شیبہ ابن ہاشم، جو حضرت عبد المطلب
کے نام سے تمام مسلمانوں میں معروف ہیں، حضور
کے دادا تھے۔ 1 آپ کا اصل نام شیبہ الحمد تھا جبکہ آپ کی کنیت 2 ابو حارث اور ابو بطحا 3 تھی۔ آپ
اپنے لقب سے مشہور تھے جس کا معنی المطلب کا غلام یا خادم تھا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ
کا اصل نام عامر تھا اور شیبہ آپ کا لقب تھا، لیکن السہیلی کے مطابق یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ 4
ایک اندازے کے مطابق حضرت عبد المطلب
کی پیدائش 495 عیسوی 5 یا 497 عیسوی 6 میں ہوئی تھی۔ آپ
نہایت شریف النفس، اعلیٰ کردار اور بڑی عزت کے حامل شخص تھے۔ 7 آپ
کی شخصیت حسن و جمال، تعظیم و ادب اور اعلیٰ ظرفی و شرافت کا حسین امتزاج تھی۔ 8 قبیلۂ قریش میں آپ
پروقار اور بردبار شخصیت سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ 9
حضرت عبد المطلب
کے والد کا نام ہاشم بن عبد مناف تھا۔ 10 آپ کی والدہ محترمہ کا نام سلمہ بنت عمرو تھا۔ 11 ہاشم بن عبد مناف کا اصل نام عمرو تھا لیکن آپ ہاشم کے نام سے زیادہ معروف تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی آپ نے قحط سالی کے دوران مکہ مکرمہ کے لوگوں کو روٹیاں تور کر ثرید بنا کر خوب کھلایا تھا۔ ہاشم بن عبد مناف فلسطین گئے اور وہاں سے مکہ مکرمہ آٹا لے کر آئے تھے، آتے ہی آپ نے حکم دیا کہ روٹیاں تیار کی جائیں۔ اس کے بعد آپ نے اونٹ ذبح کروائے اور ثرید بنا کر لوگوں کو کھلایا تھا۔ 1213
ہاشم بن عبد مناف قبیلۂ قریش کے مضبوط اور طاقتور شخصیات میں شمار کیے جاتے تھے۔ آپ نے ہی شام، یمن اور حبشہ سے تجارتی مراسم کا آغاز کیا تھا۔ آپ نے ان تینوں ممالک کے ساتھ قریش کے تجارتی معاملات اور اس کی حفاظت کا ذمہ لیا جس کے ذریعے قبیلۂ قریش کو مکہ مکرمہ کے علاوہ ان ممالک میں بھی آزادی کے ساتھ تجارت کرنے کی اجازت ملی۔ آپ ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ امن و سلامتی کے معاہدے کیے اور سال میں دو مرتبہ سردی اور گرمی کے تجارتی کاروان کا انتظام کیا تھا۔ 14 ہاشم بن عبد مناف بذات خود دوستانہ و برادرانہ تعلقات استوار کرنے کے لیے بازنطینی سلطنت اور غسان کے سرحدی علاقوں میں گئے۔ وہاں سے آپ نے قریش کے لیے شام کے علاقوں میں بلا خوف و خطر تجارتی سفر کرنے کی اجازت حاصل کی تھی۔ 15 آپ کے قیصر روم سے بھی اچھے تعلقات تھے۔ آپ متعدد مرتبہ قیصر روم سے ملاقات کے لیے گئے جس نے آپ کی عزت و تکریم کی اور آپ کی تجارتی کوششوں کو سراہا۔ 16
حضرت عبد المطلب کی والدہ سلمہ بنت عمرو کا مدینے کے ایک قبیلے بنی ابن النجار سے تعلق تھا۔ آپ اپنے قبیلے میں ایک اہم شخصیت کے طور پر پہچانی جاتی تھیں۔ ہاشم بن عبد مناف سے نکاح کے لیے آپ نے یہ شرط رکھی کہ اپنے تمام معاملات کی نگرانی خود کریں گی۔ 17
شام کے تجارتی سفر کے دوران ہاشم نے یثرب میں عمرو ابن زید ابن لبید الخزرجی کے ہاں قیام فرمایا۔ وہاں آپ نے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھنے والے عمرو کی بیٹی سلمہ کو دیکھا جو پیدائشی طورپر ایک باک باز خاتون تھیں۔ 18 اس وقت سلمہ بنت عمرو تجارتی اہلکاروں کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں گفت و شنید میں مصروف تھیں۔ آپ کو ان سے محبت ہوگئی اور ان کے شادی شدہ ہونے کے متعلق دریافت کیا۔ معلومات ملنے پر پتہ چلا کہ آپ کی علیحدی ہوچکی ہے لیکن آپ ایک خودمختار عورت ہیں۔ ہاشم نے ان سے نکاح کی رضامندی سے متعلق دریافت کیا۔ آپ کی شخصیت اور عرب میں آپ کے چرچے سے سلمہ بنت عمرو متاثر ہوئیں اور نکاح کا پیغام قبول کیا۔ 19
سلمہ بنت عمرو سے اجازت ملنے کے بعد آپ نے ان کے والد عمرو سے اپنی دوسری بیوی کے طور پر نکاح کی اجازت طلب کی، یوں آپ کی سلمہ بنت عمرو سے شادی ہوگئی جس میں یہ شرط رکھی گئی کہ حمل ٹھہرنے کی صورت میں بچہ کی ولادت یہیں یثرب میں ہمارے خاندان میں ہی ہوگی جسے آپ نے منظور پرکرلیا۔ کچھ عرصہ بعد سلمہ بنت عمرو امید سے ہوئیں اور آپ اپنے شوہر ہاشم بن عند مناف کے ساتھ مکہ روانہ ہوگئیں۔ دونوں نے کچھ وقت مکہ مکرمہ میں قیام کیا، لیکن جب بچہ کی ولادت کے دن قریب آئے تو ہاشم اپنی زوجہ سلمہ بنت عمرو کے ساتھ یثرب جانے کے لیے سفر پر روانہ ہوئے لیکن شام کے سفر کے دوران غزہ کے مقام پر آپ کا نتقال ہوگیا۔ 20 497 عیسوی میں آپ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام آپ نے شیبہ رکھا 21 کیونکہ بچہ کے سر کے بال سفید رنگ کے تھے۔ 2223 آپ اپنے بچے کو لے کر یثرب اپنے والد کے گھر پہنچیں۔ ہاشم کے انتقال کے بعد آپ کے بھائی المطلب نے السقایہ اور الرفادہ کی ذمہ داری سنبھال لی جسے آپ اپنی زندگی میں سرانجام دے رہے تھے۔ 24
ہاشم بن عبد مناف غزہ میں شیبہ کی ولادت سے قبل انتقال کر گئے تھے اور شیبہ (عبد المطلب) کی ولادت کے متعلق مکہ میں ان کے خاندان میں سے کسی کو کوئی خبر نہیں تھی۔ شیبہ سات سے آٹھ سال تک اپنے ننھیال میں پرورش پاتے رہے۔ 25 ایک مرتبہ بنو الحارث ابن عبد منات میں سے ایک شخص کا گزر یثرب سے ہوا، وہاں کچھ بچے تیر اندازی کا مقابلہ کررہے تھے۔ ان کے درمیان شیبہ بن ہاشم بھی تھا۔ جب شیبہ اپنے نشانے پر تیر پھینکتا تو بلند آواز میں کہتا: "میں ہاشم کا بیٹا ہوں، میں بطحا کے سردار کا بیٹا ہوں۔" اس شخص نے بچوں سے شیبہ کی شناخت کے متعلق دریافت کیا تو لڑکوں سے اسے بتایا کہ یہ بچہ شیبہ ہے جو ہاشم کا بیٹا ہے۔ 26 جب وہ شخص مکہ مکرمہ واپس پہنچا تو وہاں شیبہ کے چچا المطلب سے ملاقات ہوئی۔ آپ ایک پتھر پر براجمان تھے۔ اس شخص نے سارا واقعہ عبد المطلب بن عبد مناف کو سنا دیا اور بچوں نے جو کہا وہ بھی بتادیا۔ 27 ابن سعد کے مطابق، جس شخص نے المطلب کو شیبہ کے متعلق اطلاع دی تھی وہ حسان بن ثابت
