encyclopedia

حضرت عبد المطلب شیبہ ابن ہاشم – سیرت اور رسول اللہ ﷺ کی کفالت

Published on: 08-Jul-2026
حضرت عبد المطلب شیبہ ابن ہاشم – سیرت اور رسول اللہ ﷺ کی کفالتنسب، ولادت اور خاندانی پس منظر:حضرت عبد المطلب (شیبہ بن ہاشم) بنو ہاشم کے معزز سردار تھے، ان کی ولادت تقریباً 495 یا 497 عیسوی میں ہوئی۔ آپ حضور ﷺ کے دادا تھے۔زم زم کی بازیافت اور خدمتِ حرم:آپ نے خواب کی رہنمائی سے زم زم کا کنواں دوبارہ دریافت کیا، سقایہ و رفادہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور حاجیوں کی خدمت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔عام الفیل اور بیت اللہ کا دفاع:570 عیسوی میں ابرہہ کے حملے کے موقع پر حضرت عبد المطلب نے بیت اللہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا، جس کے بعد لشکرِ ابرہہ عبرتناک انجام سے دوچار ہوا۔حضور ﷺ کی ولادت اور کفالت:عام الفیل کے تقریباً پچاس یا پچپن دن بعد حضور ﷺ کی ولادت پر حضرت عبد المطلب نے خوشی کا اظہار کیا، نام محمد ﷺ رکھا اور اپنی وفات تک آپ ﷺ کی محبت و پرورش کا اہتمام کیا۔شخصیت، وفات اور دینی کردار:حضرت عبد المطلب اپنی سخاوت، شرافت، قیادت اور دینِ ابراہیمی علیہ السلام پر استقامت کے باعث ممتاز رہے، تقریباً بیاسی برس کی عمر میں الحجون میں مدفون ہوئے۔ازدواج، اولاد اور بنو ہاشم کی میراث:حضرت عبد المطلب کی متعدد ازواج، دس معروف بیٹے اور کئی بیٹیاں تھیں، جن میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابو طالب، حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نمایاں ہیں۔

شیبہ ابن ہاشم، جو حضرت عبد المطلب Radi Allah Anho کے نام سے تمام مسلمانوں میں معروف ہیں، حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے داداتھے۔1آپ کا اصل نام شیبہ الحمد تھا جبکہ آپ کی کنیت 2ابو حارث اور ابو بطحا 3تھی۔ آپ Radi Allah Anho اپنے لقب سے مشہور تھے جس کا معنی المطلب کا غلام یا خادم تھا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ Radi Allah Anho کا اصل نام عامر تھا اور شیبہ آپ کا لقب تھا، لیکن السہیلی کے مطابق یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ 4

ایک اندازے کے مطابق حضرت عبد المطلبRadi Allah Anho کی پیدائش 495 عیسوی5یا 497 عیسوی 6میں ہوئی تھی۔ آپRadi Allah Anho نہایت شریف النفس ، اعلیٰ کردار کے حامل بڑی عزت کے حامل شخص تھے۔7آپRadi Allah Anho کی شخصیت حسن و جمال، تعظیم و ادب اور اعلیٰ ظرفی و شرافت کا حسین امتزاج تھی۔8قبیلۂ قریش میں آپ Radi Allah Anho پروقار اور بردبار شخصیت سے جانے پہچانے جاتے تھے۔9

ہاشم ابن عبد مناف

حضرت عبد المطلبRadi Allah Anho کے والد کا نام ہاشم بن عبد مناف تھا 10اور آپRadi Allah Anho کی والدۂمحترمہ کانام سلمہ بنت عمرو تھا۔11ہاشم بن عبد مناف کا اصل نام عمرو تھا لیکن آپ ہاشم کے نام سے زیادہ معروف تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی آپ نے قحط سالی کے دوران مکہ مکرمہ کے لوگوں کو روٹیاں تور کر ثرید بنا کر خوب کھلایا تھا۔ ہاشم بن عبد مناف فلسطین گئے اور وہاں سے مکہ مکرمہ آٹا لے کر آئے تھے، آتے ہی آپ نے حکم دیا کہ روٹیاں تیار کی جائیں۔ اس کے بعد آپ نے اونٹوں کے ذبح کیا اور ثرید بنا کر لوگوں کو کھلایاتھا۔ 1213

ہاشم بن عبد مناف قبیلۂ قریش کے مضبوط اور طاقت ور لوگوں میں شمار کیے جاتے تھے۔آپ نے ہی شام، یمن اور حبشہ سے تجارتی مراسم کا آغاز کیا تھا۔آپ نے ان تینوں ممالک کے ساتھ قریش کے تجارتی معاملات اور اس کی حفاظت کا ذمہ لیا جس کے ذریعے قبیلۂ قریش کو مکہ مکرمہ کے علاوہ ان ممالک میں بھی آزادی کے ساتھ تجارت کرنے کی اجازت ملی۔ آپ ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے پڑوسی ممالک کے تھاامن و سلامتی کے معاہدے کیے اور سال میں دو مرتبہ سردی اور گرمی کے تجارتی کاروان کا انتظام کیا تھا۔14ہاشم بن عبد مناف بذات خود دوستانہ و برادرانہ تعلقات استوار کرنے کے لیے بازنطینی سلطنت اور غسان کے سرحدی علاقوں میں گئے۔وہاں سے آپ نے قریش کے لیے شام کے علاقوں میں بلا خوف و خطر تجارتی سفر کرنے کی اجازت حاصل کی تھی۔15آپ کے قیصر روم سے بھی اچھے تعلقات تھے۔ آپ متعدد مرتبہ قیصر روم سے ملاقات کے لیے گئے جس آپ کی عزت و تکریم کی اور آپ کی تجارتی کوششوں کو سراہا۔16

حضرت عبد المطلب کی والدہ سلمہ بنت عمرو کا مدینے کے ایک قبیلے بنی ابن النجار سے تعلق تھا۔ آپ اپنے قبیلے میں ایک اہم شخصیت کے طور پر پہچانی جاتی تھیں۔ ہاشم بن عبد مناف سے نکاح کے لیے آپ نے یہ شرط رکھی کہ اپنے تمام معاملات کی نگرانی خود کریں گی۔ 17

ہاشم بن عبد مناف کا سلمہ بنت عمرو سے نکاح

شام کے تجارتی سفر کے دوران ہاشم نے یثرب میں عمرو ابن زید ابن لبید الخزرجی کے ہاں قیام فرمایا۔ وہاں آپ نے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھنے والے عمرو کی بیٹی سلمہ کو دیکھاجو پیدائشی طورپر ایک باک باز خاتون تھیں۔18اس وقت سلمہ بنت عمرو تجارتی اہلکاروں کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں گفت و شنید میں مصروف تھیں۔ آپ کو ان سے محبت ہوگئی اور ان کے شادی شدہ ہونے کے متعلق دریافت کیا۔ معلومات ملنے پر پتہ چلا کہ آپ کی علیحدی ہوچکی ہے لیکن آپ ایک خودمختار عورت ہیں۔ ہاشم نے ان سے نکاح کی رضامندی سے متعلق دریافت کیا۔ آپ کی شخصیت اور عرب میں آپ کے چرچے سے سلمہ بنت عمرو متاثر ہوئیں اور نکاح کا پیغام قبول کیا۔ 19

سلمہ بنت عمرو سے اجازت ملنے کے بعد آپ نے ان کے والد عمرو سے اپنی دوسری بیوی کے طور پر نکاح کی اجازت طلب کی، یوں آپ کی سلمہ بنت عمرو سے شادی ہوگئی جس میں یہ شرط رکھی گئی کہ حمل ٹھہرنے کی صورت میں بچہ کی ولادت یہیں یثرب میں ہمارے خاندن میں ہی ہوگی جسے آپ نے منظور پرکرلیا۔ کچھ عرصے بعد سلمہ بنت عمرو امید سے ہوئیں اور آپ اپنے شوہر ہاشم بن عند مناف کے ساتھ مکہ روانہ ہوگئیں۔ دونوں نے کچھ وقت مکہ مکرمہ میں قیام کیا، لیکن جب بچہ کی ولادت کے دن قریب آئے تو ہاشم نے سلمہ بنت عمرو کو اپنے خاندان میں واپس لے جانے کے لیے سفر پر روانہ ہوئے لیکن شام کے سفر کے دوران غزہ کے مقام پر آپ کا نتقال ہوگیا۔20497 عیسوی میں آپ کے ہاں ولادت ہوئی جس کا نام آپ نے نے شیبہ رکھا21کیونکہ بچہ کے سر کے بال سفید رنگ کے تھے۔2223آپ اپنے بچے کو لے کر یثرب اپنے والد کے گھر پہنچیں۔ ہاشم کے انتقال کے بعد آپ کے بھائی المطلب نے السقایہ اور الرفادہ کی ذمہ داری سنبھالی جسے آپ اپنی زندگی میں سرانجام دے رہے تھے۔24

