہیہود کی قدیم مرویات اور مابعد الاسفار کی روایات میں ایک تصنیف "اسفارآدم وحواء" کے نام سے منسوب ملتی ہے، جس میں حضرتِ آدم اور حضرت حوّا
کے جنّت سے خروج، زمین پر زندگی، توبہ اور نسلِ انسانی کے آغاز سے متعلق متعدد حکایات و تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔تاہم، محققین کے نزدیک یہ کتاب اِلہامی و آسمانی صحائف کی زمرے میں شامل نہیں ہے۔ یہودی علماء ا س کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ غیر قانونی اور غیر مستند صحیفہ یہودیوں نے سقوطِ یروشلم سے قبل سن 70 عیسوی میں آرامی زبان میں لکھا تھا، آج بھی اس کے کچھ حصّے مختلف تراجم میں موجود ہیں۔ یہ صحیفہ یونانی ترجمہ میں "رؤیا موسیٰ " یعنی موسیٰ
کے خواب کے نام سے جانا جاتا ہے،لیکن یہ نسبت غلط ہے۔اگر ان تراجم کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں عیسائیوں نے اضافےبھی کیے ہیں، اور آدم و حواء
کے متعلق خیالی واقعات وتشریحات بھی اس میں لکھی گئی ہیں۔5 یہ صحیفہ اگرچہ بعض لحاظ سے اخلاقی و تمثیلی مضامین رکھتا ہے، مگر اسے حضرتِ آدم
پر نازل شدہ اصل صحیفے سے منسوب کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اِس لیے یہاں ان بشارات کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو اسفار توریت یا اناجیل میں آدم
کے واقعات اور قصص کے ضمن میں مذکور ہیں۔
تورات کے سفرِپیدائش میں حضرت آدم
سے متعلق ایک بشارت بھی وارد ہے جسے بشاراتِ محمدی
میں اولین بشارت کاشرف بھی حاصل ہے۔ اس بشارت کا مصداق حضور
کی ذات طیبہ کے علاوہ تاریخ میں کوئی دوسری ہستی ہوہی نہیں سکتی۔ اگرچہ مسیحی حضرات اس بشارت کا مصداق حضرت عیسیٰ
کی ذات کو ٹھہرا نے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اس بشارت کی عبارت اور تشریح، واقعات وحالات کی روشنی میں پڑھ کر ایک صاحب ِعلم ودانش آسانی سے فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کا مصداق رسول اللہ
ہی ہیں۔چنانچہ سفر تکوین میں ہے:
فقال الرب الإله للحية: لأنك فعلت هذا، ملعونة أنت من جميع البهائم ومن جميع وحوش البرية، على بطنك تسعين وترابا تأكلين كل أيام خيانتك. وأضع عداوة بينك وبين المرأة، وبين نسلك ونسلها، هو يسحق رأسك، وأنت تسحقين عقبه . 6
تب خداوند نے سانپ سے کہا اِس لیے کہ تُو نے یہ کیا تُو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں ملعون ٹھہرا، تُو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور اپنی عمر بھر خاک چاٹے گا۔ اور میں تیرےاور عورت کےدرمیان اورتیری نسل اور عورت کی نسل کےدرمیان عداوت ڈالوں گا۔ وہ تیرےسرکو کچلے گا اور تو اس کی ایڑی پر کاٹے گا۔
سانپ سے مراد یہاں شیطان ہے۔ اور عبارت (هو يسحق رأسك، وأنت تسحقين عقبه) کا مطلب یہ ہے کہ وہ (عورت کی نسل میں سے) تیرا سر کچلے گا اور تو (خطاب شیطان کو ہے) اس کی ایڑی پر کاٹے گا۔ عیسائی علماء یہاں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کا مصداق حضرت عیسیٰ
ہیں جو حضرت مریم
کے بیٹے ہیں، اور انہوں نے ہی شیطان کا سر کچلا۔7 تفسیر تطبیقی میں لکھتے ہیں:
وعبارة "وأنت تلدغين عقبه" تشير إلى محاولات الشيطان المتكررة؛ ليهزم المسيح في أثناء حياته على الأرض. و"هو يسحق رأسك" نبوة عن هزيمة الشيطان عندما قام المسيح من الأموات. 8
اور یہ عبارت "اور تو اس کی ایڑی پر ڈسے گا" اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شیطان نے بار بار کوشش کی کہ زمین پر مسیح کی زندگی کے دوران اسے مغلوب کر دے۔ اور یہ جملہ"وہ تیرے سر کو کچل دے گا" اس بات کی پیشین گوئی ہے کہ جب مسیح مُردوں میں سے جی اٹھے گا تو اس وقت شیطان کو شکست ہوگی۔
عیسائی علماء اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ
نے خود کو قربان کرکے اپنی قربانی سے شیطان کا سرکچل دیا، اور یوں حضرت آدم
کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ بلکہ یہ ان کا عقیدہ ہے جو انہوں نے پولس رسول کے خطوط سے اخذکیا ہے ۔ چنانچہ پولس رسول عبرانیوں کے نام اپنے خط میں لکھتا ہے کہ جس طرح انسان کا ایک بار مرنا اور اس کے بعد عدالت کو ہونا مقرر ہے اسی طرح مسیح بھی بہت سے لوگوں کے گناہ اٹھالے جانے کے لیے ایک ہی بار قربان ہو کر دوسری بار گناہ کی قربانی دینے کے لیے نہیں بلکہ ان کو نجات دینے کے لیے آئے گا جو اس کے انتظار میں ہیں۔9 عیسائی علماء کے نزدیک، یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ
کی قربانی کو دنیا کی نجات اور شیطان کی شکست کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس لیے ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ
کی قربانی اصل میں شیطان کو ہرانے کے مترادف ہے۔
لیکن اگر اس تشریح کو حقائق کی روشنی میں پرکھا جائے تو ہر صاحب علم اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ دراصل خرافات اور بے بنیاد دعوؤں کا مجموعہ ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ وہ واقعہ جسے عیسائی حضرات قربانی کہہ کر اپنے عقائد کی بنیاد بناتے ہیں، وہی حقیقت میں ان کے لیے مبہم اور مشتبہ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کا اصل علم انہیں کبھی حاصل ہی نہیں ہوا، بلکہ وہ صرف قیاس و خیال پر ایمان رکھتے ہیں۔قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
...وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا 157 بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ... 15810
۔۔۔ انہوں نے نہ ان (عیسیٰ) کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لئے (کسی کو عیسٰی
کا) ہم شکل بنا دیا گیا، اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں)، اور انہوں نے عیسٰی (
) کو یقیناً قتل نہیں کیا۔بلکہ اﷲ نے انہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا۔۔۔
دوسری بات یہ ہے کہ عیسائی علماء کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ
نے شیطان کا سر کچل کر اسے ہلاک کر دیا، کیونکہ ان کے نزدیک سر کچلنا ہلاک کرنے کے مترادف ہے۔11 جبکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔ خود اناجیل کی تصریحات کے مطابق حضرت عیسیٰ
نے ہرگز شیطان کا سر نہیں کچلا۔چنانچہ انجیل متی میں ہے کہ یسوع نے مڑکر پطرس سے کہا: اے شیطان! میرے سامنے سے دور ہو جا، تو میرے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔تجھے خدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمیوں کی باتوں کا خیال ہے۔ 12 اور انجیل یوحنا میں تو صراحت کے ساتھ یہ مذکور ہے کہ شیطان ان کے درمیان یہوداہ ا اسکریوتی کی صورت میں موجود رہا۔ چنانچہ یوحنا کہتے ہیں کہ یسوع نےفرمایا : میں نے تم 12 کو چن تو لیا ہے لیکن تم میں سے ایک شیطان ہے۔ اس کا مصداق شمعون اسکریوتی کا بیٹا یہوداہ تھا جو ان 12 میں شامل ہونے کے باوجود یسوع کو پکڑوانے کو تھا۔ 13 اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ
نے شیطان کو جسمانی طور پر شکست نہیں دی، کیونکہ شیطان ابتدا سے ہی انسان کا دشمن رہا ہے، خاص طور پر اللہ کے نیک بندوں اور انبیائے کرام
کا۔ ہر دور میں شیطان نے انہیں آزمائشوں اور تکالیف میں مبتلا کیا، اور حضرت عیسیٰ
کی مخالفت بھی اس کی فطرت کا حصّہ رہی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ نہ حضرت عیسیٰ
نے شیطان کو مارا، اور نہ ہی بائبل میں کہیں اس کا کوئی ذکر موجود ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اس من گھڑت عقیدے کو بنانے اور عام کرنے والا پولس رسول ہے، اور عیسائی علماء بالعموم اسی کی نصوص اور خطوط کی بنیاد پر استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ
کی قربانی شیطان کے سر کچلنے کے مترادف ہے اور تمام گناہوں کا کفارہ ہے۔چنانچہ گلتیوں کے نام خط میں لکھتا ہے: لیکن جب وقت پورا ہوگیا تو خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے ماتحت پیدا ہوا۔تاکہ انہیں جو شریعت کے ماتحت ہیں خریدکر چھڑائے اور ہم متبنی فرزند ہونے کا درجہ پائیں۔ 14 اسی طرح عبرانیوں کے نام خط میں لکھتا ہے: جس طرح انسان کا ایک بار مرنا اور اس کے بعد عدالت کو ہونا مقرر ہے اسی طرح مسیح بھی بہت سے لوگوں کے گناہ اٹھالے جانے کے لیے ایک ہی بار قربان ہو کر دوسری بار گناہ کی قربانی دینے کے لیے نہیں بلکہ ان کو نجات دینے کے لیے آئے گا جو اس کے انتظار میں ہیں۔15
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پولس کا شمار خود محرف اول میں ہوتا ہے ، کیونکہ پولس نہ تو حضرت عیسیٰ
کا حواری تھااور نہ ہی حواریوں کا دوست ، بلکہ پولس کا اصل نام ساؤل تھا اور یہودیت کا پیروکار تھا۔ حضرت عیسیٰ
کے بعد ان کے حواریوں کے کا کٹر دشمن تھالیکن بعد میں اس نے عجیب وغریب قسم کے دعوے کیے اور یہودیت کو چھوڑکر مسیحی ہوگیا۔ کچھ عرصہ برناباس حواری کی تصدیق کے بعد تمام حواریوں اور عیسائیوں نے اس پر اعتماد کیااور اپنی عام مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نےاپنی مرضی کے مطابق نصرانیت کی تشریحات اور تاویلات پیش کرنا شروع کردیں اور یہی تشریحات موجودہ تحریف شدہ نصرانیت کے بنیادی عقائد واحکام قرار پائے ۔ اس کی تشریحات وتاویلات کے ضمن میں اس کے خطوط اور رسائل بھی شمار ہوتے ہیں ۔ لہٰذا اس کی عبارات نہ تو حجت بن سکتی ہیں، اور نہ ہی اس میں صحت کا کوئی پہلو نظر آتا ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ عیسائی علماء کا یہ دعویٰ اس وقت صحیح ہوتا کہ حضرت عیسیٰ
یہ فرماتے کہ حضرت موسیٰ
نے سفر پیدائش میں میرےمتعلق یہ بشارت دی تھی ، یا وہ فرماتے کہ حضرت موسیٰ
کی بشارت میرے علاوہ کسی اور نبی کے بارے میں نہیں تھی 16 لیکن آپ سے ایسی کوئی بات منقول نہیں ہے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سفرِ پیدائش کی اس بشارت کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت کُھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اس کے حقیقی مصداق رسول اللہ
ہیں جن کی ذاتِ مقدسہ نے اپنے صحابہ کرام کو گناہوں سے اس قدر نفرت دلادی کہ وہ گناہ سے یا باالفاظ دیگر گناہ کی رغبت دلانے والے شیطان سے ہمیشہ کے لیے بیزار ہوگئے، اور یوں شراب، جوا، چوری، ڈاکہ، زنا اور جھوٹ وغیرہ تمام بُری عادتوں کو ترک کر کے آئندہ آنے والوں کے لیے ایسی نیکی، پارسائی، اخوت، پیار ومحبت، عبادت وریاضت اور بھائی چارے کی زندہ عملی مثالیں چھوڑ گئے جن پر تاریخِ عالم اور تاریخِ اِسلام کو ہی نہیں بلکہ تاریخِ انسانیت کو فخر وناز رہے گا۔ یہ وہ جاں نثارانِ مصطفیٰ
تھے جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اس کے رسولِ مقبول
اور اللہ کے تمام پیغمبروں کی ایسی محبت موجزن تھی جس نے حقیقی معنوں میں شیطان کاسرکچل کررکھ دیا۔ بلکہ رسول اللہ
نے شیطان کی مایوسی اور مغلوبیت کا واضح طور پراعلان فرمادیا ہے ۔ حضرت جابر
سے مروی ہے کہ رسول اللہ
نے فرمایا:
قد يئس الشيطان أن يعبده المسلمون، ولكن في التحريش بينهم . 17
شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ مسلمان اس کی عبادت کریں، لیکن وہ ان کے درمیان باہمی عداوت اور اختلاف ڈالنے (یعنی ایک دوسرے کو بھڑکانے) میں لگا رہے گا۔
خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر بھی رسول اللہ