کے والد تھے جس کا پورا نام ثابت بن المنذر ابن حریم تھا۔ وہ المطلب کا اچھا دوست بھی تھا۔ اس نے المطلب سے کہا کہ اتنے باصلاحیت بچے کو اجنبیوں میں چھوڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ دیگر لوگوں نے کہا کہ جب تک وہ بچہ بڑا نہ ہوجائے اسے وہیں چھوڑ دیا جائے، لیکن المطلب نے ان کی بات نہیں مانی اور کہا کہ میں اس بچہ کو نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ اس طرح اسے پتہ نہیں چل سکے گا کہ اس کا خاندان عرب میں کتنا مشرف ہے۔ 28
المطلب یثرب اپنے بھتیجے کو لینے پہنچ گئے۔ 29 وہاں آپ نے بنی نجار کے ایک گھر میں قیام کیا اور اپنے بھتیجے کو تلاش کرنا شروع کردیا۔ آخر کار آپ نے اپنے بھتیجے کو اپنے ماموؤں کے ساتھ تیر اندازی کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ جب آپ نے اپنے بھتیجے کو دیکھا تو اس میں اس کے والد ہاشم کی مشابہت پائی جسے دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور آپ کے گال آنسوؤں سے بھر گئے۔ المطلب نے بے ساختہ اپنے بھتیجے کو گلے سے لگا لیا اور اسے یمنی لباس پہنایا۔ 30 اس کے بعد آپ نے اپنے بھتیجے کو اونٹ پر بٹھادیا۔ شیبہ ان کے ساتھ مکہ جانے سے کترارہا تھا یہاں تک کہ آپ نے شیبہ کی والدہ سے اسے لے جانے کی اجازت لینے کا ارادہ کیا۔ 31 آپ نے شیبہ کی والدہ سلمہ سے اجازت مانگی لیکن والدہ نے اجازت دینے سے انکا رکردیا۔ آپ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ میں اپنے بھتیجے کو لیے بغیر کہیں نہیں جاؤں گا۔ المطلب نے شیبہ کی والدہ سے کہا کہ ہمارا خاندان عزت و تکریم والا ہے اور ہم بیت اللہ کے محافظ ہیں۔ ہمارا خاندان عرب میں انتہائی شہرت رکھتا ہےاور ہم طاقت اور سرداری اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں۔ اسی لیے اس لڑکے کے لیے بہتر یہی ہے کہ یہ اپنے خاندان اور قبیلے میں پرورش پائے۔ المطلب نے شیبہ بن ہاشم کی والدہ سلمہ کو اس بات پر قائل کرلیا کہ صرف مکہ میں ہی شیبہ اپنے والد کی حیثیت پر بحال ہوسکتا ہے اور بیت اللہ کے قریب رہائش اختیار کرسکتا ہے۔ 32 المطلب کے پرعزم ارادے کو دیکھ کر شیبہ کی والدہ نے آخر کار رضامندی اختیار کرلی لیکن اسے اپنے پاس تین دن تک رکھنے کی اجازت مانگی۔ 33
اس کے بعد المطلب شیبہ کو مکہ مکرمہ واپس لے آئے۔ قریش یہ سمجھے کہ یہ بچہ المطلب کا غلام ہے تو انہوں نے شیبہ کو عبد المطلب پکارنا شروع کردیا۔ جب المطلب کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے اس بچہ کی حیثیت سب کے سامنے واضح کردی کہ یہ میرا غلام نہیں بلکہ میرے بھائی ہاشم بن عبد مناف کا بیٹا ہے جسے میں یثرب سے لے کر آیا ہوں۔ 34 بہرحال، عبد المطلب کا لقب اتنا مشہور ہوا کہ آپ کا اصل نام نظر انداز ہوگیا۔ 35
المطلب نے فیصلہ کیا کہ شیبہ کو اس کے والد کی میراث میں سے حصہ دیا جائے، لیکن وراثت کی تقسیم کے دوران نوفل بن عبد مناف نے زمین کے ایک حصے پر تنازعہ کیا اور عبد المطلب سے اس حصے کو غیر قانونی طریقے سے لے لیا۔ المطلب کے انتقال کے بعد نوفل نے عبد المطلب کو پانی پلانے اور حاجیوں کی خدمت کرنے کی ذمہ داریوں سے بھی سبکدوش کردیا جس پر عبد المطلب نے قریش نے مدد طلب کی لیکن کسی نے بھی عبد المطلب کی مدد کرنے کی حامی نہیں بھری، ان کا یہ کہنا تھا کہ ہم چچا اور بھتیجے کی لڑائی میں خود کو ملوث نہیں کرنا چاہتے۔ قریش کے جواب پر عبد المطلب نے قبیلۂ بنو نجار اپنے ماموؤں سے مدد کی درخواست کی۔ خط ملنے پر انہوں نے عبدالمطلب کو عسکری مدد فراہم کرنے کا ارادہ کرلیا تاکہ اپنے بھانجے کے تلف شدہ حقوق کا ازالہ کیا جاسکے۔ عبد المطلب کے ماموں ابو سعد بن عدس النجاری مکہ کی جاب روانہ ہوئے، آپ نے عتبہ کے مقام پر اپنا خیمہ نصب کیا۔ عبد المطلب نے انہیں خوش آمدید کہا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ پہلے میرے گھر تشریف لے چلیں۔ ابو سعد نے کہا کہ میں پہلے نوفل سے ملاقات کروں گا چنانچہ آپ کو نوفل بیت اللہ کے سائے میں بیٹھا مل گیا۔ ابو سعد نے اس پر اپنی تلوار تانی اور کہا: "میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر تم نے میرے بھانجے کو وہ سب کچھ واپس نہیں کیا جسے تم نے غلط طریقے سے ہتھیا لیا ہے، اس تلوار سے میں تمہاری جان لے لوں گا۔" نوفل نے ابو سعد سے لڑائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور عبد المطلب کو اس کا حصہ دینے پر راضی ہوگیا۔ اس کی رضامندی پر قریش کے بڑے لوگ شاہد ہوگئے۔ اس کے بعد ابو سعد عبد المطلب کے گھر گئے اور وہاں تین رات قیام کیا، عمرہ ادا کیا اور پھر واپس یثرب تشریف لے گئے تھے۔ 36
المطلب کی وفات کے بعد عبد المطلب نے السقایہ اور الرفادہ کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ آپ نے اپنے آباؤ اجداد کے اس کام کو اپنے لوگوں کے ساتھ اچھے طریقے سے انجام دیا۔ اپنی جواں مردی اور حاجیوں کی خدمت گزاری میں آپ اس قدر پیش پیش رہتے کہ اپنے آباؤ اجداد سے بھی زیادہ لوگوں میں جانے پہچانے جانے لگے اور لوگوں نے آپ کی خدمات کو زیادہ سراہنا شروع کردیا۔ 37
زم زم کے کنویں کو جرہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص مضاد بن عمرو 38 نے کچھ صدیوں پہلے تباہ کردیا تھا۔ 39 مکہ میں پانی کی فراہمی باہر کے کنووں سے اونٹوں اور دیگر جانوروں کے ذریعے کی جاتی تھی۔ پانی کو بیت اللہ کے قریب چھوٹے چھوٹے تالابوں میں جمع کیا جاتا تھا۔ پانی زیادہ تر نمکین ہوتا۔ اسے پینے کے قابل بنانے کے لیے اس میں کھجوریں اور کشمش ڈالی جاتی تھیں۔ 40 عبد المطلب نے مکہ کے باشندوں کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے اور زم زم کے کنویں کو کھدوانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے۔