عبد المطلب کی اپنے چچا المطب کے ساتھ مکہ واپسی

ہاشم بن عبد مناف غزہ میں شیبہ کی ولادت سے قبل انتقال کر گئے تھے اور شیبہ ( عبد المطلب) کی ولادت کے متعلق مکہ میں ان کے خاندان میں سے کسی کو کوئی خبر نہیں تھی۔ شیبہ سات سے آٹھ سال تک اپنے ننیال میں پرورش پاتے رہے۔ 25ایک مرتبہ بنو الحارث ابن عبد منات میں سے ایک شخص کا گزر یثرب سے ہوا، وہاں کچھ بچے تیر اندازی کا مقابلہ کررہے تھے۔ ان کے درمیان شیبہ بن ہاشم بھی تھا۔ جب شیبہ اپنے نشانے پر تیر پھینکتا تو بلند آواز میں کہتا :" میں ہاشم کا بیٹا ہوں، میں بطحا کے سردار کا بیٹا ہوں۔" اس شخص نے بچوں سے شیبہ کی شناخت کے متعلق دریافت کیا تو لڑکوں سے اسے بتایا کہ یہ بچہ شیبہ ہے جو ہاشم کا بیٹا ہے۔ 26جب وہ شخص مکہ مکرمہ واپس پہنچا تو وہاں شیبہ کے چچا المطلب سے ملاقات ہوئی۔ آپ ایک پتھر پر براجمان تھے۔ اس شخص نے سارا واقعہ عبد المطلب بن عبد مناف کو سنا دیااور بچوں نے جو کہا وہ بھی بتادیا۔ 27ابن سعد کے مطابق، جس شخص نے المطلب کو شیبہ کے متعلق اطلاع دی تھی وہ حسان بن ثابت Radi Allah Anhoکے والد تھے جس کا پورانام ثابت بن المنذر ابن حریم تھا۔ وہ المطلب کا چھا دوست بھی تھا۔اس نے المطلب سے کہا کہ اتنے باصلاحیت بچے کو اجنبیوں میں چھوڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ دیگر لوگوں نے کہا کہ کب تک وہ بچہ بڑا نہ ہوجائے اسےوہیں چھوڑ دیا جائے، لیکن المطلب نے ان کی بات نہیں مانی اور کہا کہ میں اس بچہ کو نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ اس طرح اسے پتہ نہیں چل سکے گا کہ اس کا خاندان عرب میں کتنا مشرف ہے۔28

المطلب یثرب اپنے بھتیجے کو لینے پہنچ گئے۔29وہاں آپ نے بنی نجار کے ایک گھر میں قیام کیا اور اپنے بھتیجے کو تلاش کرنا شروع کردیا۔ آخر کا ر آپ نے اپنے بھتیجے کو اپنے ماموؤں کے ساتھ تیر اندازی کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ جب آپ نے اپنے بھتیجے کو دیکھا تو اس میں اس کے والد ہاشم کی مشابہت پائی جسے دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور آپ کے گال آنسوؤں سے بھر گئے۔ المطلب نے بے ساختہ اپنے بھتیجے کو گلے سے لگا لیا اور اسے یمنی لباس پہنایا۔30اس کے بعد آپ نے اپنے بھتیجے کو اونٹ پر بٹھادیا۔ شیبہ ان کے ساتھ مکہ جانے سے کترارہا تھا یہاں تک کہ آپ نے شیبہ کی والدہ سے اسے لے جانے کی اجازت لینے کا ارادہ کیا۔ 31آپ نے شیبہ کی والدہ سلمہ سے اجازت مانگی لیکن والدہ نے اجازت دینے سے انکا رکردیا۔ آپ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ میں اپنے بھتیجے کو لیے بغیر کہیں نہیں جاؤں گا۔ المطلب نے شیبہ کی والدہ سے کہا کہ ہمارا خاندان عزت و تکریم والا ہے اور ہم بیت اللہ کے محافظ ہیں۔ ہمارا خاندان عرب میں انتہائی شہرت رکھتا ہےاور ہم طاقت اور سرداری اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں۔ اسی لیے اس لڑکے کے لیے بہتر یہی ہے یہ اپنےخاندان اور قبیلے میں پرورش پائے ۔ المطلب نے شیبہ بن ہاشم کی والدہ سلمہ کو اس بات پر قائل کرلیا کہ صرف مکہ میں ہی شیبہ اپنے والد کی حیثیت پر بحال ہوسکتاہے اور بیت اللہ کے قریب رہائش اختیار کرسکتاہے۔32المطلب کے پرعزم ارادے کو دیکھ کر شیبہ کی والدہ نے آخر کار رضامندی اختیار کرلی لیکن اسے اپنے پاس تین دن تک رکھنے کی اجازت مانگی۔33

اس کے بعد المطلب شیبہ کو مکہ مکرمہ واپس لے آئے۔ قریش یہ سمجھے کہ یہ بچہ المطلب کا غلام ہے تو انہوں نے شیبہ کو عبد المطلب پکارنا شروع کردیا۔ جب المطلب کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے اس بچہ کی حیثیت سب کے سامنے واضح کردی کہ یہ میرا غلام نہیں بلکہ میرے بھائی ہاشم بن عبد مناف کا بیٹا ہے جسے میں یثرب سے لے کر آیا ہوں۔34بہرحال، عبد المطلب کا لقب اتنا مشہور ہوا کہ آپ کا اصل نام نظر انداز ہوگیا۔35

عبد المطلب اور نوفل کے مابین تنازعہ

المطلب نے فیصلہ کیا کہ شیبہ کو اس کے والد کی میراث میں سے حصہ دے دیا جائے، لیکن وراثت کی تقسیم کے دوران نوفل بن عبد مناف نے زمین کے ایک حصے پر تنازعہ کیا اور عبد المطلب سے اس حصے کو غیر قانونی طریقے سے لے لیا۔ المطلب کے انتقال کے بعد نوفل نے عبد المطلب کو پانی پلانے اور حاجیوں کی خدمت کرنے کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا جس پر عبد المطلب نے قریش نے مدد طلب کی لیکن کسی نے بھی عبد المطلب کی مدد کرنے کی حامی نہیں بھری، ان کا یہ کہنا تھا کہ ہم چچا اور بھتیجے کی لڑائی میں خود کو ملوث نہیں کرنا چاہتے۔ قریش کے جواب پر عبد المطلب نے قبیلۂ بنو جنار اپنے ماموؤں سے مدد کی درخواست کی۔ خط ملنے پر انہوں نے عبدالمطلب کو عسکری مدد فراہم کرنے کا ارادہ کرلیا تاکہ اپنے بھانجے کے تلف شدہ حقوق کا ازالہ کیا جاسکے۔عبد المطلب کے ماموں ابو سعد بن عدس النجاری مکہ کی جاب روانہ ہوئے، آپ نے عتبہ کے مقام پر اپنا خیمہ نصب کیا۔ عبد المطلب نے انہیں خوش آمدید کہا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ پہلے میرے گھر تشریف لے چلیں۔ ابو سعد نے کہا کہ میں پہلے نوفل سے ملاقات کروں گا چانانچہ آپ کو نوفل بیت اللہ کے سائے میں بیٹھا مل گیا۔ ابو سعد نے اس پر اپنی تلوار تانی اور کہا: " میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر تم نے میرے بھانجے کو وہ سب کچھ واپس نہیں کیا جسے تم نے غلط طریقے سے ہتھیا لیا ہے، اس تلوار سے میں تمہاری جان لے لوں گا۔" نوفل نے ابو سعد سے لڑائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور عبد المطلب کو اس کا حصہ دینے پر راضی ہوگیا۔ اس کی رضامندی پر قریش کے بڑے لوگ شاہد ہوگئے۔ اس کے بعد ابو سعد عبد المطلب کے گھر گئے اور وہاں تین رات قیام کیا، عمرہ ادا کیا اور پھر واپس یثرب تشریف لے گئے تھے۔ 36

پانی پلانا اور حاجیوں کی امداد کرنا

المطلب کی وفات کے بعد عبد المطلب نے السقایہ اور الرفادہ کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ آپ نے اپنے آباؤاجداد کے اس کام کو اپنے لوگوں کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے انجام دیا۔ اپنی جواں مردی اور حاجیوں کی خدمت گزاری میں آپ اس قدر پیش پیش رہتے کہ اپنے آباؤاجداد سے بھی زیادہ لوگوں میں جانے پہچانے جانے لگے اور لوگوں نے آپ کی خدمات کو زیادہ سراہنا شروع کردیا۔ 37

زم زم کے کنویں کو جرہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص مضاد بن عمرو 38نے کچھ صدیوں پہلے تباہ کردیا تھا۔39مکہ میں پانی کی فراہمی باہر کے کنووں سے اونٹوں اور دیگر جانوروں کے ذریعے کی جاتی تھی۔ پانی کو بیت اللہ کے قریب چھوٹے چھوٹے تالابوں میں جمع کیا جاتا تھا۔ پانی زیادہ تر نمکین ہوتا ۔ اسے پینے کے قابل بنانے کے لیے اس میں کھجوریں اور کشمش ڈالی جاتی تھیں۔40عبد المطلب نے مکہ کے باشندوں کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے اور زم زم کے کنویں کو کھدوانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے۔

زم زم کے کنویں کی کھدائی

زم زم کا اصل کنواں جسے سب سے پہلے حضرت آدمAlaihis Salam نے دریافت فرمایا تھا اور جو بعد میں حضرت اسماعیل Alaihis Salam کے قدموں سے جاری ہوا تھا،41صدیوں تک زیر زمین انسانوں کی آنکھوں سے اوجھل تھا، کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کنویں کی اصل جگہ کون سی ہے۔ 42مکہ کے باہر موجود کنووں سے پانی لانا انتہائی تکلیف دہ عمل تھا جس میں کثیر محنت لگتی تھی، ساتھ ہی کثیر حاجیوں کے لیے پانی کا انتظام کرنا بھی بہت مشکل مرحلہ ہوا کرتا تھا، جس کا انتظام عبدالمطلب اپنی پوری توانائی کے ساتھ کررہے تھے۔ آپ نے اس کا حل سوچنا شروع کردیا اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے غورو خوض کرنا شروع کردیا۔ ایک رات آپ نے خواب میں زم زم کے کنویں کی جگہ دیکھی، صبح ہوتے ہی آپ نے اس مقام پر کھدائی کرنے کا حکم دے دیا۔ 43