نے یہ اعلان فرمادیاتھا کہ شیطان اس وقت سر زمین پر مغلو ب ہوچکا ہے۔ چنانچہ ابن عباس
سے مروی ہے کہ رسول اللہ
نے خطبہ حجۃ الوداع میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:بے شک شیطان مایوس ہوگیا کہ تمہاری زمین پر وہ پوجا جائے لیکن اس بات سے خوش ہوگیا کہ جن اعمال کو تم حقیر جانتے ہو ان میں اس کی اطاعت ہو، اے لوگوں خبردار ہوجاؤ! میں نے تم میں ایسی چیز چھوڑی ہے اگر تم نے اس کو مضبوطی سے تھام لیا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے، کتاب اللہ(قرآن) اور رسول اللہ(
) کی سنت۔ 18 اس سلسلے میں سیّدنا عمر فاروق
کی مثال ہمارے سامنے ہے جن کو سرکارِ دوعالم
نے مخاطب کر کے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!جب بھی شیطان تجھے کسی راستے پر چلتا ہوا دیکھتا ہے، تو وہ اس راستے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔19 قرآنِ کریم میں ارشاد ِخداوندی ہے۔
قَالَ هَذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ 41 إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ4220
اللہ نے ارشاد فرمایا: یہ (اخلاص ہی) راستہ ہے جو سیدھا میرے در پر آتا ہے، بیشک میرے (اخلاص یافتہ) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بھٹکے ہوؤں کے جنہوں نے تیری راہ اختیار کی۔
یعنی حقیقی معنی میں جس پیغمبرنے شیطان کا سر کچلا ہے وہ حضرت محمد مصطفیٰ
ہیں۔ امام ازرقی
نقل کرتے ہیں کہ ابلیس نے تین مرتبہ چیخ ماری: پہلی مرتبہ جب اسے لعنت کا مستحق قرار دیا گیا اور فرشتوں کی صورت سے اس کی شکل وشباہت بدل دی گئی۔ دوسری مرتبہ جب اس نے رسول اللہ
کو مکہ میں کھڑا نماز پڑھتے دیکھا۔ اور تیسری مرتبہ جب رسول اللہ
نے مکہ فتح کیا۔ اس موقع پر ابلیس نے اپنی ذرّیت کو جمع کر کے کہا: اب تم مایوس ہو جاؤ، کیونکہ آج کے بعد تم کبھی بھی امت محمد
کو شرک کی طرف واپس نہیں لا سکتے۔21
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نےاپنے تمام پیغمبروں کو شیطان اور طاغوتی قوتوں پرغلبہ عطا فرمایا تھا لیکن ان کا معاملہ ان کے امّتیوں سے بالکل جدا ہے۔کیونکہ انبیاء
کے دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد ان کی اُمتوں نے اپنے پیغمبروں کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کردوبارہ شیطان کے راستے کو اختیار کرلیا تھا۔ مذکورہ بالا بحث سے یہ حقیقت نہایت وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ رسول اللہ
کا شیطان پر غلبہ محض روحانی یا انفرادی امر نہیں بلکہ تشریعی اور عالمگیر حقیقت بھی ہے۔قرآنِ مجید کی نصوص اور احادیثِ نبویہ سے یہ امر متحقق ہوتا ہے کہ رسول اللہ
کو اللہ تعالیٰ نے کامل عصمت، حفاظت اور تسدیدِ ربانی عطا فرمائی، جس کے نتیجے میں شیطان کو آپ
پر کوئی سبیل حاصل نہ ہو سکی۔
حضرت آدم
کے حوالے سے ایک بشارت انجیلِ برناباس میں بھی مذکور ہے۔ اس بشارت کو نقل کرنے سے قبل انجیلِ برناباس کا مختصر تعارف پیش کرنا مناسب ہے، تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ انجیلِ برناباس بھی وحیِ الٰہی سے ماخوذ ایک کتاب ہے۔
برناباس حضرت عیسیٰ
کے حواریوں میں سے تھے۔ ان کے بارے میں لوقا نے سفرِ اعمال میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
یوسف ایک لاوی تھا، جو قبرص کا باشندہ تھا۔ اسے رسولوں نے برناباس کا نام دیا جس کا مطلب ہے نصیحت کا بیٹا۔ اس نے اپنا کھیت بھیچااور قیمت لا کر رسولوں کے قدموں میں رکھ دی۔ 22
لوقا کے اس قول سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ برناباس حواریوں میں بلند مقام کے حامل تھے، اور اسی وجہ سے حواریوں نے ان کا نام نصیحت کا بیٹا رکھ دیا تھا۔ دوسری یہ کہ انہوں نے خدا کی رضا جوئی کی خاطر اپنی ساری دنیوی پونجی تبلیغی مقاصد کے لیے صرف کر دی تھی۔