زم زم کا اصل کنواں جسے سب سے پہلے حضرت آدم
نے دریافت فرمایا تھا اور جو بعد میں حضرت اسماعیل
کے قدموں سے جاری ہوا تھا،41 صدیوں تک زیر زمین انسانوں کی آنکھوں سے اوجھل تھا، کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کنویں کی اصل جگہ کون سی ہے۔ 42 مکہ کے باہر موجود کنووں سے پانی لانا انتہائی تکلیف دہ عمل تھا جس میں کثیر محنت لگتی تھی، ساتھ ہی کثیر حاجیوں کے لیے پانی کا انتظام کرنا بھی بہت مشکل مرحلہ تھا، جس کا انتظام عبدالمطلب اپنی پوری توانائی کے ساتھ کررہے تھے۔ آپ نے اس کا حل سوچنا شروع کردیا اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے غورو خوض کرنا شروع کردیا۔ ایک رات آپ نے خواب میں زم زم کے کنویں کی جگہ دیکھی، صبح ہوتے ہی آپ نے اس مقام پر کھدائی کرنے کا حکم دے دیا۔ 43
عبد المطلب کو یہ خواب اسوقت آیا جب آپ ہجر کے مقام پر سورہے تھے، خواب میں انہیں برۃ کھودنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اٹھنے کے بعد انہوں نے تفتیش کی کہ برۃ کیا ہے، لیکن انہیں خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ دوسرے دن جب وہ اسی مقام پر دوبارہ آرام فرمارہے تھے، وہی خواب انہوں نے دوبارہ دیکھا جس میں انہیں المضنونۃ کھودنے کا حکم دیا گیا، انہوں نے اس کے بارے میں بھی استفسار کیا لیکن خواب ختم ہوگیا تھا، اگلے دن انہوں نے ایک اور خواب دیکھا جس میں انہیں حکم دیا گیا کہ مضعہ کی کھدائی کی جائے لیکن اس بار بھی انہیں مضعہ کا معنی صحیح طور پر معلوم نہیں ہوسکا۔ اگلے دن پھر خواب دیکھا جس میں انہیں طیبۃ کھودنے کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے اس کے متعلق استفسار کیا لیکن اس بار بھی خاطر خواہ جواب حاصل کرنے سے محروم رہے اور خواب ختم ہوگیا۔ اگلے دن انہیں ایک بار پھر خواب دکھایا گیا لیکن اس بار انہیں زم زم کھودنے کا حکم دیا گیا۔ عبد المطلب نے قریش کے لوگوں کو اپنے خواب کے بارے میں آگاہ کیا اور ان سے پوچھا کہ زم زم کے کنویں کے متعلق اگر انہیں کوئی خبر ہے تو مجھے بتائیں۔ عبد المطلب نے اہل قریش سے کہا کہ مجھے زم زم کی جگہ معلوم نہیں ہے، انہوں نے عبد المطلب کو مشورہ دیا کہ آپ اسی مقام پر دوبارہ سوئیں۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے تو ضرور یہ دوبارہ دکھایا جائے گا۔ جب آپ دوبارہ اسی مقام پر سوئے تو ایک اور خواب آپ نے دیکھا جس میں انہیں بتایا گیا کہ اگر وہ زم زم کا کنواں کھودیں تو انہیں مایوسی نہی ہوگی۔ یہ کنواں ان کے جد امجد کی میراث ہے، جو کبھی خشک نہیں ہوگا اور یہ کنواں حاجیوں کو پانی فراہم کرے گا۔ خواب میں انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ زم زم کا کنواں فضلہ اور خون کے درمیان ہے، کوّے کے گھونسلے کے قریب جس کی سفید ٹانگیں ہیں اور وہاں چیونٹیوں نے اپنا گھر بنایا ہوا ہے۔ 4445
اگلے دن عبد المطلب مسجد حرام گئے اور وہاں خواب میں دکھائی گئی علامات کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ آپ ادھر ادھر بغور جائزہ لے رہے تھے، آپ نے دیکھا کہ ایک کوّا جس کا گلا کٹا ہوا ہےاپنے زخمی ہونے کے مقام سے بھاگا۔ آپ نے اس کا پیچھا کیا حتی کہ وہ کوّا ایک جگہ پہنچا جہاں اس کاخون زمین پر گرا ور وہ مرگیا، یہ مقام اساف اور نائلہ کے بتوں کے درمیان واقع تھا۔ جب آپ وہاں پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ کوّا اپنی چونچ سے زمین کھود رہا ہے جس کے قریب چیونٹیوں کی بستی بھی آباد تھی۔ 46
یہ سب علامات دیکھنے کے بعد عبد المطلب سمجھ گئے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے اشارے ہیں۔ چنانچہ آپ نے کدال لی اور اپنے بیٹے الحارث کے ساتھ کھدائی کرنے کے مقام پر گئے۔ اس وقت آپ کا یہی ایک بیٹا تھا۔ 47 وہاں پہنچ کر آپ نے کھدائی کا آغاز کردیا۔ جب قریش کے لوگوں نے آپ کو اساف اور نائلہ کے بتوں کے درمیان کھدائی کرتے ہوئے دیکھا تو انہیں کام کرنے سے منع کیا اور کہا کہ آپ کو ہم اس مقدس مقام پر کھدائی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، یہ وہ مقام ہے جہاں ہم اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ 48 یہ بھی روایت موجود ہے کہ انہیں خواب میں یہ بھی بتادیا گیا تھا کہ ان کے اپنے لوگ ان کے خلاف ہوجائیں گے لیکن بعد میں وہ سب آپ کے ساتھ اس کام میں شریک ہوجائیں گے۔ 49 اس کے بعد عبد المطلب نے اپنے بیٹے الحارث کو کہا کہ وہ کھڑا ہوجائے اور لوگوں سے میری حفاظت کرے تاکہ میں کنویں کی کھدائی کرتا رہوں، کیونکہ آپ اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے جس کا آپ کو خواب میں حکم دیا گیا تھا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود آپ کو روکنے میں ناکام ہوگئے ہیں تو انہوں نے آپ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ 50
عبد المطلب مسلسل تین دن تک کھدائی میں مصروف رہے، 51 آخر کار کنویں کے اوپری حصے کے آثار نمایاں ہوئے اور کنویں کے اوپر رکھا گیا پتھر نظر آنے لگا۔ قریش کے لوگوں نے جان لیا کہ عبد المطلب کو خواب میں بالکل صحیح علامات بتائی گئی ہیں۔ جیسے جیسے کھدائی کا عمل آگے بڑھتا گیا، انہیں دو سونے کے ہرن ملے جنہیں بنو جرہم نے مکہ سے نکلتے وقت وہاں دفن کردیے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں وہاں سفید تلواریں اور زرہیں بھی ملیں۔ 52 جب اہل قریش نے جان لیا کہ عبد المطلب اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکے ہیں تو وہ ان کے پاس گئے اور دعوی کیا کہ یہ کنواں ان کے والد حضرت اسماعیل
سے تعلق رکھتا ہے، لہذا ان کا بھی اس کنویں پر حق ہے۔ انہوں نے عبد المطلب سے اس کنویں کی کھدائی سے حاصل ہونے والے مال میں اپنی شراکت داری طلب کی اور کہا کہ ہمیں بھی اس میں سے حصہ دیا جائے۔ 53