عبد المطلب کو یہ خواب اسوقت آیا جب آپ ہجر کے مقام پر سورہے تھے، خواب میں انہیں برۃ کھودنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اٹھنے کے بعد انہوں نے تفتیش کی کہ برۃ کیا ہے، لیکن انہیں خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ دوسرے دن جب وہ اسی مقام پر دوبارہ آرام فرمارہے تھے، وہی خواب انہوں نے دوبارہ دیکھا جس میں انہیں المضنونۃ کھودنے کا حکم دیا گیا، انہوں نے اس کے بارے میں بھی استفسار کیا لیکن خواب ختم ہوگیا تھا، اگلے دن انہوں نے ایک اور خواب دیکھا جس میں انہیں حکم دیا گیا کہ مضعہ کی کھدائی کی جائے لیکن اس بار بھی انہیں مضعہ کا معنی صحیح طور پر معلوم نہیں ہوسکا۔ اگلے دن پھر خواب دیکھا جس میں انہیں طیبۃ کھودنے کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے اس کے متعلق استفسار کیا لیکن اس بار بھی خاطر جواب حاصل کرنے سے محروم رہے اور خواب ختم ہوگیا۔ اگلے دن انہیں ایک بار پھر خواب دکھایا گیا لیکن اس بار انہیں زم زم کھودنے کا حکم دیا گیا۔ عبد المطلب نے قریش کے لوگوں کو اپنے خواب کے بارے میں آگاہ کیا اور ان سے پوچھا کہ زم زم کے کنویں کے کنویں کے متعلق اگر انہیں کوئی خبر ہے تو مجھے بتائیں۔ عبد المطلب نے اہل قریش سے کہا کہ مجھے زم زم کی جگہ معلوم نہیں ہے، انہوں نے عبد المطلب کو مشورہ دیا کہ آپ اسی مقام پر دوبارہ سوئیں۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے تو ضرور یہ دوبارہ دکھایا جائے گا۔ جب آپ دوبارہ اسی مقام پر سوئے تو ایک اور خواب آپ نے دیکھا جس میں انہیں بتایا گیا کہ اگر وہ زم زم کا کنواں کھودیں تو انہیں مایوسی نہی ہوگی۔ یہ کنواں ان کے جد امجد کی میراث ہے، جو کبھی خشک نہیں ہوگااور یہ کنواں حاجیوں کو پانی فراہم کرے گا۔ خواب میں انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ زم زم کا کنواں فضلہ اور خون کے درمیان ہے، کوّے کے گھونسلے کے قریب جس کی سفید ٹانگیں ہیں اور وہاں چیونٹیوں نے اپنا گھر بنایا ہوا ہے۔4445

اگلے دن عبد المطلب مسجد حرام گئے اور وہاں خواب میں دکھائی گئی علامات کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ آپ ادھر ادھر بغور جائزہ لے رہے تھے، آپ نے دیکھا کہ ایک کوّا جس کا گلا کٹا ہوا ہےاپنے زخمی ہونے کے مقام سے بھاگا ۔ آپ نے اس کا پیچھا کیا حتی کہ وہ کوّا ایک جگہ پہنچا جہاں اس کاخون زمین پر گرا ور وہ مرگیا، یہ مقام اساف اور نائلہ کے بتوں کے درمیان واقع تھا۔ جب آپ وہاں پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ کوّا اپنی چونچ سے زمین کھود رہا ہے جس کے قریب چیونٹیوں کی بستی بھی آباد تھی۔46

یہ سب علامات دیکھنے کے بعد عبد المطلب سمجھ گئے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے اشارے ہیں۔ چنانچہ آپ نے کدال لی اور اپنے بیٹے الحارث کے ساتھ کھدائی کرنے کے مقام پر گئے۔ اس وقت آپ کا یہی ایک بیٹا تھا۔47وہاں پہنچ کر آپ نے کھدائی کا آغاز کردیا۔ جب قریش کے لوگوں نے آپ کو اساف اور نائلہ کے بتوں کے درمیان کھدائی کرتے ہوئے دیکھا تو انہیں کام کرنے سے منع کیا اور کہا کہ آپ کو ہم اس مقدس مقام پر کھدائی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، یہ وہ مقام ہے جہاں ہم اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔48یہ بھی روایت موجود ہے کہ انہیں خواب میں یہ بھی بتادیا گیا تھا کہ ان کے اپنے لوگ ان کے خلاف ہوجائیں گے لیکن بعد میں وہ سب آپ کے ساتھ اس کام میں شریک ہوجائیں گے۔49اس کے بعد عبد المطلب نے اپنے بیٹے الحارث کو کہا کہ وہ کھڑاہوجائے اور لوگوں سے میری حفاظت کرے تاکہ میں کنویں کی کھدائی کرتا رہوں، کیونکہ آپ اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے جس کا آپ کو خواب میں حکم دیا گیا تھا۔جب لوگوں نے دیکھا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود آپ کو روکنے میں ناکام ہوگئے ہیں تو انہوں نے آپ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔50

عبد المطلب مسلسل تین دن تک کھدائی میں مصروف رہے،51آخر کار کنویں کے اوپری حصے کے آثار نمایاں ہوئے اور کنویں کے اوپر رکھا گیا پتھر نظر آنے لگا۔ قریش کے لوگوں نے جان لیا کہ عبد المطلب کو خواب میں بالکل صحیح علامات بتائی گئی ہیں۔جیسے جیسے کھدائی کا عمل آگے بڑھتا گیا، انہیں دو سونے کے ہرن ملے جنہیں بنو جرہم نے مکہ سے نکلتے وہت وہاں دفن کردیے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں وہاں سفید تلواریں اور زرہیں بھی ملیں۔ 52جب اہل قریش نے جان لیا کہ عبد المطلب اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکے ہیں تو وہ ان کے پاس گئے اور دعوی کیا کہ یہ کنواں ان کے والد حضرت اسماعیل Alaihis Salam سے تعلق رکھتا ہے، لہذا ان کا بھی اس کنویں پر حق ہے۔ انہوں نے عبد المطلب سے اس کنویں کی کھدائی سے حاصل ہونے والے مال میں اپنی شراکت داری طلب کی اور کہا کہ ہمیں بھی اس میں سے حصہ دیا جائے۔53

عبد المطلب نے ان کا دعوی مسترد کردیا اور کہا کہ یہ کام خاص مجھے ہی تفویض کیا گیا تھا۔ قریش مکہ نے عبد المطلب سے دوبارہ کہا آپ ہمارے ساتھ انصاف کریں، ہم آپ سے اس وقت ہمارے حصہ کا مطالبہ کرتے رہیں گے جب تک آپ وہ ہمیں دے نہیں دیتے۔ آخر کا ر عبد المطلب نے کہا کہ تم کسی شخص کو اپنے درمیان ثالث مقرر کرلو اور اس سے فیصلہ کروالو۔ قریش نے اس بات کو تسلیم کیا اور نبی ہذیم کی ایک کاہنہ کو ثالث مقرر کرنے کی تجویز پیش کی، عبد المطلب نے اسے قبول کرلیا۔54

اس کے بعد عبد المطلب شام کی طرف ورانہ ہوئے، اس قافلے میں ان کے ساتھ بنو عبد مناف کے 20 افراد اور قریش کے دیگر قبائل سے 20 افراد شامل تھے۔ سب لوگ صحرا میں سفر کررہے تھے پھر ایک وقت آیا کہ پانی کا ذخیرہ ختم ہوگیا۔ وہ لوگ پانی کی تلاش میں ادھر ادھر گئے لیکن کہیں پانی نہیں ملا، پیاس سے ان کا اتنا برا حال ہوگیا تھا کہ ہر شخص یقین کرچکا تھا کہ وہ اس صحرا میں پیاس سے مر جائے گا۔ عبد المطلب نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ اپنی باقی ماندہ طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ہر شخص اپنی قبر تیار کرلے، اگر کسی کی موت واقع ہوجاتی ہے تو دوسرے اسے بآسانی قبر میں دفن کرسکتے ہیں۔ جب سب نے اپنی اپنی قبریں کھودڈالیں، عبد المطلب نے انہیں پانی کی تلاش جاری رکھنے پر ابھارا اور کہا کہ بغیر کوشش کے مرنے سے بہتر ہے کہ پانی کی تلاش کرتے ہوئے انتقال کرجائیں۔ جب عبدالمطلب کا اونٹ کھڑا ہوا تو میٹھے پانی کا ایک چشمہ ان کے اونٹ کے کھر کے نیچے جاری ہوگیا۔55سب نے اس عظیم نعمت کے ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ عبد المطلب نے تمام لوگوں کو پانی پینے کے لیے بلایا تاکہ سب اپنی پیاس کو بجھا سکیں۔ سب نے جی بھرکر پانی پیا اور اپنے مشکیزے پانی سے بھر دیے۔ اس کے بعد سب نے اعلان کردیا کہ اللہ کی طرف سے عبد المطلب کے حق میں فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ ہم اب زم زم کے کنویں کے متعلق عبدالمطلب نے بالکل نہیں الجھیں گے۔56