برناباس نے دیگر حواریوں کی طرح حضرت عیسیٰ
کے اقوال و افعال نقل کر کے انجیل مرتب کی، جس کا تذکرہ قدیم مسیحی روایات میں گمشدہ کتاب کی حیثیت سے ملتا ہے۔لیکن اٹھارویں صدی کے آغاز میں شاہِ یروشیا کے ایک مشیر جے۔ ایف۔ کریمر (J. F. Cramer) کوایمسٹرڈم کے مقام پر اطالوی زبان کی ایک کتاب ہاتھ لگی جس پر لکھا تھا کہ یہ حواری برناباس کی انجیل ہے۔ 1709ء میں کریمرنے یہ نسخہ جان ٹولینڈ (John Toland) کو مستعار دیا۔ چار سال بعد، یعنی 1713ء میں کریمر نے یہ قیمتی نسخہ نامور ماہرِ فن پرنس یوجین آف ساوائے (Prince Eugene of Savoy) کو پیش کر دیا۔بعد ازاں، 1738ء میں یہ نسخہ اس شہزادے کی باقی لائبریری کے ساتھ ویانا کی شاہی لائبریری (Hofbibliothek) میں منتقل ہو گیا، جہاں اب تک محفوظ ہے۔23
اٹھارہویں صدی سے قبل اس نسخے کے بارے میں کوئی یقینی سراغ نہیں ملتا ۔ البتہ ہسپانوی زبان میں ایک اور نسخہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اطالوی نسخے کا ترجمہ ہے۔ ہسپانوی نسخے (Spanish Version) کومشہور مستشرق جارج سیل(George Sale) نے 1734ءمیں دیکھا تھا، اس کے دیباچے میں ایک مبہم سا حوالہ ملتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہےکہ اطالوی نسخہ سولہویں صدی کے اواخر میں موجود تھا۔ جارج سیل(George Sale) لکھتے ہیں:ہسپانوی نسخے کا ترجمہ اطالوی زبان میں اراگون(Aragon) کے ایک مسلمان شخص مصطفیٰ عرندی نے کیا ہے۔ اس دیباچے میں اصل نسخہ دریافت کرنے والے شخص کا بھی ذکر ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سولہویں صدی کے اختتام پر ایک لاطینی راہب فرا مارینو (Fra Marino) کو اتفاقاً آرینوس بشپ (Irenaeus) کی ایک تحریر ملی، جس میں انہوں نے پولس رسول (St. Paul) پر سخت تنقید کرتے ہوئے انجیلِ برناباس کا حوالہ دیا تھا۔ یہ دیکھ کر لاطینی راہب کے دل میں اس انجیل کو تلاش کرنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد اسے اس زمانے کےپوپ سکسٹس پنجم (Pope Sixtus V) سے واقفیت ہوگئی۔ ایک دن جب وہ دونوں پوپ کےکتب خانے میں موجود تھے کہ پوپ کو نیند آگئی۔ اس دوران وقت گزاری کے لیے راہب نے کتابیں دیکھنی شروع کیں، اتفاق سے جو پہلی کتاب اس کے ہاتھ لگی وہی انجیلِ برناباس تھی جس کی وہ جستجو میں تھا۔راہب اسے دیکھ کر بے حد خوش ہوا، اور اسے آستین میں چھپا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ 24 خلاصہ کلام یہ کہ انجیلِ برناباس کا اطالوی نسخہ پوپ سکسٹس پنجم کے زمانے یعنی 1585ء میں موجود تھا اور یہ کوئی مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتاب نہیں ہے بلکہ حضرت عیسیٰ
کےحواریوں مین سے ہی ایک حواری کی بائبل جس میں آپ
کی آمد مبارکہ کے حوالے سے بشارات موجود ہیں۔
اسی انجیل برناباس میں حضرت آدم
کے حوالے سے بشارتِ نبوی
وارد ہے جس کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
فلما انتصب آدم على قدميه رأى في الهواء كتابة تتألق كالشمس، نصها: لا إله إلا اللّٰه ومحمد رسول اللّٰه، ففتح حينئذ آدم فاه. وقال: أشكرك أيها الرب إلهي لأنك تفضلت فخلقتني. ولكن أضرع إليك أن تنبأني ما معنى هذه الكلمات: محمد رسول اللّٰه؟ فأجاب اللّٰه: مرحبا بك يا عبدي آدم. وإني أقول لك: إنك أول إنسان خلقت. وهذا الذي رأيته إنما هو ابنك الذي سيأتي إلى العالم بعد الآن بسنين عديدة. وسيكون رسولي الذي لأجله خلقت كل الأشياء. الذي متى جاء سيعطي نورا للعالم. الذي كانت نفسه موضوعة في بهاء سماوي ستين ألف سنة قبل أن أخلق شيئا. 25
جب آدم() اپنے پیروں پر کھڑا ہوا، تو اس نے فضا میں ایک تحریر دیکھی جو سورج کی طرح چمک رہی تھی۔جس کی عبارت تھی: لا إله إلا الله، محمد رسول الله،تب آدم(