عبد المطلب نے ان کا دعوی مسترد کردیا اور کہا کہ یہ کام خاص مجھے ہی تفویض کیا گیا تھا۔ قریش مکہ نے عبد المطلب سے دوبارہ کہا آپ ہمارے ساتھ انصاف کریں، ہم آپ سے اس وقت تک ہمارے حصہ کا مطالبہ کرتے رہیں گے جب تک آپ وہ ہمیں دے نہیں دیتے۔ آخر کار عبد المطلب نے کہا کہ تم کسی شخص کو اپنے درمیان ثالث مقرر کرلو اور اس سے فیصلہ کروالو۔ قریش نے اس بات کو تسلیم کیا اور نبی ہذیم کی ایک کاہنہ کو ثالث مقرر کرنے کی تجویز پیش کی، عبد المطلب نے اسے قبول کرلیا۔ 54
اس کے بعد عبد المطلب شام کی طرف ورانہ ہوئے، اس قافلے میں ان کے ساتھ بنو عبد مناف کے 20 افراد اور قریش کے دیگر قبائل سے 20 افراد شامل تھے۔ سب لوگ صحرا میں سفر کررہے تھے پھر ایک وقت آیا کہ پانی کا ذخیرہ ختم ہوگیا۔ وہ لوگ پانی کی تلاش میں ادھر ادھر گئے لیکن کہیں پانی نہیں ملا، پیاس سے ان کا اتنا برا حال ہوگیا تھا کہ ہر شخص یقین کرچکا تھا کہ وہ اس صحرا میں پیاس سے مر جائے گا۔ عبد المطلب نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ اپنی باقی ماندہ طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ہر شخص اپنی قبر تیار کرلے، اگر کسی کی موت واقع ہوجاتی ہے تو دوسرے اسے بآسانی قبر میں دفن کرسکتے ہیں۔ جب سب نے اپنی اپنی قبریں کھود ڈالیں، عبد المطلب نے انہیں پانی کی تلاش جاری رکھنے پر ابھارا اور کہا کہ بغیر کوشش کے مرنے سے بہتر ہے کہ پانی کی تلاش کرتے ہوئے انتقال کرجائیں۔ جب عبدالمطلب کا اونٹ کھڑا ہوا تو میٹھے پانی کا ایک چشمہ ان کے اونٹ کے کھر کے نیچے جاری ہوگیا۔ 55 سب نے اس عظیم نعمت کے ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ عبد المطلب نے تمام لوگوں کو پانی پینے کے لیے بلایا تاکہ سب اپنی پیاس کو بجھا سکیں۔ سب نے جی بھرکر پانی پیا اور اپنے مشکیزے پانی سے بھر دیے۔ اس کے بعد سب نے اعلان کردیا کہ اللہ کی طرف سے عبد المطلب کے حق میں فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ ہم اب زم زم کے کنویں کے متعلق عبدالمطلب نے بالکل نہیں الجھیں گے۔ 56
جب وہ لوگ واپس مکہ آئے تو قریش مکہ نے سونے کے ہرنوں، تلواروں اور زرہوں میں سے اپنا حصہ طلب کیا۔ بالآخر انہوں نے مسئلہ کے حل کے لیے فال ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے دو پیلے تیر کعبہ کے لیے مقرر کے، دو سیاہ تیر عبد المطلب کے لیے اور دو سفید تیر قریش کے لوگوں کے لیے منتخب کیے گئے۔ یہ تمام تیر اس شخص کو دیے گئے جو ہبل بت کے پاس تیر ڈالنے کے لیے مقرر تھا۔ جب تیر ڈالنے والے نے تیر ڈالے تو دونوں زرد تیر دونوں ہرنوں پر نکلے۔ عبدالمطلب کے دونوں کالے تیروں پر تلواریں اور زرہیں برآمد ہوئیں جبکہ قریش کے دونوں تیر کسی چیز پر نہیں نکلے۔ عبد المطلب نے تلواروں کو خانہ کعبہ میں دروازے کے طور پر نصب کردیا اور دروازے میں ان دونوں سونے کی ہرنوں کو بھی نصب کردیا۔ اس کے بعد زم زم سے حاجیوں کو پانی پلانے کا انتظام عبد المطلب نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور وہ السقایہ کی ذمہ داری آسانی کے ساتھ ادا کرنے لگے۔ 5758 زم زم کے کنویں نے تمام کنووں پر برتری حاصل کرلی جس کی وجہ سے قریش اور دیگر قبائل میں عبد مناف کا قبیلہ برتر واعلیٰ سمجھا جانے لگا۔ 5960
روایتوں میں آتا ہے کہ ہرب ابن امیہ نے دعوی کیا کہ وہ عبد المطلب سے زیادہ عزت و تکریم والا ہے، اس نے حبشہ کے نجاشی سے درخواست کی عبد المطلب بن ہاشم اور ہرب بن امیہ کے درمیان فیصلہ کریں، لیکن نجاشی نے منع کردیا جس پر نوفل بن عبدالعزا بن ریاح کو اس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس نے ہرب سے کہا کہ اے ابو عمرو! کیا تم ایسے شخص کو للکار رہے ہو جو تمہارے قد سے اونچا ہے، جس کا سر تمہارے سر سے بڑا ہے، جس کا چہرا تم سے زیادہ حسین ہے، جو ایک اچھے خاندان سےتعلق رکھتا ہے، جس کے تم سے زیادہ بیٹے ہیں، جو تم سے زیادہ تحفہ تحائف دیتا ہے، اور پر اثر بیان کرنے والا ہے؟ اس کے بعد نوفل بن عبدالعزا نے اعلان کیا کہ عبد المطلب اپنے مقابلے میں آنے والے شخص سے زیادہ عزت و احترام والا ہے۔ 61
ابو یکسوم ابرہہ الاشرم ایک فوجی سپہ سالار تھا جس نے یمن کے حبشی گورنر ارياط کو قتل کرکے اس کی طاقت کا خاتمہ کیا اور خود کو نیا گورنر نامزد کردیا۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو اس کی یہ حرکت بالکل نہیں بھائی، وہ اسے سزا دینے کی خواہش رکھتا تھا لیکن بعض وجوہات کی بنا پر وہ اسے سزا نہیں دے سکا۔ اس طرح ابرہہ الاشم نے خود کو ظالمانہ طریقے سے یمن کا گورنر نامزد کردیا۔ 62 جب ابرہہ الاشرم نے دیکھا کہ لوگ کعبہ کی زیارت کے لیے تیاریاں کررہے ہیں، اس نے لوگوں سے پوچھا کہ کہاں جانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ اسے بتایا گیا کہ لوگ بیت اللہ کی زیارت کرنے کے لیے مکہ مکرمہ جانے کی تیاری کررہے ہیں جہاں وہ حج ادا کریں گے۔ اس نے لوگوں سے بیت اللہ کی عمارت کے متعلق معلوم کیا کہ کس مادے سے یہ عمارت تعمیر کی گئی ہے، اسے بتایا کہ یہ عمارت پتھروں سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس کے بعد اس نے کعبہ کو ڈھانپے جانے والے غلاف کے متعلق پوچھا جس پر اسے بتایا گیا کہ بیت اللہ کو دھاری دار چادروں سے ڈھانکا جاتا ہے، یہ تمام چادریں یمن سے وہاں بھجوائی جاتی ہیں۔ یہ سب سن کر اس نے یمن میں عیسائیوں کا کلیسا بنانے کا ارادہ کیا تاکہ لوگ بیت اللہ جانے کے بجائے عیسائیت کی طرف مائل ہوں۔ اس نے ایک ایسی عمارت تعمیر کی جس میں سفید، لال، پیلا اور کالا سنگ مرمر استعمال کیا گیا، اس کی تزیین وآرائیش میں سونا، چاندی اور قیمتی پتھروں کا استعمال کیا گیا۔ اس نے کلیسا کے دروازوں کو خوبصورت بنانے کے لیے سونے کی چادروں کا استعمال کیا اور اس پر موتیوں کو چسپاں کیا۔ کلیسا کی دیواروں کو خوشبودار کرنے کے لیے اس پر مشک لگایا گیا اور خوشبودار لکڑی المندلی کو ماحول خوشبودار رکھنے کے جلایا گیا۔ ان تمام تیاریوں کے بعد اس نے لوگوں کو کلیسا آنے کی دعوت دی اور یہیں حج کی ادائیگی کا حکم دیا۔ عرب کے کثیر قبائل نے اس کے حکم پر رضامندی اختیار کی اور کلیسا میں آکر حج کی عبادات بجا لانے لگے جس کا سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا۔ مزید یہ کہ لوگ اس کلیسا میں عبادت کرنے اور زاہدانہ زندگی گزارنے کے لیے بھی آیا کرتے تھے۔ 63