جب وہ لوگ واپس مکہ آئے تو قریش مکہ نے سونے کے ہرنوں، تلواروں اور زرہوں میں سے اپنا حصہ طلب کیا۔ بالآخر انہوں نے مسئلہ کے حل کے لیے فال ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے دو پیلے تیر کعبہ کے لیے مقرر کے، دو سیاہ تیر عبد المطلب کے لیے اور دو سفید تیر قریش کے لوگوں کے لیے منتخب کیے گئے۔ یہ تمام تیر اس شخص کو دیے گئے جو ہبل بت کے پاس تیر ڈالنے کے لیے مقرر تھا۔ جب تیر ڈالنے والے نے تیر ڈالے تو دونوں زردتیر دونوں ہرنوں پر نکلے۔ عبدالمطلب کے دونوں کالے تیر وں پر تلواریں اور زرہیں برآمد ہوئیں جبکہ قریش کے دونوں تیر کسی چیز پر نہیں نکلے۔ عبد المطلب نے تلواروں کو خانہ کعبہ میں دروازے کے طور پر نصب کردیاور دروازے میں وہ دونوں سونے کے ہرنوں کو بھی نصب کردیا۔ اس کے بعد زم زم سے حاجیوں کو پانی بلانے کا انتظام عبد المطلب نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور وہ السقایہ کی ذمہ داری آسانی کے ساتھ ادا کرنے لگے۔ 5758 زم زم کے کنویں نے تمام کنووں پر برتری حاصل کرلی جس کی وجہ سے قریش اور دیگر قبائل میں میں عبد مناف کا قبیلہ برتر واعلیٰ سمجھا جانے لگا۔5960

عبد المطلب کو ہرب بن امیہ نے للکارا

روایتوں میں آتا ہے کہ ہرب ابن امیہ نے دعوی کیا کہ وہ عبد المطلب نے زیادہ عزت و تکریم والا ہے، اس نے حبشہ کے نجاشی سے درخواست کی عبد المطلب بن ہاشم اور ہرب بن امیہ کے درمیان فیصلہ کریں، لیکن نجاشی نے منع کردیا جس پر نوفل بن عبدالعزا بن ریاح کو اس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس نے ہرب سے کہا کہ اے ابو عمرو! کیا تم ایسے شخص للکاررہے ہو جو تمہارے قد سے اونچا ہے، جس کا سر تمہارے سر سے بڑا ہے، جس کا چہرا تم سے زیادہ حسین ہے ، جو ایک اچھے خاندان سےتعلق رکھتا ہے، جس کے تم سے زیادہ بیٹے ہیں، جو تم سے زیادہ تحفہ تحائف دیتا ہے، اور پر اثر بیان کرنے والا ہے؟ اس کے بعد نوفل بن عبدالعزا نے اعلان کیا کہ عبد المطلب اپنے مقابلے میں آنے والے شخص سے زیادہ عزت و احترام والا ہے۔61

مکہ پر ابرہہ کا حملہ(570 عیسوی)

ابو یکسوم ابرہہ الاشرم ایک فوجی سپہ سالار تھا جس نے یمن نے حبشی گورنر ارياط کو قتل کرکے اس کی طاقت کا خاتمہ کیا اور خو کو نیا گورنر نامزد کردیا۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو اس کی یہ حرکت بالکل نہیں بھائی، وہ اسے سزا دینے کی خواہش رکھتا تھا لیکن بعض وجوہات کی بنا پر وہ اسے سزا نہیں دے سکا۔ اس طرح ابرہہ الاشم نے خود کا ظالمانہ طریقے سے یمن کا گورنر نامزد کردیا۔62جب ابرہہ الاشرم نے دیکھا کہ لوگ کعبہ کی زیارت کے لیے تیاریاں کررہے ہیں، اس نے لوگوں سے پوچھا کہ کہاں جانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ اسے بتایا گیا کہ لوگ بیت اللہ کی زیارت کرنے کے لیے مکہ مکرمہ جانے کی تیاری کرہے ہیں جہاں وہ حج ادا کریں گے۔ اس نے لوگوں سے بیت اللہ کی عمارت کے متعلق معلوم کیا کہ کس مادے سے یہ عمارت تعمیر کی گئی ہے، اسے بتایا کہ یہ عمارت پتھروں سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس کے بعد اس نے کعبہ کو ڈھانپے جانے والے غلاف کے متعلق پوچھا جس پر اسے بتایا گیا کہ بیت اللہ کو دھاری دار چادروں سے ڈھانکا جاتا ہے، یہ تمام چادریں یمن سے وہاں بھجوائی جاتی ہیں۔یہ سب سن کر اس نے یمن میں عیسائیوں کا کلیسا بنانے کا ارادہ کیاتاکہ لوگ بیت اللہ جانے کے بجائے عیسائیت کی طرف مائل ہوں۔اس نے ایک ایسی عمارت تعمیر کی جس میں سفید، لال، پیلا اور کالا سنگ مرمر استعمال کیا گیا، اس کی تزیین وآرائیش میں سونا، چاندی اور قیمتی پتھروں کا استعمال کیا گیا۔ اس نے کلیسا کے دروازوں کو خوبصورت بنانے کے لیے سونے کی چادروں کا استعمال کیا اور اس پر موتیوں کو چسپاں کیا۔ کلیسا کی دیواروں کو خوشبودار کرنے کے لیے اس پر مشک لگایا گیا اور خوشبودار لکڑی المندلی کو ماحول کو خوشبودار رکھنے کے جلایا گیا۔ان تمام تیاریوں کے بعد اس نے لوگوں کو کلیسا آنے کی دعوت دی اور یہیں حج کی ادائیگی کا حکم دیا۔ عرب کے کثیر قبائل نے اس کے حکم پر رضامندی اختیار کی اور کلیسامیں آکر حج کی عبادات بجا لانے لگے جس کا سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا۔ مزید یہ کہ لوگ اس کلیسا میں عبادت کرنے اور زاہدانہ زندگی گزارنے کے لیے بھی آیا کرتے تھے۔63

ابرہہ نے نجاشی کو لکھا جس کی دعوی کیا گیا کہ اس نے ایک ایسا کلیسا تعمیر کیا ہے جو اپنی مثال آپ ہے اور اس سے پہلے کبھی کسی نے ایسا کلیسا نہیں تعمیر کیا ہوگا۔اس نے اپنےخط میں یہ بھی لکھا کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک تمام عرب اس کلیسا میں آکر حج کی ادائیگی نہیں کریں گے۔64اس نے تمام اہل عرب کو اس کلیسا میں آکر حج کرنے کی دعوت دی۔65اس نے اس کام کے لیے اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں لیکن کثیر ایسے قبائل موجود تھے جنہوں نے اس کی دعوت کو ٹھکرادیا 66جبکہ بعض قبیلوں نے اس کے حکم کے مطابق کلیسا میں حج کی ادائیگی کرنا شروع بھی کردی تھی۔

النساة ميں سے ايك شخص جس کا تعلق بنی ملکان ابن کنانہ سے تھا، 67كو ابرہہ کی اس بات پر بڑا غصہ آیا اور وہ وہ یمن کلیسا کی بے حرمتی کے ارادے سے یمن کے لیے نکلا۔ 68وہ موقع کی تلاش میں تھا، اس نے طویل انتظار کیا۔ آخر کا ر اسے ایک رات موقع مل گیا ، وہ کلیسا میں داخل ہوا اور اس میں پاخانہ کردیا 69اور گھر واپس آگیا۔70

ابرہہ کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو اس نے پوچھا کہ یہ حرکت کسی کی ہے۔ اسے بتایا گیا کہ یہ عربوں میں سے کسی کا کام ہے۔ عرب چونکہ خانہ کعبہ کا بہت احترام کرتے ہیں اور وہ اس چیز کو گوار انہیں کرسکتے کہ خانہ کعبہ کے مقابلے میں کوئی ایسا مقام تعمیر کیا جائے جس کا اسی طرح طواف ہو جیسے خانہ کعبہ کا ہوتا ہے اس لیے انہوں نے اس کے کلیسا کی توہین کرنے کے لیے یہ حرکت کی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اس کا تعمیر کردہ کلیسا اس کا حق دار نہیں کہ اس کا طواف کیا جائے بلکہ وہ تو اس کا سزاوارہے کہ یہاں قضائے حاجت کی جائے۔71یہ تمام واقعہ سن کر ابرہہ کو سخت غصہ آیا اور اس نے قسم کھائی کہ جب تک وہ خانہ کعبہ کو گرا نہیں دے گا اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گا۔ ابرہہ نے اہل حبشہ کو حکم دیا کہ مکہ پر حملہ کردیا جائے۔72اس کے بعد ابرہہ نے نجاشی کو خط لکھا اور اس واقعہ کے متعلق آگاہ کیا۔ اس نے نجاشی سے درخواست کی کہ اپنے ہاتھی جس کا نام محمود ہے، بھیجے۔ محمود ہاتھی اس وقت کا سب سے جسیم ہاتھی تھا کہ ایسی جسامت والا کوئی اور ہاتھی موجود نہیں تھا۔ نجاشی نے اس کی درخواست منظور کرلیا ور ہاتھی کو ابرہہ کے لیے روانہ کردیا۔ جب محمود یمن پہنچا تو ابرہہ نے مکہ کی جانب فوج بڑھانا شروع کردی جس میں اس کا ساتھ دینے والا حمیریائی بادشاہ نفیل بن حبیب الخثعمی بھی لشکر تھا۔ 73