) نے اپنا منہ کھولا اور کہا: اے میرے رب ! میرے خدا! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھ پر فضل کیا اور مجھے پیدا کیا۔ مگر میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو مجھے خبردے کہ ان کلمات محمد رسول اللہ کے کیا معنی ہے ؟ تب اللہ تعالیٰ نے جواب دیا : مرحبا ہے تجھ کو اے میرے بندے آدم!میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو پہلا انسان ہے جسے میں نے پیدا کیا۔ اور یہ جس کو تم نے دیکھا تیرا بیٹا ہے جو اس وقت سے بہت سے سال بعد دنیا میں آئے گا۔ وہ میرا ایسا رسول ہوگا، جس کے لیے میں نے تمام چیزیں پیدا کی ہیں۔اور وہ رسول جب آئے گا تو دنیا کو نور بخشے گا۔ یہ وہ نبی ہے جس کی روح میرا کچھ پیدا کرنے سے 60 ہزار سال قبل آسمانی روشنی میں رکھی گئی ہے۔
اس عبارت سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ
کی آمد کی بشارت آغازِ نسلِ انسانی سےہی دی جا چکی تھی۔ اس بشارت میں آپ
کے بارے میں تین اہم نکات بیان کیے گئے ہیں جو اس بشارت کی صداقت اور عظمت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ
تمام انسانوں کے لیے رسول ہیں۔ دوسرا یہ کہ آپ
کی نبوت تخلیقِ انسانیت سے قبل ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرّر تھی۔ اور تیسرا یہ کہ تمام مخلوقات آپ
کے واسطے پیدا کی گئی ہیں۔ یوں یہ تین بنیادی حقائق نہ صرف بشارت کی توقیر کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ قرآن و احادیث سے اس کی تائید وتوثیق بھی ہوتی ہے۔
پہلا نکتہ : آپ
تمام انسانوں کے لیے رسول ہیں اس کے حوالے سے قرآن کریم میں ارشادِ خداوندی ہے:
قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ... 15826
آپ () فرما دیں: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول (بن کر آیا) ہوں۔۔ ۔
اور حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری
سےمروی ہے کہ رسول اللہ
نے فرمایا:
…كان كل نبي يبعث إلى قومه خاصة، وبعثت إلى كل أحمر وأسود…27
ہر نبی خاص اپنی قوم ہی کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے ہر سرخ و سیاہ(تمام انسانوں) کی طرف بھیجا گیا۔
دوسرا نکتہ: آپ
کی نبوت تخلیقِ انسانیت سے قبل ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرّر تھی۔ اگرچہ قرآن کریم میں اس کا صریح ذکر موجود نہیں، تاہم متعدد صحیح احادیث اس کی تصدیق وتائید کرتی ہیں۔ چنانچہ امام ترمذی
حضرت ابو ہریرہ
سے نقل کرتے ہیں:
قال: قالوا يا رسول اللّٰه، متى وجبت لك النبوة؟ قال: وآدم بين الروح والجسد. 28
فرماتے ہیں کہ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول()! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ(
)نے فرمایا: جب آدم
روح اور جسم کے درمیان تھے۔
تیسرا نکتہ: تمام مخلوقات آپ
کے واسطے پیدا کی گئی ہیں۔اس کی تائید وتوثیق بھی کئی احادیث سے ہوتی ہے۔ امام دیلمی حضرت عبدا للہ بن عباس
سے حدیث قدسی نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
يقول اللّٰه عز وجل: وعزتي وجلالي لولاك ما خلقت الجنة ولولاك ما خلقت الدنيا. 29
اللہ تعالیٰ (رسول اللہکو خطاب کرتے ہوئے )فرماتا ہے: میری عزت وجلال کی قسم! اگر تم نہ ہوتے میں جنت کو نہ پیدا کرتا، اور اگر تم نہ ہوتے ، میں جہنم کو نہ بناتا۔
ابن حجر عسقلانی زہر الفردوس میں اس حدیث کو سند کے ساتھ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
نےارشاد فرمایا: میرے پاس جبرئیل (
) تشریف لائے اور کہا : اے محمد
! اگر آپ نہ ہوتے تو جنت پیدا نہ کی جاتی، اور اگرآپ نہ ہوتے تو جہنم پیدا نہ کی جاتی۔30
احادیث صحیحہ کی روشنی میں ان تین نکات کی تائید سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم
کے ذریعے رسول اللہ