ابرہہ نے نجاشی کو لکھا جس کا دعوی کیا گیا کہ اس نے ایک ایسا کلیسا تعمیر کیا ہے جو اپنی مثال آپ ہے اور اس سے پہلے کبھی کسی نے ایسا کلیسا نہیں تعمیر کیا ہوگا۔ اس نے اپنےخط میں یہ بھی لکھا کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک تمام عرب اس کلیسا میں آکر حج کی ادائیگی نہیں کریں گے۔ 64 اس نے تمام اہل عرب کو اس کلیسا میں آکر حج کرنے کی دعوت دی۔ 65 اس نے اس کام کے لیے اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں لیکن کثیر ایسے قبائل موجود تھے جنہوں نے اس کی دعوت کو ٹھکرا دیا 66 جبکہ بعض قبیلوں نے اس کے حکم کے مطابق کلیسا میں حج کی ادائیگی کرنا شروع بھی کردی تھی۔
النساة ميں سے ايک شخص جس کا تعلق بنی ملکان ابن کنانہ سے تھا، 67 اسے ابرہہ کی اس بات پر بڑا غصہ آیا اور وہ کلیسا کی بے حرمتی کے ارادے سے یمن کے لیے نکلا۔ 68 وہ موقع کی تلاش میں تھا، اس نے طویل انتظار کیا۔ آخر کار اسے ایک رات موقع مل گیا، وہ کلیسا میں داخل ہوا اور اس میں پاخانہ کردیا 69 اور گھر واپس آگیا۔ 70
ابرہہ کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو اس نے پوچھا کہ یہ حرکت کسی کی ہے۔ اسے بتایا گیا کہ یہ عربوں میں سے کسی کا کام ہے۔ عرب چونکہ خانہ کعبہ کا بہت احترام کرتے ہیں اور وہ اس چیز کو گوارا نہیں کرسکتے کہ خانہ کعبہ کے مقابلے میں کوئی ایسا مقام تعمیر کیا جائے جس کا اسی طرح طواف ہو جیسے خانہ کعبہ کا ہوتا ہے اس لیے انہوں نے اس کے کلیسا کی توہین کرنے کے لیے یہ حرکت کی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اس کا تعمیر کردہ کلیسا اس کا حق دار نہیں کہ اس کا طواف کیا جائے بلکہ وہ تو اس کا سزاوار ہے کہ یہاں قضائے حاجت کی جائے۔ 71 یہ تمام واقعہ سن کر ابرہہ کو سخت غصہ آیا اور اس نے قسم کھائی کہ جب تک وہ خانہ کعبہ کو گرا نہیں دے گا اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گا۔ ابرہہ نے اہل حبشہ کو حکم دیا کہ مکہ پر حملہ کردیا جائے۔ 72 اس کے بعد ابرہہ نے نجاشی کو خط لکھا اور اس واقعہ کے متعلق آگاہ کیا۔ اس نے نجاشی سے درخواست کی کہ اپنے ہاتھی جس کا نام محمود ہے، بھیجے۔ محمود ہاتھی اس وقت کا سب سے جسیم ہاتھی تھا کہ ایسی جسامت والا کوئی اور ہاتھی موجود نہیں تھا۔ نجاشی نے اس کی درخواست منظور کرلی اور ہاتھی کو ابرہہ کے لیے روانہ کردیا۔ جب محمود یمن پہنچا تو ابرہہ نے مکہ کی جانب فوج بڑھانا شروع کردی جس میں اس کا ساتھ دینے والا حمیریائی بادشاہ نفیل بن حبیب الخثعمی بھی لشکر میں تھا۔ 73
جب عربوں کو ابرہہ کے حملے کے متعلق اطلاع ملی تو وہ بہت ڈر گئے، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ بیت اللہ کو ڈھانے کے لیے آرہا ہے تو انہوں نے ابرہہ کی فوج سے لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ 74 ذو نفر نامی یمن کا ایک معزز شخص تھا، اس نے اپنے لوگوں اور عرب کے دیگر لوگوں کو ابرہہ سے لڑنے پر ابھارا اور اسے بیت اللہ پر حملہ کرنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکا، ذو نفر کو قید کرلیا گیا۔ ابرہہ نے اپنی مہم جاری رکھی اور نفیل بن حبیب الخثعمی سے اس کے دو حلیف قبائل شہران اور ناہس کے ساتھ اور عرب کے معاون قبائل کے ساتھ خثعام میں ملاقات کی۔ ان قبائل نے بھی ابرہہ سے جنگ کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے تھے، نفیل کو بھی قید کرلیا گیا تھا لیکن جب نفیل کو قتل کرنے لگے تو نفیل نے اپنی زندگی کی بھیک مانگی اور عرب کے علاقے میں اپنی مکمل مدد کرنے کی رضامندی ظاہر کی اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ میرے تحت جتنے بھی عرب قبائل ہیں وہ تمہارے خلاف اقدامات اٹھانے سے گریز کریں گے۔اس بات پر ابرہہ نے نفیل کو چھوڑ دیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ 75
جب ابرہہ طائف پہنچا تو وہاں کے لوگوں کو لگا کہ ابرہہ ان کے شہر پر حملہ کرنے آیا ہے، تو انہوں نے ابرہہ کے پاس اپنے نمائندے بھیجے 76 جس کی سربراہی مسعود بن موأب کررہا تھا، 77 اس نے ابرہہ سے تعاون کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ ہم لات بت کی عبادت کرتے ہیں، اور طائف وہ مقام نہیں جس کی تمہیں تلاش ہے کیونکہ عرب حج کرنے یہاں نہیں آتے بلکہ وہ لوگ حج کرنے مکہ مکرمہ جاتے ہیں۔ ابرہہ نے ان سے ثبوت مانگا جس پر اہل طائف نے ابرہہ کے ساتھ ہذیل میں نفیل نامی شخص روانہ کیا۔ 78 اس کے علاوہ انہوں نے ابو رغال کو بھی راستہ کی رہنمائی کے لیے ساتھ بھیجا جس نے ابرہہ کے لشکر کی مغماس تک رہنمائی کی۔ 79 یہ مقام مکہ مکرمہ سے تین فرساخ 80 (تقریباً چھ میل) کے فاصلے پر واقع تھا۔ 81 ابرہہ نے اپنا ہر اول دستہ الاسود بن مقصود نامی حبشی کی سربراہی میں روانہ کیا۔ وہ جب مکہ پہنچا تو اس نے قریش اور دیگر قبائل سے لوٹ ماری کی اور عبد المطلب کے دو سو اونٹ چرا لیے، عبدالمطلب اس وقت قریش کے سردار تھے۔ قریش، کنانہ، ہذیل اور دیگر قبائل کے لوگ حدودِ مکہ کی حفاظت کے لیے چاق و چوبن کھڑے تھے لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ لوگ ابرہہ کے لشکر کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو اپنے ارادے سے باز آگئے۔ 8283 نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے لوگوں نے شہر خالی کرنا شروع کردیا اور پہاڑوں میں چلے گئے۔ کوئی بھی شخص مکہ میں نہیں بچا تھا۔ سب مکہ چھوڑ کرچلے گئے تھے۔ صرف عبد المطلب بن ہاشم السقایہ کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے اور شیبان بن عثمان عبد الدار جنہیں بیت اللہ میں کھڑا کیا گیا تھا، مکہ میں موجود تھے۔ 84