جب عربوں کو ابرہہ کے حملے کے متعلق اطلاع ملی تو وہ بہت ڈر گئے، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ بیت اللہ کو ڈھانے کے لیے آرہا ہے تو انہوں نے ابرہہ کی فوج سے لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔74ذو نفر نامی یمن کا ایک معزز شخص تھا، اس نے اپنے لوگوں اور عرب کے دیگر لوگوں کو ابرہہ سے لڑنے پر ابھارا اور اسے بیت اللہ پر حملہ کرنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے، ذو نفر کو قید کرلیا گیا۔ ابرہہ نے اپنی مہم جاری رکھی اور نفیل بن حبیب الخثعمی سے اس کے دو حلیف قبائل شہران اور ناہس کے ساتھ اور عرب کے معاون قبائل کے ساتھ خثعام میں ملاقات کی۔ ان قبائل نے بھی ابرہہ سے جنگ کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے تھے، نفیل کو بھی قید کرلیا گیا تھا لیکن جب نفیل کو قتل کرنے لگے تو نفیل نے اپنی زندگی کی بھیک مانگی اور عرب کے علاقے میں اپنی مکمل مدد کرنے کی رضامندی ظاہر کی اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ میرے تحت جتنے بھی عرب قبائل ہیں وہ تمہارے خلاف اقدامات اٹھانے سے گریز کریں گے۔اس بات پر ابرہہ نے نفیل کو چھوڑ دیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ 75

جب ابرہہ طائف پہنچا تو وہاں کے لوگوں کو لگا کہ ابرہہ ان کے شہر پر حملہ کرنے آیا ہے، تو انہوں نے ابرہہ کے پاس اپنے نمائندے بھیجے 76جس کی سربراہی مسعود بن موأب کررہا تھا،77اس نے ابرہہ سے تعاون کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ ہم لات بت کی عبادت کرتے ہیں، اور طائف وہ مقام نہیں جس کی تمہیں تلاش ہے کیونکہ عرب حج کرنے یہاں نہیں آتے بلکہ وہ لوگ حج کرنے مکہ مکرمہ جاتے ہیں۔ابرہہ نے ان سے ثبوت مانگا جس پر اہل طائف نے ابرہہ کے ساتھ ہذیل میں نفیل نامی شخص روانہ کیا۔ 78اس کے علاوہ انہوں نے ابو رغال کو بھی راستہ کی رہنمائی کے لیے ساتھ بھیجا جس نے ابرہہ کے لشکر کی مغماس تک رہنمائی کی۔79یہ مقام مکہ مکرمہ سے تین فرساخ 80(تقریباًچھ میل) کے فاصلے پر واقع تھا۔ 81ابرہہ نے اپنا براول دستہ الاسود بن مقصود نامی حبشی کی سربراہی میں روانہ کیا۔ وہ جب مکہ پہنچا تو اس نے قریش اور دیگر قبائل سے لوٹ ماری کی اور عبد المطلب کے دو سو اونٹ چرا لیے، عبادالمطلب اس وقت قریش کے سردار تھے۔ قریش، کنانہ، ہذیل اور دیگر قبائل کے لوگ مکہ ک حدود ک حفاظت کرنے کے لیے چاق و چوبن کھڑے تھے لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ لوگ ابرہہ کے لشکر کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو اپنے ارادے سے باز آگئے۔8283نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے لوگوں نے شہر خالی کرنا شروع کردیااور پہاڑوں میں چلے گئے۔ کوئی بھی شخص مکہ میں نہیں بچا تھا۔ سب مکہ چھوڑ کرچلے گئے تھے۔ صرف عبد المطلب بن ہاشم السقایہ کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے اور شیبان بن عثمان عبد الدار جنہیں بیت اللہ کھڑا کیا گیا تھا، مکہ میں موجود تھے۔ 84

ابرہہ نے حناط الحمیری کو مکہ پیغام رساں کے طور پر روانہ کیا کہ جاکر مکہ والوں سے کہو کہ میرا تم سے کوئی جھگڑا نہیں ہے اور میں اہل مکہ سے جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہوں۔ میں صرف خانہ کعبہ گرانے آیا ہوں اور اس کو گر ا کر واپس چلا جاؤں گا۔ اگر تم لوگوں نے مجھ سے جھگڑا نہ کیا اور میرے مقابلے پر نہیں آئے تو مجھے خون بہانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس نے حناط سے یہ بھی کہا کہ اگر ان کا سردار مجھ سے بات کرنا چاہے تو اسے میرے پاس لے آنا۔حناط الحمیری جب مکہ میں داخل ہوا تو اس نے سردار کے بارے میں دریافت کیا ، لوگوں نے کہا کہ ہمارے سردار عبد المطلب بن ہاشم ہیں۔ حناط یہ سن کر عبد المطلب بن ہاشم کے پاس گیا اور اسے ابرہہ کا پیغام پہنچایا جس کے جواب میں عبد المطلب نے کہا:

واللّٰه ما نريد حربه، وما لنا بذلك من طاقة، هذا بيت اللّٰه الحرام، وبيت خليله إبراهيم عليه السلام فإن يمنعه منه فهو بيته وحرمه ، وإن يخل بينه وبينه، فو اللّٰه ما عندنا دفع عنه. 85
اللہ کی قسم میرا ارادہ تم سے جنگ کرنے کا نہیں ہے اور نہ ہی مجھ میں اس کی طاقت ہے۔ یہ مقدس بیت اللہ ہے اور اس کے خلیل ابراہیمAlaihis Salam کا گھر ہے، اگر وہ اس کی حفاظت کرنا چاہے تو یہ اس کا گھر ہے اور مقدس جگہ ہے اور اگر وہ ہمارے اور تمہارے اسے چھوڑتا ہے تو اللہ کی قسم ہمارے پاس تم سے اسے بچانے کی کوئی طاقت نہیں ہے۔

حناط نے عبد المطلب کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا کہ بادشاہ نے مجھے حکم دیاہے کہ قریش کے سردار کو اپنے ساتھ لیتا آؤں۔86چنانچہ حضرت عبد المطلب اپنے بیٹے کے ہمراہ اس کے ساتھ روانہ ہوگئے اور اس کے خیمے میں پہنچ گئے اور ذو نفر کو تلاش کرنے لگے جو ان کا دوست بھی تھا۔ لیکن ذو نفر کو قید کیا ہوا تھا ، ذو نفر نے اپنے دوست انیس سے کہا جس کے قبضہ میں ہاتھی تھے، کہ عبد المطلب کی مدد کرو اور بادشاہ سے ان کی ملاقات کا بندوبست کرو اور سفارش بھی کردینا۔87چنانچہ انیس نے ابرہہ سے بات کی اور کہا کہ عبد المطلب قریش کے سردار ہیں اور مکہ کے کاروانوں کے مالک ہیں۔ آپ بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور پہاڑ کی چوٹی پر بھی لوگوں کی ضیافت کا اہتمام کرتے ہیں۔88اس کے بعد انیس نے ابرہہ سے عبد المطلب کے حاضر ہونے کے متعلق اجازت مانگی اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی درخواست کی۔89ابرہہ نے حضرت عبد المطلب کو اپنے خیمے میں بلایا ۔ جب آپ اس کے سامنے تشریف لے گئے تو وہ آپ کی حسن، شخصیت اور طاقتور جسامت دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور اسی کے مطابق اس نے آپ کی عزت کی۔ ابرہہ نے آپ کو اپنے ساتھ بیٹھایا ، ایک مترجم بھی ساتھ بٹھایا اور اس سے کہا کہ پوچھو، عبد المطلب کیا چاہتے ہیں۔ عبد المطلب نے جواب میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ابرہہ ان کے دو سو اونٹ واپس کردےجو اس کی فوج نے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ ابرہہ نے مترجم کے ذریعے کہا : آپ جب تشریف لائے تو میں آپ کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا تھا لیکن میں بہت مایوس ہوا جب آپ کے مطالبے کو میں نے سنا۔ کیا آپ مجھ سے صرف اپنے دو سو اونٹ واپس لینے کے لیے آئے ہیں جسے میں نے قبضہ میں لے لیے ہیں، آپ کو اپنے اور اپنے آباؤاجداد کے مذہب کے بارے میں کچھ نہیں کہنا جسے میں ختم کرنے آیا ہوں؟ عبد المطلب نے جواب دیاکہ وہ صرف اپنے اونٹوں کے مالک ہیں، اور کعبہ کا بھی ایک مالک ہے جو وہ خود بچائے گا۔ یہ جواب سن کر ابرہہ نے اپنی فوج سے کیا کہ عبد المطلب کے اونٹ انہیں واپس کردیے جائیں۔ 90

قبیلۂ بنو کنانہ کے سردار یعمر بن نفاثہ بن عدی اور قبہلۂ بنو ہذیل کے سردار خویلد بن واثلہ الہذلی نے ابرھہ کو تھامہ کے مال کا تہائی حصہ دینے کی پیشکش کردی تھی کہ وہ ویہ رقم لے اور بیت اللہ پر حملہ کرنے کے خیال سے باز آجائے لیکن ابرہہ نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا۔9192اس کے بعد عبد المطلب قریش کے پاس گئے اور مکہ چھوڑنے کا حکم دیا اور کہا کہ پہاڑوں میں جاکر اپنے بچاؤ کا بندوبست کریں ۔ اس کے بعد عبد المطلب قریش کے کچھ کوگوں کو لے کر کعبہ کی جانب گئے اور کعبہ میں داخل ہونے والے دروازے کو پکڑ کر اللہ سے ابرہہ کے لشکر کی شکست کی دعا کرنے ل93گےکہ اے اللہ! میں تیرے سوا کسی کو ان کے خلاف مدد کرنے والا نہیں جانتا! اے اللہ، اپنے گھر کی ان سے حفاظت فرما۔ بیشک، تیرے گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے! انہیں تباہ و برباد فرما کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تیرا گھر تباہ کردیں۔ 94

وہ رات ابرہہ اور اس کے لشکر کے لیے انتہائی بری ثابت ہوئی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ آسمان ستارے بہت قریب آچکے ہیں۔ انہوں نے عذاب کی علامات محسوس کیں اور خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے۔ بنو عشر اور بنو نے اپنے تیر اور تلواریں توڑڈالیں اور بیت اللہ پر حملہ کرنے میں مدد فراہم کرنے سے پیچھے ہٹ گئے۔95