کی آمد کی بشارت بیان فرمائی تھی۔علاوہ ازیں، انجیلِ برناباس سے اس بشارت کی تائید وتوثیق ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت آدم
پر جب شانِ محمدی
کی حقیقت آشکار ہوئی تو آپ
نے بارگاہِ الٰہی میں دردمندانہ اور عاجزانہ درخواست پیش کی، جس کا بیان انجیل برناباس میں یوں ہے:
فضرع آدم إلى اللّٰه قائلا: يا رب هبني هذه الكتابة على أظفار أصابع يدي. فمنح اللّٰه الإنسان الأول تلك الكتابة على إبهامية. عل ظفر إبهام اليد اليمني ما نصه: لا إله إلا اللّٰه. وعلى ظفر إبهام اليد اليسرى ما نصه: محمد رسو ل اللّٰه. فقبل الإنسان الأول بحنو أبوي هذه الكلمات، ومسح عينيه، وقال: بورك ذلك اليوم الذي ستأتي فيه إلى العالم. 31
پس آدم ()نے اللہ سے دعا کی کہ: اے میرے رب! یہ تحریر میرے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخنوں پر درج فرما دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان اوّل کے انگوٹھوں پر یہ تحریر نقش فرمادی، دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخن پر منقوش تھا : لا إله إلا الله،اور بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخن پرمنقوش تھا: محمد رسول الله۔ پس انسان اوّل نے پدرانہ شفقت سے یہ کلمات چومے اور اپنی آنکھوں پر ملے، اور کہا: مبارک ہو وہ دن جس میں تم دنیا میں تشریف لاؤگے۔
اسی طرح انجیلِ برناباس کی فصل نمبر41 میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ جب آدم
دانہ کھانے کی پاداش میں جنّت سے نکالے جارہے تھے تو اس وقت بھی آپ
نے یہی کلمات عرش پر لکھے دیکھے ۔چنانچہ انجیل برناباس میں ہے:
فاحتجب اللّٰه وطردهما الملاك ميخائيل من الفردوس. فلما التفت آدم رأى مكتوبا فوق الباب: لا إله إلا اللّٰه محمد رسو ل اللّٰه. فبكى عند ذلك وقال: أيها الابن عسى اللّٰه أن يريد أن تأتي سريعا وتخلصنا من هذا الشقاء.32
پس اللہ تعالیٰ اپنے تئیں پوشیدہ ہوگیا اور فرشتے میخائیلنے ان دونوں (آدم اور حوّا
) کو جنّت سے نکال دیا۔ پس جب آدم
نے پیچھے مڑ کر نگاہ کی تو اس نے جنّت کے دروازے پرلکھا دیکھا: لا إله إلا الله، محمد رسول الله۔ تب وہ اس وقت رویا اور کہا: اے بیٹے! کاش اللہ یہ ارادہ کرے کہ تو جلد دنیا میں آ جائے اور ہمیں اس کم بختی اور مصیبت سے چھڑائے۔
مزید برآں، احادیث نبویہ
میں اس بشارت کا مضمون وارد ہوا ہے، جس سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انجیلِ برناباس میں جو بشارت بیان کی گئی ہے، وہ بلا شک و شبہ درست اور معتبر ہے۔ امام حاکم حضرت عمر
سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ
نے ارشاد فرمایا:
لما اقترف آدم الخطيئة، قال: يا رب، أسألك بحق محمد لما غفرت لي، فقال الله: يا آدم، وكيف عرفت محمدا ولم أخلقه؟ قال: يا رب، لأنك لما خلقتني بيدك، ونفخت في من روحك، رفعت رأسي، فرأيت على قوائم العرش مكتوبا: لا إله إلا الله محمد رسول الله، فعلمت أنك لم تضف إلى اسمك إلا أحب الخلق إليك، فقال الله: صدقت يا آدم، إنه لأحب الخلق إلي، ادعني بحقه فقد غفرت لك، ولولا محمد ما خلقتك. 33
جب حضرت آدمسے لغزش ہوئی تو وہ اللہ کے حضورعرض گزار ہوئے : اے میرے پروردگار ! میں بحق محمد
تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے معاف کردے۔اللہ تعالیٰ (جو سب کچھ جانتا ہے)نے فرمایا: اے آدم
!تم محمد
کو کیسے جانتے ہو حالانکہ ابھی تو وہ دنیا میں تشریف نہیں لائے ہیں؟ حضرت آدم
نے عرض کیا:اے میرے رب!تو نے جب مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور اپنی روحِ خاص مجھ میں پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو قوائمِ عرش پر لا إله إلا الله محمد رسول اللهلکھا ہوا دیکھا ،اس وقت میں جان گيا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ صرف اسی کا نام ملایا ہوگا جو ساری مخلوق میں سب سے زیادہ تجھے پسندیدہ ومحبوب ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے آدم