ابرہہ نے حناط الحمیری کو مکہ پیغام رساں کے طور پر روانہ کیا کہ جاکر مکہ والوں سے کہو کہ میرا تم سے کوئی جھگڑا نہیں ہے اور میں اہل مکہ سے جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہوں۔ میں صرف خانہ کعبہ گرانے آیا ہوں اور اس کو گرا کر واپس چلا جاؤں گا۔ اگر تم لوگوں نے مجھ سے جھگڑا نہ کیا اور میرے مقابلے پر نہیں آئے تو مجھے خون بہانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس نے حناط سے یہ بھی کہا کہ اگر ان کا سردار مجھ سے بات کرنا چاہے تو اسے میرے پاس لے آنا۔ حناط الحمیری جب مکہ میں داخل ہوا تو اس نے سردار کے بارے میں دریافت کیا، لوگوں نے کہا کہ ہمارے سردار عبد المطلب بن ہاشم ہیں۔ حناط یہ سن کر عبد المطلب بن ہاشم کے پاس گیا اور اسے ابرہہ کا پیغام پہنچایا جس کے جواب میں عبد المطلب نے کہا:
واللّٰه ما نريد حربه، وما لنا بذلك من طاقة، هذا بيت اللّٰه الحرام، وبيت خليله إبراهيم عليه السلام فإن يمنعه منه فهو بيته وحرمه ، وإن يخل بينه وبينه، فو اللّٰه ما عندنا دفع عنه. 85
اللہ کی قسم میرا ارادہ تم سے جنگ کرنے کا نہیں ہے اور نہ ہی مجھ میں اس کی طاقت ہے۔ یہ مقدس بیت اللہ ہے اور اس کے خلیل ابراہیمکا گھر ہے، اگر وہ اس کی حفاظت کرنا چاہے تو یہ اس کا گھر ہے اور مقدس جگہ ہے اور اگر وہ ہمارے اور تمہارے لیے اسے چھوڑتا ہے تو اللہ کی قسم ہمارے پاس تم سے اسے بچانے کی کوئی طاقت نہیں ہے۔
حناط نے عبد المطلب کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا کہ بادشاہ نے مجھے حکم دیاہے کہ قریش کے سردار کو اپنے ساتھ لیتا آؤں۔ 86 چنانچہ حضرت عبد المطلب اپنے بیٹے کے ہمراہ اس کے ساتھ روانہ ہوگئے اور اس کے خیمے میں پہنچ گئے اور ذو نفر کو تلاش کرنے لگے جو ان کا دوست بھی تھا۔ لیکن ذو نفر کو قید کیا ہوا تھا ، ذو نفر نے اپنے دوست انیس سے کہا جس کے قبضہ میں ہاتھی تھے کہ عبد المطلب کی مدد کرو اور بادشاہ سے ان کی ملاقات کا بندوبست کرو اور سفارش بھی کردینا۔ 87 چنانچہ انیس نے ابرہہ سے بات کی اور کہا کہ عبد المطلب قریش کے سردار ہیں اور مکہ کے کاروانوں کے مالک ہیں۔ آپ بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور پہاڑ کی چوٹی پر بھی لوگوں کی ضیافت کا اہتمام کرتے ہیں۔ 88 اس کے بعد انیس نے ابرہہ سے عبد المطلب کے حاضر ہونے کے متعلق اجازت مانگی اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی درخواست کی۔ 89 ابرہہ نے حضرت عبد المطلب کو اپنے خیمے میں بلایا۔ جب آپ اس کے سامنے تشریف لے گئے تو وہ آپ کے حسن، شخصیت اور طاقتور جسامت دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور اسی کے مطابق اس نے آپ کی عزت کی۔ ابرہہ نے آپ کو اپنے ساتھ بٹھایا، ایک مترجم بھی ساتھ بٹھایا اور اس سے کہا کہ پوچھو، عبد المطلب کیا چاہتے ہیں۔ عبد المطلب نے جواب میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ابرہہ ان کے دو سو اونٹ واپس کردے جو اس کی فوج نے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ ابرہہ نے مترجم کے ذریعے کہا: آپ جب تشریف لائے تو میں آپ کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا تھا لیکن میں بہت مایوس ہوا جب آپ کے مطالبے کو میں نے سنا، کیا آپ مجھ سے صرف اپنے دو سو اونٹ واپس لینے کے لیے آئے ہیں جسے میں نے قبضہ میں لے لیے ہیں، آپ کو اپنے اور اپنے آباؤ اجداد کے مذہب کے بارے میں کچھ نہیں کہنا جسے میں ختم کرنے آیا ہوں؟ عبد المطلب نے جواب دیا کہ وہ صرف اپنے اونٹوں کے مالک ہیں اور کعبہ کا بھی ایک مالک ہے جو اسے خود بچائے گا۔ یہ جواب سن کر ابرہہ نے اپنی فوج سے کہا کہ عبد المطلب کے اونٹ انہیں واپس کردیے جائیں۔ 90
قبیلۂ بنو کنانہ کے سردار یعمر بن نفاثہ بن عدی اور قبیلۂ بنو ہذیل کے سردار خویلد بن واثلہ الہذلی نے ابرھہ کو تھامہ کے مال کا تہائی حصہ دینے کی پیشکش کردی تھی کہ وہ یہ رقم لے اور بیت اللہ پر حملہ کرنے کے خیال سے باز آجائے لیکن ابرہہ نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا۔ 9192 اس کے بعد عبد المطلب قریش کے پاس گئے اور مکہ چھوڑنے کا حکم دیا اور کہا کہ پہاڑوں میں جاکر اپنے بچاؤ کا بندوبست کریں۔ اس کے بعد عبد المطلب قریش کے کچھ کوگوں کو لے کر کعبہ کی جانب گئے اور کعبہ میں داخل ہونے والے دروازے کو پکڑ کر اللہ سے ابرہہ کے لشکر کی شکست کی دعا کرنے لگے 93 کہ اے اللہ! میں تیرے سوا کسی کو ان کے خلاف مدد کرنے والا نہیں جانتا! اے اللہ، اپنے گھر کی ان سے حفاظت فرما۔ بیشک، تیرے گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے! انہیں تباہ و برباد فرما، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تیرا گھر تباہ کردیں۔ 94
وہ رات ابرہہ اور اس کے لشکر کے لیے انتہائی بری ثابت ہوئی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ آسمان کے ستارے بہت قریب آچکے ہیں۔ انہوں نے عذاب کی علامات محسوس کیں اور خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے۔ بنو عشر اور بنو خثعم نے اپنے تیر اور تلواریں توڑ ڈالیں اور بیت اللہ پر حملہ کرنے میں مدد فراہم کرنے سے پیچھے ہٹ گئے۔ 95