اگلی صبح ابرہہ نے مکہ پر حملہ کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی فوج کو عسکری ترتیب میں مرتب کیااور مکہ کی جانب پیش قدمی کا ارادہ کیا لیکن اس کا ہاتھی اپنی جگہ پر ہی کھڑا رہا، انہوں نے خوب کوشش کی کہ اسے آگے بڑھائیں لیکن محمود ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھا۔ نفیل بن حبیب الخثعمی ہاتھی کے پہلو میں کھڑا اسے چلنے کا اشارہ دے رہا تھا لیکن ہاتھی اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں رہا تھا۔جب ہاتھی کو مکہ کی جانب لے جانے کت تمام حربے ناکام ہوگئےتو انہوں نے ہاتھی کو یمن کی جانب چلنے کے لیے اشارہ دیا اور حیرانگیز طور پر ہاتھی یمن کی جانب چلنے لگا۔ اس کے بعد انہوں نے ہاتھی کا رخ دوبارہ مکہ کی جانب کیا تو اب وہ زمین پر بیٹھ گیا گویا مکہ کی جانب سے بالکل انکاری ہوگیا۔ انہوں نے ہاتھی کو مارنا شروع کیا اور تکلیف دے دے کر اسے اٹھانے کی پوری کوشش کرڈالی لیکن ہاتھی مکہ کی جانب اپنے قدم نہیں بڑھا رہا تھا۔ 96اسی دوران اللہ تعالیٰ نے سمندر کی جانب سے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیجے۔ یہ پرندے ابابیل اور مینا سے ملتے جلتے تھے۔97ہر پرندہ چھوٹے مٹر اور مسور کی دال کے حجم کے برابر تین چھوٹے پتھر تھامے ہوئے تھا ، ایک پتھر چونچ میں اور دو پتھر اپنے پنجوں میں۔ ان پتھروں کو پرندوں نے ابرہہ کی فوج پر برسادیا، جس شے پر یہ پتھر گراوہ پارہ پارہ ہوگیا۔ بقیہ بچنے والے بھاگنے کی کوشش کرنے لگے لیکن بری طرح زخمی ہوگئے اور مرتے چلے گئے۔98ابرہہ بھی بری طرح زخمی ہوگیا تھا۔ اس کی فوج اسے یمن لے گئی لیکن کوئی بھی دوا اور مرہم پٹی اس کے کسی کام نہ آسکی ۔ اس کی انگلیاں ایک ایک کرکے گرتی چلی گئیں اور وہ جگہ خراب ہوگئی جس میں سے پیپ اور خون جاری ہوگیا۔ اس کے زخم مزید بڑھتے چلے گئے اور آخر کار ابرہہ مرگیا۔ 99یہ پورا واقعہ قرآن کی ایک سورت میں بیان کیا گیا ہے جس کا نام سورۃ الفیل ہے، اس میں بیان کیا گیا ہے کہ ابرہہ کے لشکر کو اللہ تعالیٰ نے عبرت ناک شکست سے دوچار کیا تھا۔100اس واقعہ کے سبب یہ سال عام الفیل یعنی ہاتھی والا سال کے نام سے مشہور ہوگیا تھا۔

اس واقعہ کے وقت عبد المطلب کی عمر 70 برس ہوچکی تھی۔ حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے پیدائیش کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اس واقعہ کے پچاس یا پچپن ایام کے بعد101آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam عام الفیل کے سال دنیا میں تشریف لائے تھے۔ 102یہ سال سن عیسوی کے مطابق 570 عیسوی تھا۔ 103

حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی پرورش

جب حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam دنیا میں تشریف لائے تو حضرت آمنہ Radi Allah Anha نے عبد المطلب کے پاس یہ خوشی کی خبر بھجوائی، آپ اس وقت بیت اللہ میں موجود تھے۔ یہ خبر سن کر آپ بہت خوش ہوئے اور آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ذات مبارک کودیکھنے کے لیے بے تابانہ چلنے لگے۔ عبد المطلب نے آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور بیت اللہ تشریف لائے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور اللہ کی جانب سے اتنے خوبصورت تحفہ کا شکریہ ادا فرمایا۔104آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam مختون پیدا ہوئے تھے۔105اس کے بعد عبدالمطلب نے آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا عقیقہ کیا آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا اسم مبارک محمد رکھا۔ یہ ایک ایسا نام تھا جو اس وقت عرب میں رائج نہیں تھا ۔ 106

حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اپنا زیادہ وقت عبد المطلب کے پاس نہیں گزار سکے کیونکہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam عرب کے دستور کے مطابق حلیمہ سعدیہ Radi Allah Anha کے پاس بھیج دیے گئے تھے۔ 107جب حلیمہ سعدیہ Radi Allah Anha آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو چھ سال کی عمر میں مکہ مکرمہ واپس لائیں تو ہجوم میں آپ کہیں کھو گئے تھے۔ عبد المطلب بہت پریشان ہوگئے اور آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی تلاش شروع کردی ساتھ ہی اللہ سے اپنے پوتے کے مل جانے کی دعائیں بھی کررہے تھے۔ بالآخر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam انہیں مکہ کے بالائی مقام پر مل گئے جس پر آپ کو سکون آیا۔ خوشی کے مارے آپ نے حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو اپنے کندھوں پر بٹھایا، بیت کے گرد طواف کیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کی۔ 108اس موقع پر عبد المطلب نے بیس اونٹ، بھیڑیں اور گائے قربان کیں اور اللہ کا شکر ادا کرنے کے طور پر اہل مکہ کی خوب تواضع کی ۔ 109

حضرت آمنہRadi Allah Anhaکا معمول تھا کہ آپ Radi Allah Anhaہر سال حضرت عبد اللہ Radi Allah Anho کی قبر مبارک پر تشریف لے جاتیں تھیں۔ چھ سال کی عمر میں جب حلیمہ سعدیہ Radi Allah Anha نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو حضرت آمنہ Radi Allah Anha کے حوالے کیا تو آپRadi Allah Anha نے یثرب جانےکا ارادہ کیا تاکہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو ان کی ماں کے خاندان قبیلۂ بنو عدی بن النجارسے بھی آشنائی کروائی جائے۔ 110بعض سیرت نگاروں کے مطابق اس سفر میں عبد المطلب بھی ہمراہ تھے۔111سفر سے واپسی پر حضرت آمنہRadi Allah Anhaشدید بیمار ہوگئیں112اور ابواہ کے مقا م پر آپ Radi Allah Anhaاپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ 113

حضرت آمنہ Radi Allah Anhaکے انتقال کے بعد عبد المطلب نے آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی دیکھ بھال اور پرورش کا ذمہ اٹھایا۔ 114عبدالمطلب کے پاس آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے متعلق تمام اختیارات تھے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات ثابت بھی ہوگئی کہ آپ کا اپنے بیٹے حضرت عبداللہRadi Allah Anho سے والہانہ محبت پوتے کی جانب منتقل ہوگئی تھی، اپنی اولاد کی طرح آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے محبت فرماتے تھے۔ عبد المطلب روزانہ خانہ کعبہ تشریف لے جاتے اور اس کے سائے میں مسند بچھا کر بیٹھ جات تھے، آپ کا رعب ایسا تھا کہ آپ کے بیٹوں کو بھی جرأت نہیں تھی کہ آپ کی مسند پر آپ کے ساتھ بیٹھیں لیکن حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam بلا تکلف آپ کی مسند پر بیٹھ جاتے۔ آپ کے بیٹے آپSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو روکنے کی کوشش کرتے لیکن عبد المطلب بیٹوں سے کہتے ان سے مزاحمت نہ کرو، یہ جہاں چاہے بیٹھیں یہ تمہاری طرح نہیں ہے۔آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallamکو دیکھ حضرت عبدالمطلب خوش ہوتے تھے۔115عبدالمطلب جہاں بھی جاتے حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے، حتی کہ جب قریش کے بڑے بڑے سرداروں کی مجلس بیٹھتی جہاں مسائل کے متعلق اظہار خیال ہوتا تھا، اس میں آپ اپنے ساتھ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو بھی لے جاتے تھے۔ اسّی سال کے ہونے کے باوجود آپ مسئلے پر سات سالہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے رائے لیتے تھے۔ جب قریش کے سردار عبدالمطلب سے اس بارے میں پوچھتے اور سوال کرتے ، آپ ہمیشہ جواب میں کہتے کہ ایک بہت اچھا مستقبل میرے پوتے کی تقدیر میں لکھا ہواہے۔ 116

گھر میں آپ نے ام ایمن کو اچھی طرح سمجھا یا ہوا تھا کہ حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو کبھی اکیلا مت چھوڑنا کیونکہ اہل کتاب یہ جانتے ہیں کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam عنقریب اللہ کے نبی ہونے کا اعلان کریں گے، اور ممکن ہے کہ وہ لوگ انہیں تکلیف دیں۔117جب آپ کا وصال کا وت قریب آیا اور آپ بستر مرگ پر تھے، اس وقت بھی اپنے بیٹے ابوطالب کو حکم دیا کہ حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کرنی ہے۔118

قبیلہ بنو مدلج کے بہت سے لوگوں نے عبدالمطلب نے کہا کہ حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے قدم مبارک کے نشان کعبہ میں موجود مقام ابراھیم سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہم حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بہت دیکھ بھال کریں گے۔ عبد المطلب نے ابوطالب سے کہا کہ آپ ان کی باتیں غور سے سنیں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ نتیجتاً ابوطالب نے بھی حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ 119