! تم نے سچ کہا ،بیشک وہ ساری مخلوق میں مجھے محبوب ترین ہیں،تم ان کے وسیلہ سے دعا کرو میں ضرور تمہاری بخشش کروں گا۔اور اگر محمد
نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا۔
اسی طرح ابن ہشام، وہب بن منبہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت آدم
پیدا ہوئے تو جبرائیل
نے فرمایا: اے آدم
! تم تمام انسانوں کے باپ ہو، لہٰذا اپنے رب کا شکر ادا کرو۔ آدم
نے آسمان کی طرف دیکھا تو عرش کے پائے پر نور سے لکھا ہوا دیکھا: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔ چونکہ آدم فطری طور پر الہام یافتہ تھے، اِس لیے آپ
نے محمد
کے متعلق دریافت کیا ۔ جبرائیل
نے فرمایا: یہ اللہ کے حبیب (محمد)
ہیں، تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ مکرم، اور آپ
کی نسل سے آخری نبی۔34
صرف یہی نہیں، بلکہ عیسائی علماء میں انصاف پسند اور حقیقت پسند حضرات کو بھی اس بشارت کا علم تھا، اور وہ اس کی صداقت اور اہمیت کا اقرار کرتے تھے۔ واقدی لکھتے ہیں کہ حضرت عمر
کے دور میں جب صحابہ کرام شام کی سرزمین پر رومیوں سے برسر ِپیکارتھے، اس وقت روم کے بادشاہ نے سطیس نامی ایک عیسائی عالم کو صحابہ کرام کے پاس قاصد بنا کر بھیجا۔عیسائی عالم جب آئے تو ان کی ملاقات لشکر اسلامی کے کمانڈر خالد بن ولید
سے ہوئی۔عیسائی عالم نے خالد
کو دیکھتے ہی کہا : معلوم ہوتا ہے کہ تم ہی وہ قوم ہو جن کی بشارت عیسیٰ بن مریم
نے دی تھی۔ پھر کہا کہ مجھے اپنے نبی کے بارے میں بتاؤ؟ خالد
نے رسول اللہ
کے دیگر اوصاف حمیدہ کے ساتھ اسی بشارت کا مضمون ذکر کیااور کہاکہ نبی اکرم
نے فرمایا:میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم
ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھے۔ اور جب اللہ نے عرش کو پیدا کیا تو اس پر یہ لکھاتھا :لا إله إلا الله محمد رسول الله۔پھر جب آدم
نے خطا کی تو انہوں نے عرش کے پائے پر یہی تحریر لکھی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے محمد
کے بارے میں دریافت کیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمہاری نسل میں سے وہ بیٹا ہے، کہ اگر یہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔35
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت آدم
کے اصل صحیفے کا متن اگرچہ آج محفوظ نہیں، تاہم سابقہ کتب مقدسہ، اسلامی روایات، قرآنی اشارات، تفسیری بیانات اور احادیثِ نبویہ پائی جانے والی بشارات اس حقیقت کو تقویت دیتی ہیں کہ آغازِ انسانیت ہی سے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ
کی آمد، عظمت اور عالمگیر رسالت کا ذکر مختلف انداز سے ظاہر فرمایا۔ سفرِ پیدائش کی بشارت ہو یا انجیلِ برناباس میں منقول روایات، ان کا مرکزی مفہوم یہی ہے کہ شیطان پر حقیقی، کامل اور عالمگیر غلبہ اس ہستی کے ذریعے ظاہر ہوا جس نے انسانیت کو شرک، اخلاقی فساد، گمراہی اور شیطانی نظامِ حیات سے نکال کر توحید، عبادت، پاکیزگی، اخوت اور عدل کی راہ پر قائم کیا۔ یہ شان کسی محدود قومی یا عارضی دعوت کے حامل نبی کی نہیں، بلکہ خاتم الانبیاء
کی ہے، جن کی نبوت تخلیقِ آدم
سے قبل اللہ تعالیٰ کے علم و تقدیر میں مقرر تھی، جن کا نام عرش پر کلمۂ توحید کے ساتھ جلوہ گر تھا، اور جن کی بعثت نے انسانی تاریخ میں حق و باطل کے معرکے کو فیصلہ کن رخ عطا کیا۔ اس بنا پر حضرت آدم
سے متعلق مذکورہ بشارات صرف تاریخی یا تمثیلی روایات نہیں، بلکہ وہ نبوتِ محمدی
کی قدامت، مرکزیت، جامعیت اور عالمگیر حقانیت پر دلالت کرنے والی اہم شہادتیں ہیں۔