اگلی صبح ابرہہ نے مکہ پر حملہ کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی فوج کو عسکری ترتیب میں مرتب کیا اور مکہ کی جانب پیش قدمی کا ارادہ کیا لیکن اس کا ہاتھی اپنی جگہ پر ہی کھڑا رہا، انہوں نے خوب کوشش کی کہ اسے آگے بڑھائیں لیکن محمود ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھا۔ نفیل بن حبیب الخثعمی ہاتھی کے پہلو میں کھڑا اسے چلنے کا اشارہ دے رہا تھا لیکن ہاتھی اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں رہا تھا۔ جب ہاتھی کو مکہ کی جانب لے جانے کے تمام حربے ناکام ہوگئے تو انہوں نے ہاتھی کو یمن کی جانب چلنے کے لیے اشارہ دیا اور حیرت انگیز طور پر ہاتھی یمن کی جانب چلنے لگا۔ اس کے بعد انہوں نے ہاتھی کا رخ دوبارہ مکہ کی جانب کیا تو اب وہ زمین پر بیٹھ گیا گویا مکہ کی جانب جانے سے بالکل انکاری ہوگیا۔ انہوں نے ہاتھی کو مارنا شروع کیا اور تکلیف دے دے کر اسے اٹھانے کی پوری کوشش کرڈالی لیکن ہاتھی مکہ کی جانب اپنے قدم نہیں بڑھا رہا تھا۔ 96 اسی دوران اللہ تعالیٰ نے سمندر کی جانب سے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیجے۔ یہ پرندے ابابیل اور مینا سے ملتے جلتے تھے۔ 97 ہر پرندہ چھوٹے مٹر اور مسور کی دال کے حجم کے برابر تین چھوٹے پتھر تھامے ہوئے تھا، ایک پتھر چونچ میں اور دو پتھر اپنے پنجوں میں۔ ان پتھروں کو پرندوں نے ابرہہ کی فوج پر برسا دیا، جس شے پر یہ پتھر گرا وہ پارہ پارہ ہوگیا۔ بقیہ بچنے والے بھاگنے کی کوشش کرنے لگے لیکن بری طرح زخمی ہوگئے اور مرتے چلے گئے۔ 98 ابرہہ بھی بری طرح زخمی ہوگیا تھا۔ اس کی فوج اسے یمن لے گئی لیکن کوئی بھی دوا اور مرہم پٹی اس کے کسی کام نہ آسکی۔ اس کی انگلیاں ایک ایک کرکے گرتی چلی گئیں اور وہ جگہ خراب ہوگئی جس میں سے پیپ اور خون جاری ہوگیا۔ اس کے زخم مزید بڑھتے چلے گئے اور آخر کار ابرہہ مرگیا۔ 99 یہ پورا واقعہ قرآن کی ایک سورت میں بیان کیا گیا ہے جس کا نام سورۃ الفیل ہے، اس میں بیان کیا گیا ہے کہ ابرہہ کے لشکر کو اللہ تعالیٰ نے عبرت ناک شکست سے دوچار کیا تھا۔ 100 اس واقعہ کے سبب یہ سال عام الفیل یعنی "ہاتھی والا سال" کے نام سے مشہور ہوگیا تھا۔
اس واقعہ کے وقت عبد المطلب کی عمر 70 برس ہوچکی تھی۔ حضور
کی پیدائیش کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اس واقعہ کے پچاس یا پچپن ایام کے بعد 101 آپ
عام الفیل کے سال دنیا میں تشریف لائے تھے۔ 102 یہ سال سن عیسوی کے مطابق 570 عیسوی تھا۔ 103
کی پرورشجب حضور
دنیا میں تشریف لائے تو حضرت آمنہ
نے عبد المطلب کے پاس یہ خوشی کی خبر بھجوائی، آپ اس وقت بیت اللہ میں موجود تھے۔ یہ خبر سن کر آپ بہت خوش ہوئے اور آپ
کی ذات مبارک کودیکھنے کے لیے بے تابانہ چلنے لگے۔ عبد المطلب نے آپ
کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور بیت اللہ تشریف لائے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور اللہ کی جانب سے اتنے خوبصورت تحفہ کا شکریہ ادا فرمایا۔ 104 آپ
مختون پیدا ہوئے تھے۔ 105 اس کے بعد عبدالمطلب نے آپ
کا عقیقہ کیا آپ
کا اسم مبارک محمد رکھا۔ یہ ایک ایسا نام تھا جو اس وقت عرب میں رائج نہیں تھا۔ 106
حضور
اپنا زیادہ وقت عبد المطلب کے پاس نہیں گزار سکے کیونکہ آپ
عرب کے دستور کے مطابق حلیمہ سعدیہ
کے پاس بھیج دیے گئے تھے۔ 107 جب حلیمہ سعدیہ
آپ
کو چھ سال کی عمر میں مکہ مکرمہ واپس لائیں تو ہجوم میں آپ
کہیں کھو گئے تھے۔ عبد المطلب بہت پریشان ہوگئے اور آپ
کی تلاش شروع کردی ساتھ ہی اللہ سے اپنے پوتے کے مل جانے کی دعائیں بھی کررہے تھے۔ بالآخر آپ
انہیں مکہ کے بالائی مقام پر مل گئے جس پر آپ کو سکون آیا۔ خوشی کے مارے آپ نے حضور
کو اپنے کندھوں پر بٹھایا، بیت اللہ کے گرد طواف کیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کی۔ 108 اس موقع پر عبد المطلب نے بیس اونٹ، بھیڑیں اور گائے قربان کیں اور شکرانے میں اہل مکہ کی خوب تواضع کی۔ 109
حضرت آمنہ
کا معمول تھا کہ آپ
ہر سال حضرت عبد اللہ
کی قبر مبارک پر تشریف لے جاتیں تھیں۔ چھ سال کی عمر میں جب حلیمہ سعدیہ
نے آپ
کو حضرت آمنہ
کے حوالے کیا تو آپ
نے یثرب جانے کا ارادہ کیا تاکہ حضور
کو ان کی ماں کے خاندان قبیلۂ بنو عدی بن النجارسے بھی آشنائی کروائی جائے۔ 110 بعض سیرت نگاروں کے مطابق اس سفر میں عبد المطلب بھی ہمراہ تھے۔ 111 سفر سے واپسی پر حضرت آمنہ
شدید بیمار ہوگئیں 112 اور ابواہ کے مقا م پر آپ
اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ 113
حضرت آمنہ
کے انتقال کے بعد عبد المطلب نے آپ
کی دیکھ بھال اور پرورش کا ذمہ اٹھایا۔ 114 عبدالمطلب کے پاس آپ
کے متعلق تمام اختیارات تھے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات ثابت بھی ہوگئی کہ آپ کا اپنے بیٹے حضرت عبداللہ
سے والہانہ محبت پوتے کی جانب منتقل ہوگئی تھی، اپنی اولاد کی طرح آپ
سے محبت فرماتے تھے۔ عبد المطلب روزانہ خانہ کعبہ تشریف لے جاتے اور اس کے سائے میں مسند بچھا کر بیٹھ جات تھے، آپ کا رعب ایسا تھا کہ آپ کے بیٹوں کو بھی جرأت نہیں تھی کہ آپ کی مسند پر آپ کے ساتھ بیٹھیں لیکن حضور
بلا تکلف آپ کی مسند پر بیٹھ جاتے۔ آپ کے بیٹے آپ
کو روکنے کی کوشش کرتے لیکن عبد المطلب بیٹوں سے کہتے ان سے مزاحمت نہ کرو، یہ جہاں چاہے بیٹھے، یہ تمہاری طرح نہیں ہے۔ آپ
کو دیکھ کر حضرت عبدالمطلب خوش ہوتے تھے۔ 115 عبدالمطلب جہاں بھی جاتے حضور
کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے، حتی کہ جب قریش کے بڑے بڑے سرداروں کی مجلس بیٹھتی جہاں مسائل کے متعلق اظہار خیال ہوتا تھا، اس میں آپ اپنے ساتھ حضور