حضرت عبدالمطلب کی وفات

جب حضرت عبد المطلب کے انتقال کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنی وصیت میں ابو طالب کو حکم دیا تھا کہ حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو آپ اپنی کفالت میں لے لیجیے۔ جب آپ کا آخری وقت قریب آیا تو آپ نے اپنی بیٹیوں سے کچھ شعر سنانے کے لیے کہا۔ ہر شخص جانتا تھا کہ آپ شاعری بہت پسند کرتے تھے جسے سیرے نگاروں نے بھی قلمبند کیا ہے۔ آخری وقت میں آپ کلام نہیں کرپارہے تھے، آپ نے اپنا سر ہلا کر اشارہ دہا کہ میں سن رہا ہوں۔ 120

حذیفہ ابن غانم عبد المطلب کے لیے بہت روئے اور ان پر ایک کلام لکھا جس میں حضرت عبدالمطلب کی شخصیت اور ان کی خصوصیات کو جامع انداز میں بیان کیا۔ اس کلام میں بیان کیا گیا کہ:

أعيني جودا بالدموع على الصدر
ولا تسأما أسقيتما سبل القطر
یری آنکھوں! میرے سینے پر آنسو خوب کھلے دل کے ساتھ بہاؤ اور اس معاملے میں سستی ہرگز نہ کرو۔ خدا تمہیں پاش کے ان قطروں سے فیضاب کرے جو زمین پر نہیں گرے۔
على رجل جلد القوى ذي حفيظة
جميل المحيا غير نكس ولا هذر
ہ شخص جس کے اعصاب مضبوط و توانا تھے۔ وہ لوگوں کا ہر قسم کا حساب رکھنے والا تھا۔ وہ ناکام اور ناکارہ انسان نہیں تھا بلکہ ایک متحرک اور خوبصورت انسان تھا۔
على الماجد البهلول ذي الباع والندى
ربيع لؤي في المحوط وفي العسر
خص کے لیے رو جو سر تا پا عظمت و شان اور بزرگی کا حامل تھا۔ وہ پر قسم کی نیکیوں اور بھلائیوں کا مرقع تھا۔ جودو سخا کا نمونہ اور انعام و اکرام میں سب سے بڑھ کر تھا ۔ قحط سالی اور تنگ دستی کے زمانے میں اس کا وجود بنی لوی کے لیے ایک برستے بادل کی مانند ہوتا ہے۔
على شيبة الحمد الذي كان وجهه
يضيء سواد الليل كالقمر البدر
یبہ پر روؤ جو ہر لحاظ سے قابل تعریف و ستائش تھا۔ رات کی تاریکی میں اس کا چہرہ یوں چمکتا تھا گویا وہ چودھویں کا چاند ہو۔ 121

حضرت عبد المطب ہاتھی والے سال کے آٹھویں سال خالق حقیقی سے جاملے،122آپ کو الحجون میں دفن کیا گیا۔123انتقال کے وقت آپ کی عمر بیاسی برس تھی۔ اللہ کے رسول Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے پوچھا: کیا آپ کو حضرت عبدالمطلب کے انتقال کا واقعہ یاد ہے؟ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا: ہاں! میں اس وقت آٹھ سال کا تھا۔ ام ایمن نے فرمایا: میں نے حضورSallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو حضرت عبدالمطلب کے پلنگ کے پیچھے روتے ہوئے دیکھا تھا۔ 124

حضرت عبدالمطلب کی وفات قبیلۂ بنو ہاشم کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا، ان کی کوئی بھی اولاد یہ دعوی کرنے کی اہل نہیں تھی کہ تمام عرب میں جو عزت، اثر، عقل، سخاوت اور طاقت حضرت عبد المطلب کے حصے میں آئی ، کسی اور حصے میں نہیں آئی، جب آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam بڑے ہوئے تو تمام عرب میں بالمال عزت، شرف، سخاوت و فیاضی میں سب پر بازی لے گئے۔

حضرت عبد المطلب کے انتقال کے بعد قبیلۂ بنو امیہ بنو ہاشم کی مکہ کی سرداری حاصل کرنے کے لیے کوششیں کرنے لگا۔125اپنی زندگی میں حضرت عبدالمطلب نے کبھی ہبل بت اور دیگر بتوں کی عبادت نہیں کی تھی 126127 ہمیشہ اللہ واحد کی عبادت کی اور حضرت ابراہیم Alaihis Salam کے مذہب پر عمل پیرا رہے۔ 128

ازواج اور اولاد

حضرت عبدالمطلب کی چھ بیویاں، دس بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔ ان کی بیویوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

  1. فاطمہ بنت عمر بن عائذ بنت عمران ابن مخزوم قبيلۂ بنو مخزوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ حضرت عبداللہ ، ابو طالبم زبیر، برا، عاتکہ، ام حکیم البیضاء، امیمہ اور عروا کی والدہ تھیں۔
  2. نقیلہ یا نتیلہ بنت جناب ابن کلئیب ابن مالک ابن عمر قبیلۂ بنو ربیعہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ عباس، قثم اور ضرار کی والدہ تھیں۔
  3. ہالہ بنت وہیب ابن عبد مناۃ ابن زہرا ء ابن کلاب۔ آپ حمزہ، المقوم، حجل(آپ کی دولت اور کشادہ دلی کے سبب آپ کا عرفی نام الغیداء پڑگیا تھا) اور صفیہ کی والدہ تھیں۔
  4. ثمرہ بنت جنیدب ابن حجیر ابن ریاض۔ آپ الحارث کی والدہ تھیں۔ 129ابن سعد نے آپ کا نام صفیہ بنت جنیدب لکھا ہے۔ 130
  5. لبنیٰ بنت حاجر ابن عبد مناف۔ آپ ابو لباب کی والدہ تھیں۔ 131
  6. ممنعہ بنت عمرو بن مالک قبیلۂ بنو خزاعہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ غیداق کی والدہ تھیں جس کا نام مصعب بھی تھا۔

حضرت عبدالمطلب نے ہالہ بنت وہیب سے نکاح کیا جو حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی والدہ حضرت آمنہ Radi Allah Anha کی رشتہ دار تھیں۔ جب حضرت عبدالمطلب یمن گئے تھے تو وہاں ایک یہودی عالم سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس عالم نے انہیں بتایا کہ عبدالمطلب! آپ کے پاس سرداری اور منصب ایک ہاتھ میں ہے جبکہ پیغمبری دوسرے ہاتھ میں۔ لیکن یہ دونوں خصوصیات قبیلۂ بنو زہراء میں پوری ہوں گی۔ اس یہودی عالم نے عبد المطلب کو مشورہ دیا کہ قبیلہ بنو زہراء میں نکاح کریں۔ عبدالمطلب نے یہ گفت و شنید اور پیشن گوئی اپنے ذہن میں بٹھالی اور بعد میں قبیلۂ بنو زرہراء میں نکاح کیا۔ 132

بعض سیرت نگاروں اور تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ حضرت عبدالمطلب کے بارہ بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں،133لیکن صرف دس بیٹوں کے متعلق معلومات میسر ہیں۔ ان کے بیٹوں میں الحارث، العباس، حمزہ، عبداللہ Radi Allah Anho ، ابوطالب(آپ کا نام عبد مناف بھی تھا)، الزبیر، حجل، المقوم، ضرار، ابولہب (اس کا نام عبد العزا بھی تھا)، 134قثم، مصعب یا غیداق اور عبد الکعبہ شامل تھے۔135آپ کی بیٹیوں میں صفیہ، ام حاکم البیضاء، عاققہ، عمیمہ، عروا اور برا شامل تھیں۔ 136