کو بھی لے جاتے تھے۔ اسّی سال کے ہونے کے باوجود آپ مسئلے پر سات سالہ حضور
سے رائے لیتے تھے۔ جب قریش کے سردار عبدالمطلب سے اس بارے میں پوچھتے اور سوال کرتے، آپ ہمیشہ جواب میں کہتے کہ ایک بہت اچھا مستقبل میرے پوتے کی تقدیر میں لکھا ہوا ہے۔ 116
گھر میں آپ نے ام ایمن کو اچھی طرح سمجھایا ہوا تھا کہ حضور
کو کبھی اکیلا مت چھوڑنا کیونکہ اہل کتاب یہ جانتے ہیں کہ آپ
عنقریب اللہ کے نبی ہونے کا اعلان کریں گے، اور ممکن ہے کہ وہ لوگ انہیں تکلیف دیں۔ 117 جب آپ کا وصال کا وقت قریب آیا اور آپ بستر مرگ پر تھے، اس وقت بھی اپنے بیٹے ابوطالب کو حکم دیا کہ حضور
کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کرنی ہے۔ 118
قبیلہ بنو مدلج کے بہت سے لوگوں نے عبدالمطلب نے کہا کہ حضور
کے قدم مبارک کے نشان کعبہ میں موجود مقام ابراھیم سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہم حضور
کی بہت دیکھ بھال کریں گے۔ عبد المطلب نے ابوطالب سے کہا کہ آپ ان کی باتیں غور سے سنیں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ نتیجتاً ابوطالب نے بھی حضور
کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ 119
جب حضرت عبد المطلب کے انتقال کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنی وصیت میں ابو طالب کو حکم دیا تھا کہ حضور
کو آپ اپنی کفالت میں لے لیجیے۔ جب آپ کا آخری وقت قریب آیا تو آپ نے اپنی بیٹیوں سے کچھ اشعار سنانے کے لیے کہا۔ ہر شخص جانتا تھا کہ آپ شاعری بہت پسند کرتے تھے جسے سیرے نگاروں نے بھی قلمبند کیا ہے۔ آخری وقت میں آپ کلام نہیں کر پارہے تھے، آپ نے اپنا سر ہلا کر اشارہ دیا کہ میں سن رہا ہوں۔ 120
حذیفہ ابن غانم عبد المطلب کے لیے بہت روئے اور ان پر ایک کلام لکھا جس میں حضرت عبدالمطلب کی شخصیت اور ان کی خصوصیات کو جامع انداز میں بیان کیا۔ اس کلام میں بیان کیا گیا کہ:
أعيني جودا بالدموع على الصدر
ولا تسأما أسقيتما سبل القطر
اے میری آنکھوں! میرے سینے پر آنسو خوب کھلے دل کے ساتھ بہاؤ اور اس معاملے میں سستی ہرگز نہ کرو۔ خدا تمہیں پاش کے ان قطروں سے فیضاب کرے جو زمین پر نہیں گرے۔
على رجل جلد القوى ذي حفيظة
جميل المحيا غير نكس ولا هذر
وہ شخص جس کے اعصاب مضبوط و توانا تھے۔ وہ لوگوں کا ہر قسم کا حساب رکھنے والا تھا۔ وہ ناکام اور ناکارہ انسان نہیں تھا بلکہ ایک متحرک اور خوبصورت انسان تھا۔
على الماجد البهلول ذي الباع والندى
ربيع لؤي في المحوط وفي العسر
ایسے شخص کے لیے رو جو سر تا پا عظمت و شان اور بزرگی کا حامل تھا۔ وہ پر قسم کی نیکیوں اور بھلائیوں کا مرقع تھا۔ جودو سخا کا نمونہ اور انعام و اکرام میں سب سے بڑھ کر تھا ۔ قحط سالی اور تنگ دستی کے زمانے میں اس کا وجود بنی لوی کے لیے ایک برستے بادل کی مانند ہوتا ہے۔
على شيبة الحمد الذي كان وجهه
يضيء سواد الليل كالقمر البدر
اس شیبہ پر روؤ جو ہر لحاظ سے قابل تعریف و ستائش تھا۔ رات کی تاریکی میں اس کا چہرہ یوں چمکتا تھا گویا وہ چودھویں کا چاند ہو۔ 121
حضرت عبد المطب ہاتھی والے سال کے آٹھویں سال خالق حقیقی سے جاملے، 122 آپ کو الحجون میں دفن کیا گیا۔ 123 انتقال کے وقت آپ کی عمر بیاسی برس تھی۔ اللہ کے رسول
سے پوچھا: کیا آپ کو حضرت عبدالمطلب کے انتقال کا واقعہ یاد ہے؟ آپ
نے فرمایا: ہاں! میں اس وقت آٹھ سال کا تھا۔ ام ایمن نے فرمایا: میں نے حضور
کو حضرت عبدالمطلب کے پلنگ کے پیچھے روتے ہوئے دیکھا تھا۔ 124
حضرت عبدالمطلب کی وفات قبیلۂ بنو ہاشم کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا، ان کی کوئی بھی اولاد یہ دعوی کرنے کی اہل نہیں تھی کہ تمام عرب میں جو عزت، اثر، عقل، سخاوت اور طاقت حضرت عبد المطلب کے حصے میں آئی، کسی اور کے حصے میں نہیں آئی، جب آپ
بڑے ہوئے تو تمام عرب میں بالمال عزت، شرف، سخاوت و فیاضی میں سب پر بازی لے گئے۔
حضرت عبد المطلب کے انتقال کے بعد قبیلۂ بنو امیہ بنو ہاشم کی مکہ کی سرداری حاصل کرنے کے لیے کوششیں کرنے لگا۔ 125 اپنی زندگی میں حضرت عبدالمطلب نے کبھی ہبل بت اور دیگر بتوں کی عبادت نہیں کی تھی 126127 ہمیشہ اللہ واحد کی عبادت کی اور حضرت ابراہیم
کے مذہب پر عمل پیرا رہے۔ 128
حضرت عبدالمطلب کی چھ بیویاں، دس بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔ ان کی بیویوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
، المقوم، حجل (آپ کی دولت اور کشادہ دلی کے سبب آپ کا عرفی نام الغیداء پڑگیا تھا) اور صفیہ کی والدہ تھیں۔حضرت عبدالمطلب نے ہالہ بنت وہیب سے نکاح کیا جو حضور
کی والدہ حضرت آمنہ
کی رشتہ دار تھیں۔ جب حضرت عبدالمطلب یمن گئے تھے تو وہاں ایک یہودی عالم سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس عالم نے انہیں بتایا کہ عبدالمطلب! آپ کے پاس سرداری اور منصب ایک ہاتھ میں ہے جبکہ پیغمبری دوسرے ہاتھ میں۔ لیکن یہ دونوں خصوصیات قبیلۂ بنو زہراء میں پوری ہوں گی۔ اس یہودی عالم نے عبد المطلب کو مشورہ دیا کہ قبیلہ بنو زہراء میں نکاح کریں۔ عبدالمطلب نے یہ گفت و شنید اور پیشن گوئی اپنے ذہن میں بٹھالی اور بعد میں قبیلۂ بنو زرہراء میں نکاح کیا۔ 132
بعض سیرت نگاروں اور تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ حضرت عبدالمطلب کے بارہ بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں، 133 لیکن صرف دس بیٹوں کے متعلق معلومات میسر ہیں۔ ان کے بیٹوں میں الحارث، العباس، حمزہ، عبداللہ
، ابوطالب (آپ کا نام عبد مناف بھی تھا)، الزبیر، حجل، المقوم، ضرار، ابولہب (اس کا نام عبد العزا بھی تھا)، 134 قثم، مصعب یا غیداق اور عبد الکعبہ شامل تھے۔ 135 آپ کی بیٹیوں میں صفیہ، ام حاکم البیضاء، عاققہ، عمیمہ، عروا اور برا شامل تھیں۔ 136