  • 1  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی،السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 14
  • 2  وہ نام جو کسی عرب کے ماں باپ کو اعزازی طور پر دیا جاتا تھا۔
  • 3  امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی، سبل الھدیٰ والرشاد فی سیرۃ خیر العباد ﷺ، ج-1، مطبوعۃ: دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1993م، ص: 14
  • 4  عبد الرحمن عبد اللہ احمد السہیلی، الروض الانف فی شرح السيرة النبويہ، ج-1، مطبوعۃ: دارالاحیاء والتراث العربی، بیروت، لبنان، 2000م، ص: 25
  • 5  Husein Haykal (1976), The Life of Muhammad (Translated by Ismail Raji Al-Faruqi), Islamic Book Trust, Petaling Jaya, Malaysia, Pg. 37.
  • 6  صفي الرحمٰن المباركفوري، الرحيق المختوم، مطبوعۃ: دارابن حزم، بیروت، لبنان، 2010م، ص: 64
  • 7  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 48
  • 8  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 82
  • 9  Muhammad ibn Jareer Al-Tabari (1988), Tareekh Al-Tabari (Translated by W. Montgomery Watt), State University of New York Press, New York, USA, Vol. 6, Pg. 8.
  • 10  محمد ابن اسحاق ابن یسار المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دارالفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 23
  • 11  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 95
  • 12  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 252
  • 13  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 252
  • 14  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 75
  • 15  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 252
  • 16  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 75
  • 17  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 137
  • 18  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 247
  • 19  Husein Haykal (1976), The Life of Muhammad (Translated by Ismail Raji Al-Faruqi), Islamic Book Trust, Petaling Jaya, Malaysia, Pg. 46.
  • 20  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 247
  • 21  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 137
  • 22  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دار الكتب العلمية، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 64
  • 23  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 146
  • 24  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 137
  • 25  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 247
  • 26  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 247
  • 27  علی ابن ابراھیم ابن احمد الحلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2013م، ص: 12
  • 28  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دار صادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 82
  • 29  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 137
  • 30  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دار صادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 82
  • 31  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 248
  • 32  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 137
  • 33  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دار صادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 82
  • 34  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 138
  • 35  Husein Haykal (1976), The Life of Muhammad (Translated by Ismail Raji Al-Faruqi), Islamic Book Trust, Petaling Jaya, Malaysia, Pg. 37.
  • 36  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 248-249
  • 37  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1978م، ص: 142
  • 38  علی ابن ابراھیم ابن احمد الحلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2013م، ص: 49
  • 39  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1978م، ص: 111
  • 40  علی ابن ابراھیم ابن احمد الحلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2013م، ص: 23
  • 41  علی ابن ابراھیم ابن احمد الحلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2013م، ص: 187
  • 42  امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی، سبل الھدیٰ والرشاد فی سیرۃ خیر العباد ﷺ، ج-1، مطبوعۃ: دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1993م، ص: 187
  • 43  Husein Haykal (1976), The Life of Muhammad (Translated by Ismail Raji Al-Faruqi), Islamic Book Trust, Petaling Jaya, Malaysia, Pg. 38.
  • 44  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 23-24
  • 45  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1978م، ص: 142-143
  • 46  امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی، سبل الھدیٰ والرشاد فی سیرۃ خیر العباد ﷺ، ج-1، مطبوعۃ: دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1993م، ص: 188
  • 47  Abul Fida Ismael ibn Kathir Al-Damishqi (1998), Al-Seerah Al-Nabawiyah, (Translated by Trevor Le Gassick), Garnet Publishing, Reading, U.K., Vol. 1, Pg. 121.
  • 48  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص:24
  • 49  عبدالله ابن محمد ابن اسحاق الفاكهي، اخبار مكة، ج-2، مطبوعۃ: مكتبة الاسدي، مكة، السعودية، 2009م، ص:12
  • 50  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص:24
  • 51  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 83
  • 52  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 146
  • 53  Abul Fida Ismael ibn Kathir Al-Damishqi (1998), Al-Seerah Al-Nabawiyah, (Translated by Trevor Le Gassick), Garnet Publishing, Reading, U.K., Vol. 1, Pg. 121.
  • 54  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص:25
  • 55  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 83-84
  • 56  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص:25
  • 57  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 147
  • 58  Husein Haykal (1976), The Life of Muhammad (Translated by Ismail Raji Al-Faruqi), Islamic Book Trust, Petaling Jaya, Malaysia, Pg. 38.
  • 59  Abul Fida Ismael ibn Kathir Al-Damishqi (1998), Al-Seerah Al-Nabawiyah, (Translated by Trevor Le Gassick), Garnet Publishing, Reading, U.K., Vol. 1, Pg. 123.
  • 60  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 150
  • 61  Muhammad ibn Jareer Al-Tabari (1988), Tareekh Al-Tabari (Translated by W. Montgomery Watt), State University of New York Press, New York, USA, Vol. 6, , Pg. 18.
  • 62  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 2009م، ص: 49
  • 63  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 90
  • 64  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 2009م، ص: 50
  • 65  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 60
  • 66  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 131
  • 67  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 2009م، ص: 43
  • 68  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 2009م، ص: 43
  • 69  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 90
  • 70  Abul Fida Ismael ibn Kathir Al-Damishqi (1998), Al-Seerah Al-Nabawiyah, (Translated by Trevor Le Gassick), Garnet Publishing, Reading, U.K., Vol. 1, Pg. 21.
  • 71  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 61
  • 72  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص:21-22
  • 73  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 91
  • 74  Abul Fida Ismael ibn Kathir Al-Damishqi (1998), Al-Seerah Al-Nabawiyah, (Translated by Trevor Le Gassick), Garnet Publishing, Reading, U.K., Vol. 1, Pg. 21.
  • 75  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 2009م، ص: 46
  • 76  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص:61-62
  • 77  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 132
  • 78  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص:61-62
  • 79  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 2009م، ص: 47
  • 80  عبد الرحمن عبد اللہ احمد السہیلی، الروض الانف فی شرح السيرة النبويہ، ج-1، مطبوعۃ: دارالاحیاء والتراث العربی، بیروت، لبنان، 2000م، ص: 147
  • 81  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص:62
  • 82  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 2009م، ص: 48
  • 83  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 133
  • 84  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص:62
  • 85  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 48-49
  • 86  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 49
  • 87  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 49
  • 88  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص:62
  • 89  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 49
  • 90  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 133-134
  • 91  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 50
  • 92  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 134
  • 93  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 50
  • 94  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 134
  • 95  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص:134
  • 96  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 53
  • 97  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 63
  • 98  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 63
  • 99  Muhammad ibn Jareer Al-Tabari (1988), Tareekh Al-Tabari (Translated by W. Montgomery Watt), State University of New York Press, New York, USA, Vol. 5, Pg. 228-230.
  • 100  القرآن، سورۃ الفیل 105 : 1-5
  • 101  علی ابن ابراھیم ابن احمد الحلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2013م، ص: 86-87
  • 102  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 158
  • 103  Husein Haykal (1976), The Life of Muhammad (Translation: Ismail Razi Al-Faruqi), Islamic Book Trust, Petaling Jaya, Malaysia, Pg. 47.
  • 104  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1978م، ص: 160
  • 105  محمد ابن عبدالله الحكيم النيشابوري، المستدرك علي الصحيحين، حديث: 4177، ج-4، مطبوعۃ: مكتبة العصرية، بیروت، لبنان، 2013م، ص: 1566
  • 106  عبد الرحمن عبد اللہ احمد السہیلی، الروض الانف فی شرح السيرة النبويہ، ج-2، مطبوعۃ: دارالاحیاء والتراث العربی، بیروت، لبنان، 2000م، ص: 151
  • 107  محمد ابن جریر الطبری، تاریخ الطبری، ج-2، مطبوعۃ: دار التراث، بیروت، لبنان، 1387ھ، ص: 157
  • 108  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1978م، ص: 167
  • 109  احمد ابن حسين البيهقي، دلائل النبوة ومعرفة احوال صاحب الشريعة، ج-1، مطبوعۃ: دار الكتب العلمية، بیروت، لبنان، 1405ه، ص: 145
  • 110  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 116
  • 111  صفي الرحمٰن المباركفوري، الرحيق المختوم، مطبوعۃ: دار الهلال، بیروت، لبنان، 1427ه، ص: 48
  • 112  علی ابن ابراھیم ابن احمد الحلبی، السیرۃ الحلبیۃ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1427ه، ص: 154
  • 113  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 65
  • 114  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 118
  • 115  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی،السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق (مترجم :علامہ محمد اطہر نعیمی ) ،مطبوعہ:مکتبہ نبویہ ،لاہور ،پاکستان ،1421ھ ، ص: 148
  • 116  Martin Lings (1985), Muhammad ﷺ: His Life Based on the Earliest Sources, Sohail Academy, Lahore, Pakistan, Pg. 27-28.
  • 117  ابو الفدا اسماعیل ابن کثیر الدمشقی، البدایہ والنھایہ(مترجم : رفیق عبد الرحمٰن) ،مطبوعہ: دار الاشاعت، کراچی،پاکستان ،2014ء ، ص: 484
  • 118  ابو الفدا اسماعیل ابن کثیر الدمشقی، البدایہ والنھایہ(مترجم : رفیق عبد الرحمٰن) ،مطبوعہ: دار الاشاعت، کراچی،پاکستان ،2014ء ، ص: 484
  • 119  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 118
  • 120  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1978م، ص: 169-174
  • 121  ابو محمد عبد الملک بن ہشام،سیرۃ النبیﷺ،(مترجم:قطب الدین احمد)، ج-1، مطبوعہ:الفیصل ناشران کتب،لاہور،پاکستان،2006ء، ص: 195-196
  • 122  محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی المدنی، السیرۃ النبویۃ لابن اسحاق، مطبوعۃ: دار الفکر، بیروت، لبنان، 1978م، ص: 66
  • 123  ابو الفدا اسماعیل ابن کثیر الدمشقی، البدایہ والنھایہ(مترجم : رفیق عبد الرحمٰن) ،مطبوعہ: دار الاشاعت، کراچی،پاکستان ،2014ء ، ص: 481
  • 124  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 118
  • 125  Husein Haykal (1976), The Life of Muhammad (Translated by Ismail Raji Al-Faruqi), Islamic Book Trust, Petaling Jaya, Malaysia, Pg. 53-54.
  • 126  Martin Lings (1985), Muhammad ﷺ: His Life Based on the Earliest Sources, Sohail Academy, Lahore, Pakistan, Pg. 15.
  • 127  جلال الدين السيوطي، السبل الجاهلية في آبائ العالية، مطبوعۃ: دار الامين، القاهرة، مصر، 1993م، ص: 17
  • 128  رفاعة رافع بن بدوي بن علي الطهطاوي ،نهاية الإيجاز في سيرة ساكن الحجاز ، ج-1، مطبوعۃ: دار الذخائر، القاهرة، مصر، 1419ه، ص: 33
  • 129  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1978م، ص: 109-110
  • 130  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 93
  • 131  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 109-110
  • 132  عبد الرحمن عبد اللہ احمد السہیلی، الروض الانف فی شرح السيرة النبويہ، ج-2، مطبوعۃ: دارالاحیاء والتراث العربی، بیروت، لبنان، 1421ه، ص: 89
  • 133  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 92
  • 134  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 108
  • 135  محمد ابن سعد البصری، طبقات الکبری، ج-1، مطبوعۃ: دارصادر، بیروت، لبنان، 1968م، ص: 93
  • 136  عبدالملک ابن ھشام، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-1، مطبوعۃ: شرکہ مکتبۃ و مطبع مصطفی البابی، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 108